دھوپ چھاؤں

کل میری ماں کی برسی تھی
 جنم آج ہوا تھا بیٹے کا

 اس دھوپ چھاوں سے جیون میں
 میں گم سم اور حیران کھڑا

Comments

Popular posts from this blog

جھنڈُو ‏اور ‏سونے ‏کا ‏ ہسّ

‏کہیں انکار کا غم ہے، کہیں اقرار کا غم ہے

غزل 32