میرے نانا جی تقسیمِ ہند سے پہلے کی بہت سی آپ بیتیاں اور جگ بیتیاں سنایا کرتے تھے۔ ان کے دور پار کا ایک رشتہ دار تھا جسے سب جھنڈُو کہتے تھے۔ جھنڈُو مجرد، سیلانی اور عادی چور تھا۔ کبھی کبھار وہ پھرتا پھراتا نانا کے گاؤں آتا تو اپنی مہم جوئی کے عجیب و غریب قصے سناتا۔ نانا جی ان میں سے اکثر ہمیں بھی کوئی نہ کہانی سناتے۔ جھنڈُو نے بتایا کہ ایک مرتبہ وہ ایک نوجوان بچھڑا چرا کر گھنے جنگل سے گزر رہا تھا کہ اچانک اس کے سر پر چپت پڑی اور ساتھ ہی شرارتی نسوانی آواز میں کسی نے اس کا نام پکارا “ جھنڈُو او جھنڈُو” اُس نے چونک کر ادھر اُدھر دیکھا تو اسے درختوں میں گھاگھرے میں ملبوس ایک چڑیل نظر آئی۔ جھنڈُو دل گردے والا انسان تھا وہ ذرا بھر خوفزدہ نہ ہوا۔ چڑیل اب اس کے اوپر ہی اوپر ساتھ ساتھ جارہی تھی اور وقفے وقفے سے اس کے سر پر پاؤں سے ٹھوکر مار کر اسے چڑانے کے انداز میں دہراتی تھی، “جھنڈُو او جھنڈُو” اُس نے چپکے سے بچھڑے کے گلے میں پڑے رسے کا وہ سرا جو اس کے ہاتھ میں تھا، کو ناگ بل (ایک طرح کی گھانٹھ) دے لیا۔ جیسے ہی چڑیل نے اگلی چپت لگائی اس نے لپک کر اس کی ٹانگ پکڑ لی اور ...
کہیں انکار کا غم ہے، کہیں اقرار کا غم ہے کسی کو یار کا غم ہے، کہیں دلدار کا غم ہے کہیں بے روزگاری ہے، کہیں شکوہ مشقت کا کہیں بے کار کا غم ہے، کہیں بے گار کا غم ہے کہیں غم ہے کہ غم کو بانٹنے والا نہیں ملتا کہیں ہر وقت سر پر ناچتے غم خوار کا غم ہے کہیں غم ہے کہ کھانے کو میسر صرف فاقے ہیں کہیں چڑھتی ہوئی چربی تو بڑھتے بار کا غم ہے کہیں سردی ستاتی ہے، کہیں گرمی نے مارا ہے کہیں صحرا سرابی ہیں، کہیں منجدھار کا غم ہے کہیں غم ہے محبت کا، کہیں غم ہے معیشت کا کہیں غم ہے مصیبت کا، کہیں آزار کا غم ہے کہیں قربت نے گھیرا ہے، کہیں فرقت کے سائے ہیں کہیں تنہائی ڈستی ہے، کہیں دو چار کا غم ہے کہیں چلنے کی جلدی ہے، کہیں رُکنے کا رونا ہے کہیں ساکن اذیت ہے، کہیں رفتار کا غم ہے کہیں پر کھوجنے کی دُھن، کہیں حسرت بھلانے کی کہیں افکار کا غم ہے، کہیں اسرار کا غم ہے
خود اپنا ہوش کنارے پہ دھر کے دیکھا ہے جنُوں کے بحر میں گہرا اُتر کے دیکھا ہے ہر ایک بات پہ مرنے کا دعوٰی کرتے ہو بھلا بتاؤ کبھی تم نے مر کے دیکھا ہے؟ ہوا یقین انھیں حسن کی حقیقت کا جو خود کو آئینے میں بن سنور کے دیکھا ہے کبھی حقیقتیں بھی ریت کا محل ٹھہریں کبھی خیال سبھی رنگ بھر کے دیکھا ہے زمانہ روندتا ہے اپنے پاؤں کے نیچے تماشا جابجا میں نے ٹھہر کے دیکھا ہے
Comments
Post a Comment