نگاہِ کرم

چشمِ امت پناہﷺ کی ہے
بات بس اک نگاہ کی ہے
جو اُٹھے تو بول اٹھیں پتھر
لکڑی دھڑکے سراپا دل بن کر
اور وہ نگاہِ جاں فزا روٹھ جائے گر
تو بد بختی امڈ کر آئے
کوئی "ابو حَکم" بھی ہو چاہے
صم بکم ہو کے رہ جائے
اور پھر زمانوں بھر ابو جہل کہلائے

Comments

Popular posts from this blog

جھنڈُو ‏اور ‏سونے ‏کا ‏ ہسّ

‏کہیں انکار کا غم ہے، کہیں اقرار کا غم ہے

غزل 32