میرے نانا جی تقسیمِ ہند سے پہلے کی بہت سی آپ بیتیاں اور جگ بیتیاں سنایا کرتے تھے۔ ان کے دور پار کا ایک رشتہ دار تھا جسے سب جھنڈُو کہتے تھے۔ جھنڈُو مجرد، سیلانی اور عادی چور تھا۔ کبھی کبھار وہ پھرتا پھراتا نانا کے گاؤں آتا تو اپنی مہم جوئی کے عجیب و غریب قصے سناتا۔ نانا جی ان میں سے اکثر ہمیں بھی کوئی نہ کہانی سناتے۔ جھنڈُو نے بتایا کہ ایک مرتبہ وہ ایک نوجوان بچھڑا چرا کر گھنے جنگل سے گزر رہا تھا کہ اچانک اس کے سر پر چپت پڑی اور ساتھ ہی شرارتی نسوانی آواز میں کسی نے اس کا نام پکارا “ جھنڈُو او جھنڈُو” اُس نے چونک کر ادھر اُدھر دیکھا تو اسے درختوں میں گھاگھرے میں ملبوس ایک چڑیل نظر آئی۔ جھنڈُو دل گردے والا انسان تھا وہ ذرا بھر خوفزدہ نہ ہوا۔ چڑیل اب اس کے اوپر ہی اوپر ساتھ ساتھ جارہی تھی اور وقفے وقفے سے اس کے سر پر پاؤں سے ٹھوکر مار کر اسے چڑانے کے انداز میں دہراتی تھی، “جھنڈُو او جھنڈُو” اُس نے چپکے سے بچھڑے کے گلے میں پڑے رسے کا وہ سرا جو اس کے ہاتھ میں تھا، کو ناگ بل (ایک طرح کی گھانٹھ) دے لیا۔ جیسے ہی چڑیل نے اگلی چپت لگائی اس نے لپک کر اس کی ٹانگ پکڑ لی اور ...
Comments
Post a Comment