ایک قطعہ

ہر شخص نے ہاتھ میں پتھر ہے اٹھا رکھا
 درویشِ خود مست نے بھی سر ہے اٹھا رکھا

 ہر ایک کی نوکِ لساں پر ہیں تیر و تفنگ
 تیرے تو لہجے ہی نے خنجر ہے اٹھا رکھا

Comments

Popular posts from this blog

جھنڈُو ‏اور ‏سونے ‏کا ‏ ہسّ

‏کہیں انکار کا غم ہے، کہیں اقرار کا غم ہے

غزل 32