غزل 33
قرطاس پہ کچھ قطرے قلم میرا گرا دے
حکمت کے سمندر میں اسے غوطہ خدا دے
کوئی تو ہو رہبر جو مجھے من کا پتہ دے
کوئی تو ہو منتر جو مجھے مجھ سے ملا دے
پھونکو نہ مرے راکھ ہوئے جسم میں جاناں
ایسا نہ ہو پوشیدہ کوئی شعلہ جلا دے
دیکھوں عجب و اجنبی دنیاؤں کو اکثر
جیسے کوئی خوابیدہ مسافر کو جگا دے
جس طور سے چیونٹی تھی سلیمانؑ سے بولی
الفاظ کی تُو ایسے ہی دیوار گرا دے
اک بار تو دیدار مجھے اپنا عطا کر
پھر میرے گناہوں کی بھلے مجھ کو سزا دے
اس بار جو آئے ہو تو پھر لوٹ نہ جانا
اس بار کا جانا مری ہستی نہ مٹا دے
Comments
Post a Comment