قطعہ

مِصرعے مرے کانوں میں سرگوشیاں کرتے ہیں 
جلوے مری آنکھوں سے اٹھکھیلیاں کرتے ہیں 

الجھی مری نیندوں سے رہتی ہیں کئی غزلیں
فِقرے کئی خوابوں میں آ شوخیاں کرتے ہیں 
  

Comments

Popular posts from this blog

جھنڈُو ‏اور ‏سونے ‏کا ‏ ہسّ

‏کہیں انکار کا غم ہے، کہیں اقرار کا غم ہے

غزل 32