رباعی

اِس بار مری ہار لکھی تھی اُس نے
فِقرے کہاں تلوار لکھی تھی اُس نے 

شعروں میں نِرا پیار بھرا تھا میں نے 
شعلوں بھری گُفتار لکھی تھی اُس نے




Comments

Popular posts from this blog

جھنڈُو ‏اور ‏سونے ‏کا ‏ ہسّ

‏کہیں انکار کا غم ہے، کہیں اقرار کا غم ہے

غزل 32