حمدیہ و نعتیہ و منقبتیہ رباعیات
حمدیہ و نعتیہ و منقبتیہ رباعیات
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
کُل حمد و ثنا تیری تُو رحمان و رحیمﷻ
تُو مالک و مختار ہے اے ذاتِ قدیمﷻ
ہم سب کو ہدایت دے تُو سیدھے رستے
وہ راہ کہ جس پر ہیں چلے سارے نعیم
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
داتاﷻ کے خزانوں میں کمی کوئی نہیں
دوری بہ وسیلہ ءِ نبیﷺ کوئی نہیں
شہ رگ سے بھی نزدیک ہوں اللہ نے کہا
دل سے اٹھی رائیگاں گئی کوئی نہیں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
توحید و رسالت
اللہﷻ و محمدﷺ کے ہیں اسما یکجا
توحید و رسالت کے ہیں اجزا یکجا
دونوں ہی جو باہم ہوں تو کامل ایماں
دو ذاتِ گرامی سرِ کلمہ یکجا
اور
اللہﷻ و محمدﷺ کے ہیں اسما اکھٹے
توحید و رسالت کے ہیں اجزا اکھٹے
دونوں ہی جو باہم ہوں تو کامل ایمان
دو ذاتِ گرامی سرِ کلمہ اکھٹے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
آفاق سے افلاک ہے رفعت انﷺ کی
ہر خَلق ہے پروردہ ءِ رحمتﷺ ان کی
قرآن ثنا خوانِ نبیﷺ ہے راشد
تُجھ سا بد کار اور مدحت انﷺ کی؟
اور
آفاق سے افلاک ہے رفعت اُنﷺ کی !
ہر خَلق ہے پروردہ ءِ رحمت اُنﷺ کی !
قرآن ثنا خوانِ نبیﷺ ہے راشد !
بدکار ہو تُجھ سا! کرے مدحت اُنﷺ کی؟
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
انﷺ کی ہے یہ چاہت کہ میں چاہوں انﷺ کو
ہے کیا مری وقعت کہ میں چاہوں انﷺ کو؟
خود وہﷺ جسے چاہیں وہی چاہے انﷺ کو
اللہ تری قدرت کہ میں چاہوں انﷺ کو
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
انﷺ کی ہے یہ چاہت جو ملے عشق ان ﷺکا
ہے کیا مری وقعت جو ملے عشق انﷺ کا
خود آپﷺ عطا کرتے ہیں الفت اپنی
اللہ تری رحمت جو ملے عشق انﷺ کا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
انﷺ کی ہے اجازت جو ہو عشق عطا
ہے کیا مری وقعت جو ہو عشق عطا
خود آپﷺ کی جانب سے عنایت ہر ایک
اللہ کی ہے رحمت جو ہو عشق عطا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اُنﷺ کی ہے یہ چاہت جو اُنہیںﷺ چاہے کوئی
ایسی کہاں وقعت جو اُنہیںﷺ چاہے کوئی
خود وہﷺ جو نہ چاہیں تو ہے ناممکن بات
اللہ تری قدرت جو اُنہیںﷺ چاہے کوئی
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
جامی و حسّان کہیں نعتِ نبیﷺ
جنات و انسان کہیں نعتِ نبیﷺ
حُور و جبریل اعلانِ شان کریں
آیاتِ قرآن کہیں نعتِ نبیﷺ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اللہ نے بنایا یہ جہان انﷺ کے لئے
ساتوں زمیں سات آسمان انﷺ کے لئے
ساری دنیا اور اس کے موجودات
اور اس میں بسایا انسان انﷺ کے لئے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
روح و دل اور ایمان کروں پیارے نبیﷺ
یہ جان بھی قربان کروں پیارے نبیﷺ
سو جان بھی ہو آپﷺ کے شایان نہیں
قربان میں سو جان کروں پیارے نبیﷺ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
معراج کا ہے تاج سجا آپﷺ کے سر
سارے شاہوں کے جھکے سر آپﷺ کے در
امت کی شفاعت فرمائیں گے آپﷺ
جنت سے کہیں بڑھ کر ہے آپﷺ کا گھر
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
آقاﷺ ہیں دو عالم کے سُّچے سُلطان
دیتا ہے گواہی یہی سَچّا قُرآن
ہوتی ہے درودوں کی ہمیشہ برسات
رفعت پہ ہے مائل پل پل عالی شان
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
وہ سرورِ عالم ہیںﷺ وہ سرکارِ جہاںﷺ
پاتے ہیں شفا انﷺ سے ہی بیمارِ جہاں
ہوتی ہے اسی در سے سب ہی کو عطا
محبوبِ خدا ہیںﷺ کہ ہیں سردارِ جہاںﷺ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
امت کے غمخوار ہوئے پیارے نبیﷺ
نبیوں کے سردار ہوئے پیارے نبیﷺ
رحمت کی برسات بنے سب کے لئے
دو جگ کی سرکار ہوئے پیارے نبی ﷺ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
شیماؓ نے کھِلائے وہ دلارے آقاﷺ
بُو طالبؓ و شیبہؓ کے وہ پالے آقا ﷺ
عبداللہؓ و آمنہؓ کے نورِ نظر
اللہﷻکے وہ محبوب ہمارے آقاﷺ
اور
بُو طالبؓ و شیبہؓ کے پیارے آقا ﷺ
شیماؓ نے کھِلائے وہ دلارے آقاﷺ
باغِ بنو ہاشم کے گُلِ ہوش ربا
اللہ کے وہ محبوب، ہمارے آقاﷺ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
انسان کہ دنیا کا تمنائی رہا
اور عشق تقاضا کرے صدق و وفا کا
انسان کا ایمان تبھی ہو کامل
جو جان سے بڑھ ہوں اسے پیارے آقاﷺ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
انصار نے گایا تھا ترانہ اُنﷺ کا
کُل وقتوں سے بہتر ہے زمانہ اُنﷺ کا
صدقہ نہیں لیتے وہ گِنے پاک گئے
پنجتن ہوئے یا کہ گھرانہ اُنﷺ کا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
تُو مالک و مختار ہے رحمان و رحیم
رخصت ہوا جاتا ہے یہ رمضانِ کریم
حق اس کا کہاں ہم سے ادا ہو پایا
بخشے جو ہمیں تُو تو ہے احسانِ عظیم
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
آقاﷺ کی محبت پہ جو وارے خود کو
گر عشق سمندر میں اتارے خود کو
ایسا ہی چمک دار بنے گوہر وہ
دیکھیں تو بُجھے جانے ستارے خود کو
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
قدمین کے دھوون پہ ہو زَم زَم قُرباں
نعلین مبارک پہ ہوئے ہم قُرباں
ہو جنتِ فردوس فدا روضے پر
آقائے دو عالمﷺ پہ دو عالَم قُرباں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اقبال کہ ہیں فکر و نظر کے شاعر
غالب ہوئے قلب اور جگر کے شاعر
شاعر درِ مرشد کے امیرِ خسرو
حسان ؓ مدینے کے قمرﷺ کے شاعر
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
جبریل تو ہے خادم و دربانِ نبیﷺ
ہر امتی کی جان پہ احسانِ نبیﷺ
وَالْعَصْر ! وہ محفوظ خسارے سے رہا
تھاما ہوا ہے جس نے بھی دامانِ نبیﷺ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
کِرنوں سے بھی پاکیزہ ہے دامن اُنﷺ کا
لا ریب کہ ابتر رہے دُشمن اُنﷺ کا
ہے گردِ سفر اُنﷺ کی ستاروں جیسی
رستہ تو ہے سورج سے بھی روشن اُنﷺ کا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
لولاک کے گنبد کے تلے اُنﷺ کی شان
امکان کی حد سے بھی پرے اُنﷺ کی شان
اللہ نے ہے قرآن میں یہ فرمایا
ہر آن سدا بڑھتی رہے اُنﷺ کی شان
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
آغاز تا انجام سبھی آپﷺ کا ہے
جس کا بھی ہے جو نام سبھی آپﷺ کا ہے
غائب ہوں کہ موجود ہوں سب آپﷺ کے ہیں
کوثر ہو کہ ہو جام سبھی آپﷺ کا ہے
اور
آغاز تا انجام سبھی آپﷺ کا ہے
جس کا بھی ہے جو نام وہی آپﷺ کا ہے
غائب ہوں کہ موجود ہوں سب آپﷺ کے ہیں
کوثر ہو کہ ہو جام کوئی آپﷺ کا ہے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
انسان پہ احسان سدا آقاﷺ کا
اسلام ہو قرآن، دیا آقاﷺ کا
الکوثر و فردوس وفا آقاﷺ کی
اللہ کا فرمان کہا آقاﷺ کا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
وہﷺ خالق و مخلوق کے محبوب ہوئے
انﷺ کے ہی وسیلہ سے سبھی خوب ہوئے
آقاﷺ کی غلامی کی مُہر جن پہ لگے
تب اور کسی سے کہاں منسوب ہوئے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
عید ان کی ہوئی جن کو ہوئی دید اُنﷺ کی
جو دید کریں سچی ہوئی عید اُن کی
اُس دید بِنا دِیدے یہ کس کام کے ہیں ؟
ہے دیدہ جسے دید کی امید اُنﷺ کی
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
سرکارِ دو عالمﷺ ہیں کہ شاہِ زماںﷺ ہیں
رحمت کا ہیں سایہﷺ، شہِ کون و مکاںﷺ ہیں
وہ احمدﷺ و محمودﷺ وہ صادقﷺ وہ امیںﷺ
اللہ کے وہ محبوبﷺ کہ جانِ جہاںﷺ ہیں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
خاکِ پائے شہِ مُرسلﷺ ہوئے ہیں
وہ سارے رتبے جو کہ افضل ہوئے ہیں
آواز سے بھی پست سبھی آوازیں
درجے آقاﷺ کے یوں اکمل ہوئے ہیں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
منزلِ مقصود
وہ انﷺ کے در پر آکے رک گیا ہے
انہیﷺ قدموں میں جاکے جھک گیا ہے
براہِ حق جو کوئی بھی گھر سے نکلا
انہیﷺ کے گھر پہ آ کے رک گیا ہے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
خلقت کے لئے پیکرِ رحمت ہیں آپﷺ
امت کے لئے عین شفاعت ہیں آپﷺ
انسان پکارے جہاں "نفسی نفسی"
بس جائے سُکوں بینِ قیامت ہیں آپﷺ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
صادقﷺ، شہِ ابرارﷺ، رسولِ عربیﷺ
قَوِیُّﷺ، سپہ سالارﷺ، رسولِ عربیﷺ
کامل ہے کردار تو اکمل درجات
طٰہٰﷺ، سید سردارﷺ ، رسولِ عربی ﷺ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
سب لوگوں کے غمخوار رسولِ عربیﷺ
کُل نبیوں کے سردار رسولِ عربیﷺ
سیرت کی مہکار سے مہکے تاریخ
صورت سے تو شہکار رسولِ عربیﷺ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
دکھ درد کے ماروں کے سہارے وہﷺ ہیں
اصحاب ہوئے جن کے ستارے، وہﷺ ہیں
امت کا وسیلہ ہیں خدا کی جانب
تو اللہ کے محبوب پیارے وہﷺ ہیں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
دل، روح و نظر کو بھی کروں نعتِ نبیﷺ
اور خونِ جگر سے میں لکھوں نعتِ نبیﷺ
آقائے دو عالمﷺ جو ہوں تشریف آور
حسرت ہے قیامت میں پڑھوں نعتِ نبیﷺ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اعلانِ توحید بزبانِ رسالت
فرما گئے محبوبﷺ ! احد اللہ ہے
اس کی ہے یہی صفت صمد اللہ ہے
ہمسر کوئی اسکا نہ کوئی ثانی ہے
والِد نہیں کوئی نہ ولَد اللہ ہے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
ڈاچی کی بھی قسمت ہے ابھاری، صدقے
انمول ہوئی انﷺ کی سواری، صدقے
ایوبؓ کے گھر جاکے رکی ہجرت میں
سب حکمتِ قصوا پہ ہیں واری صدقے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اے حسنِ ازل آپﷺ کا جوبن قائم
توحید و رسالت کا ہے بندھن قائم
ہیں آپﷺ کی سب عادت و سنت زندہ
کردار کی صدیوں سے ہے بن ٹھن قائم
اور
اے حسنِ ازل آپﷺ کا جوبن قائم
اطوار بدرجہ ءِ احسن قائم
ہے آپﷺ کی ہر عادت و سنت روشن
توحيد و رسالت کا ہے بندھن قائم
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
یثرب میں اندھیرا ہی تو چھایا رہتا
قدمین مبارک جو نہ رکھتے آقاﷺ
انسان جو باطن میں اجالا چاہے
جلائے وہاں عشقِ محمدﷺ کا دِیا
اور
یثرب میں اندھیرا ہی تو چھایا رہتا
قدمین مبارک جو نہ رکھتے آقاﷺ
باطن جو ہو یثرب تو مدینہ کرلیں
روشن کریں واں عشقِ محمدﷺ کا دِیا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
میدانِ بدر میں تھے مقابل رشتے
انصار و مہاجر سگے بھائی جیسے
ڈھونڈیں گی نگاہیں کوئی اور ہی نسبت
نظریں نہ ملا پائیں گے جس دن اپنے
اور
غزوہ ءِ بدر میں لڑے خونی رشتے
انصار و مہاجر سگے بھائی جیسے
ڈھونڈیں گی نگاہیں کوئی اور ہی نسبت
نظریں نہ ملا پائیں گے جس دن اپنے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
مالکِ کوثرﷺ
اللہ نے ہے انﷺ کو عطا کردی کوثر
قربانی و سجدہ کریں آقاﷺ اکثر
اس بات میں ذرہ بھر تشکیک نہیں
سب آپﷺ کے دشمن ہی رہیں گے ابتر
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
قربت ہے نبی پاکﷺ سے جنت اصلی
دوزخ تو حقیقت میں ہے انﷺ سے دوری
کنکر انھیںﷺ پہچان کے پڑھ لیں کلمہ
نسبت ہی بڑی سب سے حقیقت ٹھہری
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
انوار کی ہر آن ہے برسات وہاں
بگڑیں جو سنور جاتے ہیں حالات وہاں
ہے خاک مدینے سے مری دور بڑی
من میرا مگر رہتا ہے دن رات وہاں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
دنیا میں کوئی حُبِّ نبیﷺ رکھتا ہے
جنت میں وہی قُربِ نبیﷺ رکھتا ہے
آقاﷺ نے ہی فرمایا تو ایسا ہوگا
کب تاب کوئی رُعبِ نبیﷺ رکھتا ہے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
طائف میں تھے محبوبﷺ نے کھائے پتھر
خندق میں گئے پیٹ پہ باندھے پتھر
امت کے لئے پھر بھی سراپا رحمت
شفقت سے کئے موم جو دل تھے پتھر
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
سوچو کہ اگر وہﷺ نہ بتاتے ہم کو
جو اچھا برا یوں نہ دکھاتے ہم تو
واللہ سبھی لوگ ہی اسفل ہوتے
آقاﷺ جو نہیں دین سکھاتے ہم کو
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
قائم ہے مری ذات میں الفت انﷺ کی
دائم رہے دن رات ہی مدحت انﷺ کی
بے جان بھی ہو لکڑی تو دھک دھک دھڑکے
بے کس پہ کرم کرنا ہے عادت انﷺ کی
اور
شامل ہے ایمان میں الفت انﷺ کی
دائم رہے دن رات ہی مدحت انﷺ کی
بے جان بھی لکڑی ہو تو دھڑکن دے دیں
بے کس پہ کرم کرنا ہے عادت انﷺ کی
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
کس درجہ پہ ہےآپﷺ کی رفعت پہنچی؟
اس بات کی تہہ تک نہیں خلقت پہنچی
اصل انﷺ کی وہی جانیں یا اللہ جانے
ہم تک تو جو پہنچی ہے تو رحمت پہنچی
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
والعصر
کھا کے قسمِ عصر یہ اللہ نے کہا
کیا شک ہے کہ انسان خسارے میں رہا؟
ہاں وہ جو کہ ہے صاحبِ ایمان مگر
صبر اور حق سے اچھے عمل کرتا رہا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
رمضان میں اللہ نے اتارا قرآن
قرآن ہدایت بھی ہے اور ہے فرقان
رمضان کو جو پائے تو وہ روزے رکھے
بیمار و مسافر رکھے جب ہو آسان
(منظوم مفہوم آیت 185 سورہ بقرہ )
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
حسن و عشق
ہے حسن سے بھرپور ہر ایک افسانہ
ہر کوئی بنا عشق میں ہے دیوانہ
بس ایسی محبت کے طلب گار ہیں ہم
جو شمعِ رسالتﷺ کا کرے پروانہ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
آقاﷺ ہی سبھی چاہتوں کے مرکز ہیں
اور آپﷺ سبھی رفعتوں کے محور ہیں
ہیں آپﷺ ہی تو عشق کی بنیاد و اخیر
خلقت کے لئے رحمتوں کے مظہر ہیں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
دل سے تو ہمیں بس وہ ہے پیارا لگتا
من کو تو وہی فرد ہے سچا لگتا
عشقِ نبی ﷺ کی جس سے ہو آتی خوشبو
ہم کو تو وہی شخص ہے اپنا لگتا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
وہ شخص کہیں اور نہیں جا سکتا
جھولی نہ کہیں اور کبھی پھیلا سکتا
اک بار جو دل سے درِ احمدﷺ پہ گیا
پھر دل میں نہیں غیر جگہ پا سکتا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
ہم نے تو یہی ٹھان لیا ہے صاحب
اک ذاتﷺ کو ایمان کِیا ہے صاحب
اب آنکھ کہیں اور نہیں دیکھتی یہ
جب دل یہ انہیںﷺ مان چکا ہے صاحب
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
پُر نور ستارہﷺ جو ازل سے چمکے
صفحات کتابوں کے مَثَل سے چمکے
جو آقاﷺ نے دی مکہ میں پہلی دعوت
شَمْسُ الضُّحیٰﷺ بن کے وہ جبل سے چمکے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
آقاﷺ ہی تو ہیں دین سکھانے والے
اور آپﷺ ہی قرآن سنانے والے
آقا ﷺنے دیا سب کو پتہ اللہ کا
خود سے بھی تھے بے گانے زمانے والے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
ہجرت سے نبی پاکﷺ مدینے آئے
ہر ایک منافق کو پسینے آئے
آپﷺ آئے تو یثرب میں چلی ٹھنڈی ہوا
ساتھ انﷺ کے ہی رحمت کے سفینے آئے
اور
آج آئے نبی پاکﷺ مدینے آئے
انصار کو جینے کے قرینے آئے
آپﷺ آئے تو یثرب میں چلی ٹھنڈی ہوا
ساتھ انﷺ کے ہی رحمت کے سفینے آئے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
وہ رحمتِ عالم وہ شفیعِ مُذنِبﷺ
وہ سروَرِ عالم ہیں وہ اوّل عاقبﷺ
وہ ہادی ءِ برحق ہیں وہ طیب طاہرﷺ
اللہ کا درود آتا ہے انﷺ کی جانِب
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
انساں کے لئے آپﷺ مثالِ کامل
بس جستجو کے آپﷺ اکیلے حاصل
سب ظلمتوں میں آپﷺ ہی تو نورِ ہدیٰ
حق آگیا تو مٹ گئے سارے باطل
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
حق بات سنو آج ذرا دھیان کے ساتھ
آقاﷺ کا ہے احسان مسلمان کے ساتھ
دھڑکن ہے جڑی جیسے دھڑکتے دل سے
آقاﷺ کی محبت جڑی ایمان کے ساتھ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
بڑھیا تھی بڑی خوف زدہ اندر سے
وہ پوٹلی اک باندھ کے نکلی گھر سے
سنتی تھی کہ تھا شہر میں ساحر کوئی
قسمت نے دیا دل کو مِلا دلبر ﷺ سے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
مکڑی میں کوئی جب کہیں بیٹھی دیکھوں
صدیوں میں میں پیچھے مڑوں اور یہ سوچوں
اک مکڑی ہی نے ثور میں تھا جال بُنا
قسمت کی بلندی پہ میں قرباں جاؤں
اور
مکڑی میں کوئی جو کہیں بیٹھی دیکھوں
ماضی میں سفر کرتا ہوا یہ سوچوں
چھوٹی سی ہی مکڑی تھی وہ ہجرت والی
قسمت کی بلندی پہ میں واری جاؤں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
دیکھے گی قیامت میں یہ امت انﷺ کی
اس دن کو تو کام آئے گی نسبت انﷺ کی
جب آنکھ چرائیں گے یہ خونی رشتے
کس طور سے چھا جائے گی رحمت انﷺ کی
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
طوفان امڈ آنے کا نہیں ہے خدشہ
بجلی کے لپکنے کا نہیں ہے کھٹکا
شاخِ عشقِ نبیﷺ پہ ہیں جو تنکے
ان کے بکھرنے کا نہیں ہے خطرہ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
کردار مہکتے ہوئے جو پھول رہے
سب آپﷺ کے قدمین کی ہیں دھول رہے
انسان وہی تو ہیں گِنے زندہ گئے
عشقِ شہِ بطحاﷺ میں جو مشغول رہے
اور
کردار مہکتے ہوئے جو پھول رہے
سب آپﷺ کے قدمین کی ہیں دھول رہے
اوقات وہی تو ہیں گِنے زندہ گئے
عشقِ شہِ بطحاﷺ میں جو مشغول رہے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اِس مٹی کی مورت کو ہے رونق بخشی
انسان کی قسمت کو ہے رونق بخشی
آقاﷺ جو زمیں پر نبی بن کر آئے
آقاﷺ نے رسالت کو ہے رونق بخشی
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
آقاﷺ سُوئے اقصی چلے معراج کی رات
سب آپﷺ کے پیچھے کھڑے معراج کی رات
اقصی سے بھی آفاق تا لولاک گئے
تنہا وہﷺ خدا سے ملے معراج کی رات
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
کلیوں نے تبسم یہ ہے سیکھا انﷺ سے
پھولوں نے ذرا روپ ہے پایا انﷺ سے
کُل ذروں سے زائد ہو درود آقاﷺ پر
ہر ایک نے پایا جو ہے مانگا انﷺ سے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
عاجز ہوں نِرا اور شہنشاہﷻ تُو ہے
کھاتا ہوں دیا اور مِرا داتاﷻ تُو ہے
محبوبﷺ کی خاطر مری جھولی بھردے
بندہ ہوں ترا اور مرا اللہ ﷻ تُو ہے
اور
عاجز ہوں نِرا اور قوی اُولیٰﷻ تُو ہے
کھاتا ہوں ترا اور مِرا داتاﷻ تُو ہے
محبوبﷺ کی خاطر مری جھولی بھردے
بندہ ہوں ترا اور مرا اللہﷻ تُو ہے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
تُو قادرِ مطلقﷻ ہے تو مجبور ہوں میں
تُو پاس رگِ جاں کے مگر دور ہوں میں
دُکھ درد ہوں سب دُور طفیلِ نبیﷺ سے
یہ عرض ہو منظور کہ رنجور ہوں میں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
انسان کے حق کا سبھی منشور دیا
یکساں ہیں مسلمان یہ دستور دیا
اُس آخری خطبے میں مرے آقاﷺ نے
جینے کا قرینہ ہمیں بھرپور دیا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
ہوتا تھا جہاں بیٹی کا جینا دوبھر
قبروں میں وہ ڈال آتے تھے زندہ دختر
آقاﷺ نے واں فرمایا ہے بیٹی رحمت
دختر کے لئے اپنی بچھا دی چادر
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اے کاش مری آنکھیں وہاں جا سکتیں
اک جھلکی نظارے کی عیاں پا سکتیں
ہجرت نے جو یثرب کو منور دیا کر
پھولوں کی طرح پُتلیاں بچھا سکتیں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
ملتا ہے اجازت سے فرشتہ انﷺ سے
جُز اللہ کے کوئی نہیں اُولیٰ انﷺ سے
اس رتبے پہ فائز ہیں مگر رحمت ہیںﷺ
امت کو شفاعت کا ہے مژدہ انﷺ سے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
رتبے مرے آقاﷺ کے کوئی جانتا ہے؟
بھیجا ہے انھیںﷺ جس نے وہی جانتا ہے
الفاظ ہیں قرآن میں ایسے بھی کئی
قاری جنہیں تعریفِ نبیﷺ جانتا ہے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
انسانوں کی کثرت کو ہے دولت سے ہی پیار
دولت سے کہیں بڑھ کے ہے عترت سے ہی پیار
اکثر کو ہی اولاد سے بڑھ پیاری جاں ہے
مؤمن جسے بس شاہِ رسالتﷺ سے ہی پیار
اور
انسانوں کو پیاری لگے دولت پیارے
دولت سے کہیں بڑھ کے ہے عترت پیارے
اکثر کو ہی اولاد سے بڑھ پیاری جاں ہے
مؤمن جسے بس شاہِ رسالتﷺ پیارے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
ثانی نہیں اُنﷺ کا نہ ہی سایہ کوئی
آیا نہیں اُنﷺ سا نہ ہی ہوگا کوئی
تابع ہے جو اُنﷺ کا وہی اللہ کا ہے
اللہ نہیں اُس کا جو نہ اُنﷺ کا کوئی
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
بولے تو اسی خوبﷺ کا سر چڑھ جادُو
پھیلی ہے اسی ذاتﷺ کی ہر سُو خوشبُو
پڑھتی ہے اسی اسمﷺ کا خلقت کلمہ
گونجا ہے یہی نامِ محمدﷺ ہر سُو
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی شہرہ آفاق نعت کا رباعیانہ ترجمہ:
احسن نہ کسی آنکھ نے اُنﷺ سا دیکھا
اجمل نہ کسی گود میں کھیلا اُنﷺ سا
بے عیب ہے خالق نے انہیںﷺ خَلق کیا
جوں آپﷺ کی چاہت تھی بنایا ویسا
اور
احسن نہ کسی آنکھ نے اُنﷺ سا دیکھا
اجمل نہ کسی ماں کا ہی بیٹا اُنﷺ سا
بے عیب ہے خالق نے انہیںﷺ خَلق کیا
وہﷺ حسبِ تمنا ہی بنے ہوں گویا
اور
احسن نہ کسی آنکھ نے اُنﷺ سا دیکھا
اجمل نہ کسی ماں نے جنا ہی اُنﷺ سا
بے عیب ہے خالق نے انہیںﷺ خَلق کیا
وہﷺ حسبِ تمنا ہی بنے ہوں گویا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
الفاظ کسی طور نہیں ہیں اِتنے
ہوں نور کے ذروں بھلے تاروں جِتنے
لوح اور قلم بھی تو رہیں گے قاصر
اوصاف بیاں انﷺ کے ہوں کیسے؟ کِتنے؟
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
غمخوارِ اممﷺ جب سوئے مکہ آئے
سردارِ حرمﷺ تب سوئے کعبہ آئے
آپﷺ آگئے تو مٹ گئے سارے باطل
بُت سارے بھسم ہوگئے آقاﷺ آئے
اور
غمخوارِ اممﷺ آج پکارے مکہ
سردارِ حرمﷺ آج ہیں زیبِ کعبہ
آپﷺ آگئے تو مٹ گئے سارے باطل
بُت سارے ہی گم ہوگئے آئے آقاﷺ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
دل روئے تو آنکھ تمنائی ہے
سچ پوچھیں تو جان پہ بن آئی ہے
مجھ کو بھی مدینے سے بلاوا آئے
بدکار کے بس بات یہ من آئی ہے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اوقات سے بڑھ خواب کمینہ دیکھے
دل کی یہی چاہت کہ مدینہ دیکھے
جب دیکھے ذرا جھانک کے اپنے اندر
جُرأت کو تب آیا یہ پسینہ دیکھے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
تُو مالک و مختار ہے رحمان و رحیم
رخصت ہوا جاتا ہے یہ رمضانِ کریم
حق اس کا کہاں ہم سے ادا ہو پایا
بخشے جو ہمیں تُو تو ہے احسانِ عظیم
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
آقاﷺ کی محبت پہ جو وارے خود کو
گر عشق سمندر میں اتارے خود کو
ایسا ہی چمک دار بنے گوہر وہ
دیکھیں تو بُجھے جانے ستارے خود کو
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
قدمین کے دھوون پہ ہو زَم زَم قُرباں
نعلین مبارک پہ ہوئے ہم قُرباں
ہو جنتِ فردوس فدا روضے پر
آقائے دو عالمﷺ پہ دو عالَم قُرباں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اک بھیدﷺ خیالوں کے کسی قد سے پرے
اک حُسنﷺ کہ آنکھوں کی کسی حد سے پرے
اک نُورﷺ پرے گھور اندھیروں سے رہے
اک پھولﷺ خزاؤں کی کسی زد سے پرے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اقبال کہ ہیں فکر و نظر کے شاعر
غالب ہوئے قلب اور جگر کے شاعر
شاعر درِ مرشد کے امیرِ خسرو
حسان ؓ مدینے کے قمرﷺ کے شاعر
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
جبریل تو ہے خادم و دربانِ نبیﷺ
ہر امتی کی جان پہ احسانِ نبیﷺ
وَالْعَصْر ! وہ محفوظ خسارے سے رہا
تھاما ہوا ہے جس نے بھی دامانِ نبیﷺ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
حالات کے ہاتھوں میں کھلونا انساں
رشتوں کی ہے زنجیروں میں جکڑا انساں
ہاں قلب ہے آزاد مگر ظاہر سے
باطن کا شہنشاہ بنایا انساں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
انسان نہیں کوئی برا یا اچھا
ہو سکتا ہے ہو اپنی نظر کا دھوکا
اَصْلًا ہو وہ سچا جسے جھوٹا جانیں
اور ہم کسی جھوٹے کو سمجھ لیں سچا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
کِرنوں سے بھی پاکیزہ ہے دامن اُنﷺ کا
لا ریب کہ ابتر رہے دُشمن اُنﷺ کا
ہے گردِ سفر اُنﷺ کی ستاروں جیسی
رستہ تو ہے سورج سے بھی روشن اُنﷺ کا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
لولاک کے گنبد کے تلے اُنﷺ کی شان
امکان کی حد سے بھی پرے اُنﷺ کی شان
اللہ نے ہے قرآن میں یہ فرمایا
ہر آن سدا بڑھتی رہے اُنﷺ کی شان
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
بس ایک جھلک دل نے جو پائی انﷺ کی
دل دنگ ہوا دیکھ رسائی انﷺ کی
اللہ و مخلوق و ملائک انساں
یہ جان لیا ساری خدائی انﷺ کی
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
جس نے بھی ہے مانا اُنہیںﷺ، سب جان گیا
جس نے بھی ہے جانا اُنہیںﷺ ،سب مان گیا
جس راہ سے وہﷺ گزرے وہ گلزار ہوئی
جس نے بھی ہے دیکھا اُنہیںﷺ، قربان گیا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
خاک کا پُتلا
اس خاک کے پُتلے میں وفا رکھی ہے
حق بات پہ مرنے کی ادا رکھی ہے
رکھی ہے اسی خاک میں شیطان کی خُو
اور اس میں ہی تو رمزِ خدا رکھی ہے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
ہو جائے جو رحمت تو یہ صدمہ کیا ہے؟
منہ پھیر لے گر مجھ سے تو بچتا کیا ہے؟
تُو قادر و عالی ، عاجز و عاصی میں
کر دے جو تُو بخشش ترا جاتا کیا ہے؟
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
بدبخت ہوا وہ جو ہے گستاخِ نبیﷺ
دوزخ میں گیا وہ جو ہے گستاخِ نبیﷺ
امت کے لئے اس سے بُری بات نہیں
اب تک نہ مَرا وہ جو ہے گستاخِ نبیﷺ
💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔
بخدمت اقدس سیدہ طیبہ طاہرہ فاطمہ سلام اللہ علیہا
خاتونِ جنت ؓ ہیں کہ ہیں سردار بتول ؓ
حسنین ؓ کی تربیت و معیار بتول ؓ
شیرِ خدا ؓ کے بیتِ قُدس کی ملکہ ؓ
اور مصطفٰیﷺ کے باغ کی مہکار بتول ؓ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
بخدمت اقدس جناب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
آقائے دو عالمﷺ کے ہیں پکے رفیق ؓ
سارے سچوں میں سے ہیں سچے صدیق ؓ
صدق و وفا کی جان ؓ اور یارِ غار آپ ؓ
عشقِ نبیءِ پاکﷺ میں غرقابِ عمیق ؓ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
بخدمتِ اقدس سیدنا عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ
سرکارِ جہاںﷺ کی دعا عمرِ فاروقؓ
اسلام کا عہدِ عُلا عمرِ فاروقؓ
اسلام گیا ہوتا گھر گھر میں پہنچ
جو اور ہوا ہوتا عطا عمرِ فاروقؓ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اس دور میں ہر چیز ہوئی ہے مبہم
جوں شِیر و شکر یوں حق و باطل مدغم
بینائی ءِ فاروق ؓ تجھے ڈھونڈیں کہاں
جو ابيض و اسود کو دکھا دے یکدم
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
بخدمتِ اقدس سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ
پورا حلم و حیا ہیں عثمانِ غنی ؓ
شاہِ جود و سخا ہیں عثمانِ غنی ؓ
آقاﷺ نے عطا ان کو کئے دو دو نور
بُردِ نورِ صفا ہیں عثمانِ غنی ؓ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
منقبتِ سیدنا علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ
ہے لطف و کرم تیرا دُلدُل کے سوار ؓ
نسبت ہے بھرم میرا دُلدُل کے سوار ؓ
ہوں پاک گھرانے کا میں اک ادنی غلام
دل عشق نے ہے گھیرا دُلدُل کے سوار ؓ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
تسلیم زمانے کو ہے زورِ حیدر ؓ
آقاﷺ سے محبت کریں حد سے بڑھ کر
جو محفلِ یاراں ہو تو ہیں بُوئے وفا
رزمِ حق و باطل میں فاتح خیبر ؓ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
گر بابِ معانی میں ہیں لاثانی علی ؓ
تو فقر و سخاوت کی ہیں تابانی على ؓ
جو آلِ محمدﷺہوئے گلزارِ نبی ﷺ
گلزار کی گِل اور ہوئے پانی علی ؓ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
حق چار یار (رضوان اللہ اجمیعین )
آقاﷺ کی مسکان ہوئے چاروں یار ؓ
آفاقی انسان ہوئے چاروں یار ؓ
اپنا عشق و وفا بھی آقاﷺ کی عطا
اس امر کا اعلان ہوئے چاروں یار ؓ
اور
آقاﷺ کی مسکان ہوئے چاروں یار ؓ
آفاقی انسان ہوئے چاروں یار ؓ
انﷺ کا عشق و وفا بھی ہے انہیﷺ کی عطا
اس امر کا اعلان ہوئے چاروں یار ؓ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
کثرت کے مقابل ہوئے خاصانِ بدر ؓ
ایمان میں کامل ہوئے خاصانِ بدر ؓ
آقاﷺ کی محبت میں دیا تن من وار
اسلام کا حاصل ہوئے خاصانِ بدر ؓ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
جنت کے جوانوں کے ہیں سردار حُسین ؓ
ظالم کے ارادوں پہ ہیں تلوار حُسین ؓ
آقائے دو عالمﷺ کہ ہیں دِلدارِ زمان
آقائے دو عالمﷺ کے ہیں دِلدار حُسین ؓ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
بخدمتِ اقدس سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ
فارس سے چلے اور مدینے آئے
رستے میں بہت لوگوں سے کھائے دھوکے
احزاب میں خندق کا انہی نے سوچا
سلمان ؓ ہوئے عقل میں لقماں جیسے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ
وہ عاشقِ صادق وہ بلالِ حبشی ؓ
ان ؓ جیسی غلامی پہ فدا ہو شاہی
اے چشمِ تصور دکھا دے وہ منظر
پیارا مؤذن ؓ تو زمانہ ءِ نبویﷺ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
بخدمت اقدس جناب سرکار اویس قرنی رضی اللہ تعالٰی عنہ
خوشبوئے وفا ہیں فخرِ دوستاں ہیں
خواجہ ءِ قرن بادشاہِ عاشقاں ہیں
بس ایک دعا کردے لا تعداد رِہا
ہو کرم کہ فریاد رسِ عاصیاں ہیں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
امت کو دعا ہیں خواجہ اویس قرنی ؓ
عسرت کی کشا ہیں خواجہ اویس قرنی ؓ
آقاﷺ کی محبت کے مکمل پیکر
اللہﷻ کی عطا ہیں خواجہ اویس قرنی ؓ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
ولیوں کے رہنما ہیں اویسِ قرنی ؓ
عاشق کی درس گاہ ہیں اویس ِقرنی ؓ
وہ طاعتِ مادر کا ہیں شہکار ہوئے
الفت کی انتہا ہیں اویسِ قرنی ؓ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
بخدمتِ اقدس سرکار زین العابدین علیہ السلام
بیمارِ کربلا علی ابنِ حسین ؓ
بحرِ جُود و سخا علی ابنِ حسین ؓ
ظلمت کے دشت میں بچی آخری شمع
ہر سُو ہے جس کی ضیا علی ابنِ حسین ؓ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
عبّاس ؓ عَلَم دار وہ اخئیِ حُسین ؓ
سچے ہیں وفادار وہ اخئیِ حُسین ؓ
عبّاس ہیں وہ شیر کہ اور شیر ڈریں
زور آور و جرار وہ اخئیِ حُسین ؓ
اور
عبّاس ؓ عَلَم دار شہیدِ کربل
وہ سچے وفادار شہیدِ کربل
عبّاس کہ ہیں شیر ڈریں شیر ان سے
زور آور و جرار شہیدِ کربل
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
بخدمتِ اقدس جناب غوثِ اعظم رحمتہ اللہ علیہ
ولیوں کے سردار ہیں غوثِ اعظم
روتوں کے غمخوار ہیں غوثِ اعظم
مولا حَسن ؓ و حُسین ؓ ان کے اجداد
آلِ شہِ أبرارﷺ ہیں غوثِ اعظم
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
بے کس کی مدد کرتے ہیں غوثِ اعظم
ہر آن یہ دم بھرتے ہیں غوثِ اعظم
جو کام بھی مشکل ہو نہیں ان کے لئے
یہ ورد ولی کرتے ہیں غوثِ اعظم
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
بخدمت اقدس جناب مولائے روم رحمتہ اللہ علیہ
علم اور فن میں ہوئے مفرد رومیؒ
میرے مرشد کے ہوئے مرشد رومیؒ
یوں تو ہو گزرے ہیں وہ صدیوں پہلے
فیضان دوامی، ہوئے سرمد رومیؒ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
بخدمتِ اقدس جناب پیر علاؤ الدین صدیقی رحمتہ اللہ علیہ
صدیقی سالار مرے مرشد ہیں
الفت کی مہکار مرے مرشد ہیں
مرشد سے ملے بُوئے کوئے جاناںﷺ
اس بات کا اقرار مرے مرشد ہیں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
کچھ بھی نہیں میرا سارا ہے مرشد کا
جھولی بھری میری سکہ ہے مرشد کا
خوبی نہیں میری ساری ہے مرشد کی
ہونا نہیں میرا ہونا ہے مرشد کا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
بخدمت اقدس جناب پیر علاؤ الدین صدیقی رحمتہ اللہ علیہ
محفل میں رہا ذکر سدا اللہ ہُو
باطن میں یہی ورد بسا اللہ ہُو
وہ اَذْ کُرُو نی اَذْ کُرُو کُم کی ہیں مثال
مرشد نے سدا دی ہے صدا اللہ ہُو
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اقبالِ لا زوال
قائد کے وہ دم ساز ہیں اقبال ہوئے
رومی کے وہ ہمراز ہیں اقبال ہوئے
ہیں بلبلِ گلزارِ مدینہ ہوئے وہ
لولاک کے شہباز ہیں اقبال ہوئے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
بخدمت اقدس جناب استاد نذیر حسین صاحب رحمتہ اللہ علیہ
یہ خاص عنایت مرے استاد کی ہے
بے لوث محبت مرے استاد کی ہے
خوبی جو کوئی مجھ میں کوئی دیکھتا ہے
میری کہاں طاقت مرے استاد کی ہے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
باطل ہے مقابل؟ رہے بسمِ اللہ
حق قائم و دائم ہے بِإِذْنِ اللہ
ہے خوف کسی کا نہ کوئی حُزن و ملال
لا حَوْلَ وَلا قوُّةَ اِلّا باللہ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
ہر وقت جسے چاہ تھی وہ میری ماں تھی
آلام میں اک قلعہ تھی وہ میری ماں تھی
قرآن اور اسلام سکھایا جس نے
جو پہلی درس گاہ تھی وہ میری ماں تھی
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
یوں کاسہ ءِ الفاظ بھرا اللہ نے
کی مجھ کو عطا شعر سرا اللہ نے
محبوبﷺ کی مجھ کو عطا مدحت کر دی
باطن میں دیا دیپ جلا اللہ نے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
کس موڑ پہ دیکھو یہ کہانی آئی
اپنے بھی سخن پر ہے جوانی آئی
آقاﷺ سے غلامی کی عطا ہے راشد
اپنی جو رباعی میں روانی آئی
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
Comments
Post a Comment