رباعیاتِ راشد
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اے یار مرے جلوہ ترا دیکھ لیا
بے پردہ یہیں چہرہ ترا دیکھ لیا
تُو خاکی بدن اوڑھ کے بیٹھا ہوا تھا
خاکستری کو چاک کِیا دیکھ لیا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
کوئی کہاں دیوانوں کی رمزیں سمجھا
دیوانہ ہوا آپ انھیں باتیں سمجھا
اندھے ہیں یہاں چہرے پہ آنکھوں والے
سمجھا تو وہی دل کو جو آنکھیں سمجھا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
تماشا
انسان تماشا ہوا انسانوں کا
عبرت ہے، نہیں کھیل یہ نادانوں کا
دیکھیں شب و روز اک دوجے کا انجام
سوچیں کہ یہی انت ہے بیگانوں کا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
روز و شام
آئے جو روز بھی وہ گھائل جائے
جائے جو شام بھی وہ بوجھل جائے
ہائے ان کی جادو نگاہی کے بغیر
برسوں کی رفتار سے پل پل جائے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
جو ظلم کی رفتار یہیں تھم جائے
جو جنگ کی جھنکار کہیں جم جائے
چیخ و چنگاڑ جو ہو جائے چُپ تو
یہ دنیا امن کی ہو سرگم جائے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
یہ شش جہات ہیں آئینہ خانہ
میری تصویریں خانہ تا خانہ
میرے ہونے سے سارا جادو ہے
میرے جانے سے ویرانہ خانہ
اور
یہ سب جہات ہیں آئینہ خانہ
اپنی تصویروں سے میں ہوں بیگانہ
میرے ہونے سے سارا جادو ہے
میرے جانے سے ہر سُو ویرانہ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اک بار مرے یار مجھے آکر مل
رہ کر جا دن چار مجھے آکر مل
تو ہے مصروف تو میں ہوں جان بلب
دیدار ہے درکار مجھے آکر مل
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
لب ہیں خاموش تو قلم بولتا ہے
سب ہی حیران ہیں کہ کم بولتا ہے
میرا من ریشم کی طرح لفظ بُنے
کِرمک کہاں اسکا ریشم بولتا ہے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
طوفانوں سے انسان گزر کر آیا
ارمانوں سے انسان گزر کر آیا
گزرا ہے یہ پر پیچ گزر گاہوں سے
انسانوں سے انسان گزر کر آیا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
میں گاؤں سے ہوتا ہوا آیا ہوں
ماں باپ بِنا روتا ہوا آیا ہوں
کہنے کو آیا ہوں میں سارا واپس
آدھے خود کو بوتا ہوا آیا ہوں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
رازِ ہستی ہے نہاں دل میں میرے
معلوم نہیں ہے کہاں دل میں میرے
دل تو سینے میں پڑا دھڑکے میرا
اور پوشیدہ ہے جہاں دل میں میرے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اوروں کے لئے ساقی بہت جام بہت
محفل اور خُم بہت مے گل فام بہت
کچھ محفل و مے سے مجھے درکار نہیں
میرے لئے بس تیرا ہی نام بہت
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
کارِ جہاں روکے نہ مری مشقِ سخن
خستہ پا ہوں اور مرے لہجے میں تھکن
میری سوچوں کا ارتعاش اپنی جگہ
تن اپنی جگہ اور من کی اپنی لگن
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
ہر شے کا ہے آغاز بس اک لفظِ کُن
تخلیق کا غماز بس اک نگاہ کُن
کُن سے کہیں پہلے بھی تھا اس کا وجود
ہے عشق ہی کا انداز اک لفظِ کُن
اور
ہر شے کا ہے آغاز بس اک لفظِ کُن
تخلیق کا غماز بس اک لفظِ کُن
کُن سے بھی پہلے تھا وجودِ عشقاں
ہے عشق ہی کا انداز اک لفظِ کُن
اور
ہر شے کا ہے آغاز بس اک لفظِ کُن
تخلیق کا غماز بس اک لفظِ کُن
کُن سے بھی پہلے تھا وجودِ اُنساں
ہے عشق ہی کا انداز اک لفظِ کُن
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
راکھوں میں پوشیدہ وہ شعلہ سا ہے
خاکوں میں پوشیدہ وہ جلوہ سا ہے
دھڑکن کی طرح آن بسا ہے دل میں
راتوں میں تابندہ وہ تارا سا ہے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
کچھ اور طرح کے ہیں زمانے آئے
کچھ یار مجھے یاد پرانے آئے
کچھ لوگ مرے خواب میں آکر راشد
کچھ شعر مجھے روز سنانے آئے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
کچھ عشق کے انداز سکھائے ہوتے
کچھ ورد کے الفاظ سنائے ہوتے
بوجھل سی کوئی بات بتائی ہوتی
اوجھل سے کئی راز دکھائے ہوتے
اور
کچھ عشق کے انداز سکھائے گئے ہیں
کچھ ورد کے الفاظ سنائے گئے ہیں
بوجھل سی کوئی بات بتائی گئی ہے
اوجھل سے کئی راز دکھائے گئے ہیں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
تجھ میں نہیں کچھ تیرا سب یار کا ہے
اس طرف کا تُو نہیں ہے اس پار کا ہے
جھگڑے یہ سبھی تیرے تری ذات سے ہیں
شکوہ ترا غفار سے بیکار کا ہے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
ہر چند ہوں ملبوس ردائے دکھ میں
ہے راز چھپا سُکھ کا ذرا سے دکھ میں
سُکھ چین یونہی درد کے پردے میں رہے
جوں پھول رہے رنگ میں کانٹے دکھ میں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
کہتے ہیں کہ ہر آدمی کو مرنا ہے
واپس چلو شاید یہ کوئی کہتا ہے
تن خاک تلے من سوئے افلاک گیا
گھر کو گئے دونوں کہ یہ پردہ سا ہے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
خوش بخت جسے خود کی سمجھ آئی ہے!
کب کون کسے خود کی سمجھ آئی ہے ؟
کیا آنکھ مری چہرہ مرا دیکھتی ہے؟
آئینے! اسے خود کی سمجھ آئی ہے؟
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
آیا یہاں ہوں میں کہ ہوں بُلوایا گیا؟
لاگت کسی کے عوض ہوں تُلوایا گیا ؟
ہوں کس کے میں لطفِ تخیل کا ثمر ؟
کیا راز تھا کوئی جو ہوں کھُلوایا گیا ؟
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
محبوب ترے عشق میں غرقاب ہوئے
خود اپنے لئے ہی ہمیں نایاب ہوئے
ہم تجھ سے بچھڑ کر رہے بیمار سدا
جو چہرہ ترا دیکھا شفا یاب ہوئے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
حالات کے ہاتھوں میں کھلونا انساں
رشتوں کی ہے زنجیروں میں جکڑا انساں
ہاں قلب ہے آزاد مگر ظاہر سے
باطن کا شہنشاہ بنایا انساں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
انسان نہیں کوئی برا یا اچھا
ہو سکتا ہے ہو اپنی نظر کا دھوکا
اَصْلًا ہو وہ سچا جسے جھوٹا جانیں
اور ہم کسی جھوٹے کو سمجھ لیں سچا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اوروں کو دیا کرنا یہ دھوکا ساجن
اپنوں سے نہیں کوئی بھی چھپتا ساجن
اک گھر میں کہاں غیر بسا کرتے ہیں؟
محرم سے کوئی ہوتا ہے پردہ ساجن؟
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
گھر سے میں بہت دور ہوں اک کمرے میں
جیسے کہ میں محصور ہوں اک کمرے میں
کچھ ایسے ہی حالات ہیں انسانوں کے
جنت میں تھا مامور ہوں اک کمرے میں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اس بات کی ہے مجھ کو بڑی حیرانی
کس قدر ہوئے پاؤں مرے سیلانی
جتنا بھی میں آرام سے رکنا چاہوں
چلتا ہی چلوں جیسے کہ بہتا پانی
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
کس پر نہیں یہ بات مرے یار عیاں؟
افکار سے ہو جاتا ہے کردار عیاں!
انسان وہیں ہوگا جہاں سوچیں ہوں گی!
باطن کے یہ کر دیتی ہیں اسرار عیاں!
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
کچھ ایسے ہی آثار مرے یار ہوئے
کہنے کو تو آزاد پہ لاچار ہوئے
دکھ سارے ترے در سے ہیں دوری کے سبب
نظروں سے جو اوجھل ہوئے بیمار ہوئے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اکثر ہی یہ سوچوں میں کہیں ہوں کہ نہیں
میں اور کہیں ہوں کہ یہیں ہوں کہ نہیں
اس بات کا تو مجھ کو یقیں ہے کہ تُو ہے
اس بات کا ادراک نہیں ہوں کہ نہیں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
جیون میں سفر کرتا ہے آدم کتنے ؟
یہ جان سہا کرتی ہے جوکھم کتنے؟
کھا جاتی ہے مٹی کئی چاندی چہرے!
مٹ جائیں زمانے میں یوں دم خم کتنے ؟
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
دنیا میں جو جینا ہے تو مرنا سیکھو
تشکیک کے پردے کو کترنا سیکھو
دیکھو اِسی دنیا میں اک اور ہے دنیا
اُس دنیا کے ساحل پہ اترنا سیکھو
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
مغرور سدا رہتا ہے نیچا دیکھو
دریا میں تھا فرعون ڈبویا دیکھو
نمرود بھی کہتا تھا خدا ہی خود کو
سر اس کا سرِ خاک ملایا دیکھو
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
مجھ کو بھی نہیں کوئی خبر کون ہوں میں !
ہوں خاک کہ ہوں روح و نظر کون ہوں میں ؟
ہوں خواب کسی کا کہ میں اک سچ ہوں ؟
در بندِ سفر بندِ حضر کون ہوں میں ؟
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
وہ شاملِ محفل تو ہے لیکن چپ ہے
کچھ کہنے پہ مائل تو ہے لیکن چپ ہے
کیا کیجیے اب ایسی مسیحائی کا
وہ واقفِ مشکل تو ہے لیکن چپ ہے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
مر جاتا ہے جو نفس تو جیتی جاں ہے
ہَر جاتا ہے جو نفس تو جیتی جاں ہے
مَن جاتا ہے جو نفس تو روتی جاں ہے
ڈر جاتا ہے جو نفس تو جیتی جاں ہے
اور
مر جائے جو یہ نفس تو جیتی جاں ہے
ہَر جائے جو یہ نفس تو جیتی جاں ہے
من جائے جو یہ نفس تو روٹھی رہتی
ڈر جائے جو یہ نفس تو جیتی جاں ہے
اور
مر جائے جو نفس اپنا تو جیتے ہم سب
ہَر جائے جو نفس اپنا تو جیتے ہم سب
من جائے جو نفس اپنا تو گھاٹا ہے یہ
ڈر جائے جو نفس اپنا تو جیتے ہم سب
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اک بار تھا شیشے میں اتارا خود کو
آئینے کی چھلنی سے نتھارا خود کو
اِس پار سے قالب نے کہا حاظر ہُوں
اُس پار اتر کے جو پکارا خود کو
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
سوچا ہے کبھی آپ نے اس بارے میں؟
کس واسطے آباد ہیں سیارے میں ؟
رنگ و خوشبو سے ہی پہچانا جائے
گو کہنے کو تو پھول اُگے گارے میں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
عرصے سے ہی پردیس میں رہتا ہوں میں
سوچوں یہی کِس بھیس میں رہتا ہوں میں
جو دیس تھا پردیس ہوا میرے لئے
خوابیدہ ہوں دِل دیس میں رہتا ہوں میں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
بیٹی کی سالگرہ پہ:
پُر نعمت و خورسند ہو قسمت تیری
نیکوں کے مُشابہ رہے سیرت تیری
ہر ایک نیا دن تمہیں ہنستا دیکھے
ہر رات ہمیشہ رہے راحت تیری
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
طوفان سا اک دل میں بپا میرے ہُوا
اک بار جو وہ پاس ذرا میرے ہُوا
اک روز یکایک وہ مجھے چھوڑ گیا
دیکھو تو سہی ساتھ یہ کیا میرے ہُوا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اِس بار مری ہار لکھی تھی اُس نے
فِقرے کہاں تلوار لکھی تھی اُس نے
شعروں میں نِرا پیار بھرا تھا میں نے
شعلوں بھری گُفتار لکھی تھی اُس نے
اور
اِس بار مری ہار لکھی تھی اُس نے
تیور تھے کہ تلوار لکھی تھی اُس نے
شعروں میں نِرا پیار لکھا تھا میرے
نینوں میں نری مار لکھی تھی اس نے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
میں اور تو
ہر آن ترا دھیان مجھے رہتا ہے
تُو مان مری جان مجھے رہتا ہے
ہر وقت مری یاد تجھے آتی ہے
اس بات کا عرفان مجھے رہتا ہے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
آنا ہے چلے آؤ کہ روکا کس نے؟
آکر تو بھلے جانا کہ رکنا کس نے؟
اتنا تو مگر سوچو کہ ہم پُر غم ہیں
دل پر یہ نیا زخم لگایا کس نے؟
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
جاتے ہو تو جاؤ ہمیں شکوہ کیا ہے
ہاں تیرے بنا دنیا میں رکھا کیا ہے
ہوتا ہے اگر ایسا تو ہوتا کیوں ہے؟
اپنا کوئی کہہ ڈالے، تُو میرا کیا ہے!
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
مقصد نہ مرا بات بڑھانا ہرگز
مطلب نہ مرا خاک اڑانا ہرگز
دنیا یہ ہمیشہ سے رہی دھوکے کا گھر
دنیا کو نہیں سر پہ چڑھانا ہرگز
اور
سیاسی شخصیت پرستی
مقصد نہیں ہے بات بڑھانا ہرگز
مطلب نہ مرا خاک اڑانا ہرگز
مطلق نہیں ہے کوئی بھی اتنا معصوم
مورت نہ کوئی سر پہ چڑھانا ہرگز
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
احساس کے عنوان پہ بھی بات کریں
لازم ہے کہ وجدان پہ بھی بات کریں
دن رات معیشت پہ کریں بحث سبھی
آؤ کہ اب انسان پہ بھی بات کریں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
آکاش پہ میں جتنے ستارے دیکھوں
دنیا سے گئے اُتنے پیارے دیکھوں
جو دیکھوں کھِلے پھول کئی رنگوں کے
گُل چہرے زمیں میں ملے سارے دیکھوں
️
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
بے لوث محبت ہی صفا ہوتی ہے
گمنام سے لوگوں میں وفا ہوتی ہے
چمکے جو وہ ہو سکتا ہے سونا نہ ہو
جوں آگ کے شعلوں میں جفا ہوتی ہے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
آزادی بھی انساں کے لئے ہوّا ہے!
کہیے کبھی آزاد کوئی دیکھا ہے؟
باطن کا کوئی رند ہو تو ہو ورنہ
ظاہر میں تو ہر چیز یہاں پھندہ ہے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
ہاتھوں سے بنائے ہوئے بُت ٹُوٹ گئے
تاجوں سے سجائے ہوئے سر پھُوٹ گئے
جب جب بھی کبھی خواب سے خلقت جاگی
تب تب ہی خداؤں کے بھرم جھُوٹ گئے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
ناقدری بھی تو ایک سزا ہوتی ہے
اس دکھ کی فقط ایک دوا ہوتی ہے
فنکار وہی ہے جو سراہا جائے
بِن دید بھلا خاک ادا ہوتی ہے ؟
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
یہ کون مجھے بھیس میں ملنے آیا؟
ہے دیس سے پردیس میں ملنے آیا!
لایا ہے وہ کچھ طور شناسائی کے!
اشکوں کے وہ سندیس میں ملنے آیا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اپنا بھی یہی حالِ سُخن ہے بابا
ایسا ہی زمانے کا چلن ہے بابا
روزانہ لکھوں دل کے لہو سے اشعار
پڑھنے کا کرے کون جتن ہے بابا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
آفات اور آلام کے گھیرے میں ہے دل
وسواس اور اوہام کے گھیرے میں ہے دل
جس پل سے ترے دل سے مری یاد گئی
اُس پل سےترے نام کے گھیرے میں ہےدل
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
یوں اُس نے مجھے کھینچ کے مارا دھوکا
اس ضرب سے مجروح تھا سارا دھوکا
لازم تھا کہ میں اس کی مدارت کرتا
شرمندہ ہوا خُوب بے چارہ دھوکا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
دل کھول کے مانگو جو تم چاہتے ہو
ہاں بول کے مانگو جو تم چاہتے ہو
اللہ کے خزانوں میں کمی کوئی نہیں
مت تول کے مانگو جو تم چاہتے ہو
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
دیکھا ہے کبھی آپ نے مرتے ماں کو؟
پایا ہے کبھی جسم سے جاتے جاں کو؟
روئے ہیں کبھی آپ لہو کے آنسو ؟
پھونکا ہے کبھی آہ سے پورے جہاں کو؟
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
آنی جو قیامت ہے تو وقفہ کیوں ہے؟
انسان کے ہاتھوں میں کھلونا کیوں ہے؟
کیوں مٹنے سے پہلے ہی مٹائے خود کو؟
آدم یہ عداوت سے شناسا کیوں ہے؟
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
مجھ کو نظر انداز کرو گے کب تک؟
شعروں کے شکنجے سے بچو گے کب تک؟
اک دن مری آواز بھی گونجے گی یہاں!
کانوں پہ یوں ہاتھوں کو رکھو گے کب تک؟
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
چل چھوڑ مرے یار یہ بے کار کا غم !
اِس پار کا غم اور پھر اُس پار کا غم !
ہوگا وہ جو منظور خدا کو ہوگا !
کس زعم پہ پھر تجھ کو ہےگھر بار کا غم؟
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اس بستی کا دستور نرالا دیکھا
دن کالا سیاہ، رات اجالا دیکھا
سچے کو یہاں چڑھتے ہے دیکھا سولی
جھوٹوں کا یہاں بول دوبالا دیکھا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اِس دور کے فتنے بھی عجب طَور کے ہیں
ایمان کو خطرے بھی نئے دَور کے ہیں
گستاخ کہیں ہیں تو کہیں ہیں جاہل
ابلیس کے پھندے بھی بڑے غور کے ہیں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
سوچوں کے بکھر جانے کا غم جانتا ہوں
خوابوں کے بکھر جانے کا غم جانتا ہوں
سُن سکتا ہوں میں بَین شکستہ دل کے
اپنوں کے بکھر جانے کا غم جانتا ہوں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
دنیا نے بھلا کس سے وفا کی اب تک؟
بس جرمِ جنوں کی ہے سزا دی اب تک!
کب تک نظر انداز حقیقت ہوگی؟
ظلمت کی حکومت تو ہے جاری اب تک!
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
دنیا نہ کبھی راضی ہوا کرتی ہے
ہر حال میں یہ سب سے دغا کرتی ہے
بہتے ہوئے اشکوں پہ سدا طنز کرے
ہنستے ہوئے لوگوں سے جلا کرتی ہے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
وہ شخص مجھے روز ملا کرتا تھا
دکھ سارے مرے بانٹ لیا کرتا تھا
خود زخموں کو وہ اپنے چھپا لیتا تھا
ہر درد کے مارے کی دوا کرتا تھا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
یہ ناز و ادا کس نے سکھائی ہے اسے؟
شوخی کی حکایت بھی پڑھائی ہے اسے!
کس نے ہے بتایا اسے رازِ الفت؟
مستی یہ کسی مے نے چڑھائی ہے اسے؟
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
صنّاعی ءِ خالق کے ہیں ہم سب مظہر
باہر جو بھی دیکھیں وہ ہے اپنے اندر
یہ ظاہری دنیا تو مجازی شے ہے
باطن میں ہمارے ہے حقیقی منظر
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
یہ وقت ہے انسان کا تگڑا دشمن!!
خوف اور تمنائیں بھی کافی ہیں کٹھن!!
لیکن یہ جو دنیا میں ترقی دیکھوں !!
خوف اور تمناؤں ہی کے ہے کارن !!
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
یہ بھید مرے پیرِ قلندر نہ کُھلا!!
انسان پہ کیوں اس کا مقدر نہ کُھلا؟؟
کُھلتے گئے دروازے ستاروں کے مگر!!
خود اپنے ہی اندر سے کوئی دَر نہ کُھلا !!
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
خود بینی
_________________________
دل نے مجھے ہرگز نہ بھلایا ہوتا !
اک بار جو میں نے مجھے دیکھا ہوتا !
مٹتا نہ کبھی نقش مٹائے راشد !
خود اپنی نظر سے جو میں گزرا ہوتا !
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
تدبیر و تقدير
________________________________
تقریر تو بس نوکِ زباں تک پہنچے
تدبیر مری تیر کماں تک پہنچے
تحریر ہے محدود ورق سرحد تک
تقدیر فقط تیرے نشاں تک پہنچے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
کس کی ہے خدائی گر تیری نہیں یہ ؟
کس کی ہے خلافت گر میری نہیں یہ؟
کس کا ہوں میں بندہ گر تیرا نہیں تو ؟
روشن ہے کیا رات؟ اندھیری نہیں یہ ؟
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
جھوٹے جو فسانے سنے، لاچار سُنے !
کُچھ نے جو ٹھکانے چُنے، پُرخار چُنے !
جس نے جو کہانی سُنی، پوری نہ سُنی !
سپنے جو سہانے بُنے بے کار بُنے !
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
انسان پہ وارد یہ حقیقت ہوگی
اُس روز ہی نافذ وہ شریعت ہوگی
مٹ جائیں گے جب ذہنوں سے باطل نقشے
تب جاکے زمیں ساری یہ جنت ہوگی
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اِس فکر میں گزری ہے جوانی میری
اِک نقطے پہ ٹھہری ہے کہانی میری
ہر آج کو برباد کِیا کَل کے لئے
آج اپنی سنو سارے زبانی میری
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
کب تک میں ترے کھیل کو جھیلوں مالک؟؟
کب تک میں ترے میل کو ترسوں مالک؟؟
ہر وقت یہی آس ستائے مجھ کو!!
کب تک میں تری راہ نِہاروں مالک؟
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
دل جان جگر یار ہیں سارے تیرے
تن ہوش ہنر یار ہیں سارے تیرے
تیرے لئے سب سیپ سمندر موتی
من جوش نظر یار ہیں سارے تیرے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اک روز ذرا ہوش ٹھکانے آئے !!
کچھ خوف مجھے دیکھ ڈرانے آئے !!
چُپ چور چلے خواب چرانے میرے !!
گُپ تیر مرے باندھ نشانے آئے !!
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اس شام کے پہلو میں قمر ہے کہ نہیں؟
اس رات کے باطن میں سحر ہے کہ نہیں؟
شک ہے تو یہاں رہ کے ملائک دیکھیں!!
اس خاک کے پُتلے میں جگر ہے کہ نہیں؟
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
پہنچا جو ترے در پہ سنور جاؤں گا
نکلا جو ترے در سے کدھر جاؤں گا
در پر ہی نہیں مجھ کو نظر میں رکھیو
اترا جو نظر سے تو بکھر جاؤں گا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
و انا الیہ راجعون
________________________________
آ دیکھ ذرا کون شناسا آیا
زخموں سے ہوا چُور وہ تنہا آیا
اب کھول ذرا پردے کا پردہ آخر
واپس وہ جسے دُورتھا بھیجا، آیا!
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
کچھ ہم کو بھی رنجیدگی کی عادت تھی
کچھ ان کو ہمیں چھوڑنے کی عجلت تھی
کچھ ہم کو بھی انجام نظر آتا تھا
کچھ ان کو نئے رابطوں کی حسرت تھی
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
کچھ اپنے ہی جذبات لکھا کرتا ہوں
اوروں کی حکایات لکھا کرتا ہوں
بن جاتی ہے یوں ایک رباعی میری
اشعار کے صفحات لکھا کرتا ہوں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
دریا کے کناروں میں تڑپتا پانی
اصغر کے لبوں کو تھا ترستا پانی
روتی ہے برستی ہوئی بارش اب بھی
لگتا ہے پشیمان اُترتا پانی
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
قسمت کا اُتر جائے گا چہرہ یکسر
جنت کا بگڑ جائے گا حُلیہ یکسر
کربل سی جو اس پر بھی قیامت گزرے
محشر کا بھی پھٹ جائے کلیجہ یکسر
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اک روز میں دنیا سے چلا جاؤں گا
بدکار ہُوں یا میں ہُوں بھَلا، جاؤں گا
مٹ جائیں گے قدموں کے نشاں ہر جا سے
معدُوم کے سانچے میں ڈھلا، جاؤں گا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
خود سے بھی میں بیگانہ ہوا جاتا ہوں
لگتا ہے کہ دیوانہ ہوا جاتا ہوں
رشتے مری مٹھی سے گرے جاتے ہیں
تلخی بھرا پیمانہ ہوا جاتا ہوں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
سناٹے مرے ساز ہوئے جاتے ہیں
کچھ رنگ بھی آواز ہوئے جاتے ہیں
سوچیں مری چُھو آئیں ستارے اکثر
اور فاش کئی راز ہوئے جاتے ہیں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
سب چاک مرے سینے کے کُھل جاتے ہیں
آنسو مرے طغیانی پہ تُل جاتے ہیں
جب جب بھی میں کربل پہ کوئی شعر لکھوں
الفاظ مرے سارے ہی دُھل جاتے ہیں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
آدابِ وفا مجھ کو کہاں آتے ہیں
حالانکہ نظر کچھ تو نشاں آتے ہیں
کربل کا کبھی جب بھی کہیں ذکر چِھڑا
اشکوں کے وہیں سیلِ رواں آتے ہیں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اطراف مرے شور پبا رہتا ہے
دل خواب کے غاروں میں چُھپا رہتا ہے
تن ضعف پہ مائل ہے مرا روز بروز
من دُور ستاروں سے ورا رہتا ہے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
کل ایک ستارہ تھا کہ جُھلسا دیکھا
اور ایک سمندر تھا کہ ڈًوبا دیکھا
کل ایک کہانی تھی کہ مِٹتی دیکھی
اور ایک تماشا تھا کہ تنہا دیکھا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
ہر ممکنہ پرواز سے ہی ڈر کاٹے
ہر موڑ پہ ظالم نے مرے پر کاٹے
قدرت کو ہے منظور بلندی میری
پر کاٹے کوئی یا کہ مرا سر کاٹے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
کوئی جو کبھی غور سے دیکھا چہرہ
آنکھوں میں نظر آیا کسی کا چہرہ
ہر تن ہی کسی اور کے گھیرے میں ہے
ہر دل پہ کھڑا دیتا ہے پہرہ چہرہ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
ہر درد ترے در کا پتہ دیتا ہے
ہر پھول ترے رنگ بتا دیتا ہے
دیکھی ہے تری شان کئی جلووں میں
ہر چہرہ صدا " قَالُوا بَلَیٰ " دیتا ہے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اک آس کے بندھن سے بندھا ہے جیون
اک یاس کے پھندے میں پھنسا ہے جیون
اک ہُوک کہ اٹھتی ہے کہیں اندر سے
اک کُوک سا سینے میں رُکا ہے جیون
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
تن تلخ، تمنا کو تڑپ، گھومے ہے
من موج میں مُرشد کے قدم چومے ہے
میں دُوری کے دُکھ سوچ سدا کُڑھتا ہوں
دِل دِید کی دُنیا میں پہنچ، جھومے ہے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اچھا نہیں نیلام ہنر کو کرنا
زیبا نہیں، بدنام بشر کو کرنا
سستا نہیں چلنا وفا کے رستے پر
آسان نہیں خون جگر کو کرنا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
جھگتا ہے جنوں روز ہمارے آگے
شعلے ہیں رواں خوں میں، شرارے آگے
اس طور ہوئے تیری طرف محوِ سفر
قدموں میں رہے دھول، ستارے آگے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اطراف کو جب آنکھ بدل کر دیکھا
خود اپنی ہی سرحد سے نکل کر دیکھا
معدوم ہوئے جاتے تھے سارے پیوند
معلوم کے لاشے پہ ٹہل کر دیکھا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
Comments
Post a Comment