رباعیاتِ راشد
لا قوُّةَ اِلّا باللہ
باطل ہے مقابل؟ رہے بسمِ اللہ
حق قائم و دائم ہے بِإِذْنِ اللہ
ہے خوف کسی کا نہ کوئی حُزن و ملال
لا حَوْلَ وَلا قوُّةَ اِلّا باللہ
وہ اور میں
اِس بار مری ہار لکھی تھی اُس نے
تیور تھے کہ تلوار لکھی تھی اُس نے
شعروں میں نِرا پیار لکھا تھا میرے
نینوں میں نری مار لکھی تھی اس نے
میں اور تو
ہر آن ترا دھیان مجھے رہتا ہے
تُو مان مری جان مجھے رہتا ہے
ہر وقت مری یاد تجھے آتی ہے
اس بات کا عرفان مجھے رہتا ہے
ناقدری
ناقدری بھی تو ایک سزا ہوتی ہے
اس دکھ کی فقط ایک دوا ہوتی ہے
فنکار وہی ہے جو سراہا جائے
بِن دید بھلا خاک ادا ہوتی ہے ؟
ریشم کا کیڑا
جو ہونٹ مرے چپ تو قلم بولتا ہے
حیران سبھی لوگ کہ کم بولتا ہے
من روز بُنے حرف کہ ریشم جیسے
کِرمک نہیں، اس کا ریشم بولتا ہے
سندیسہ
اک بار مرے یار مجھے آکر مل
رہ کر جا دن چار مجھے آکر مل
تُو دُور بہت اور میں ہُوں جان بہ لب
دیدار ہے درکار مجھے آکر مل
امن و شانتی
جو ظلم کی رفتار یہیں تھم جائے
جو جنگ کی جھنکار کہیں جم جائے
چیخ و چنگھاڑ جو ہو جائے چُپ تو
یہ دنیا امن کی ہو سرگم جائے
انسان
ارمانوں سے انسان گزر کر آیا
طوفانوں سے انسان گزر کر آیا
گزرا ہے یہ پر پیچ گزر گاہوں سے
انسانوں سے انسان گزر کر آیا
گمان و یقیں
اکثر ہی یہ سوچوں میں کہِیں ہوں کہ نہیں
میں اور کہِیں ہُوں کہ یہِیں ہُوں، کہ نہیں
اس بات کا تو مجھ کو یقیں ہے، کہ تُو ہے
اس بات کا ادراک نہیں، ہُوں کہ نہیں
خوبصورت دھوکا
طوفان سا اک دل میں بپا میرے ہُوا
اک بار جو وہ پاس ذرا میرے ہُوا
اک روز اچانک وہ مجھے چھوڑ گیا
دیکھو تو ذرا ساتھ یہ کیا میرے ہُوا
حسرتِ دل کہ ملیں حضرتِ دِل
اُس دل میں کئی راز نہاں رہتے ہیں
سُنتے ہیں کہ "وہ"خود بھی وہاں رہتے ہیں
تسلیم ہمیں ساری یہ باتیں لیکن
یہ حضرتِ دل جانے کہاں رہتے ہیں؟
ساقی و جام
اوروں کے لئے ساقی بہت جام بہت
محفل اور خُم بہت، مئے گل فام بہت
کچھ محفل و مے سے مجھے درکار نہیں
میرے لئےتو ہے ان کا ہی نام بہت
تن اور من
کارِ جہاں روکے نہ مری مشقِ سخن
پاؤں مرے ہلکان تو لہجہ ہے تھکن
ہر دم ہی تو افکار کی یلغار رہے
پژمردہ بدن، من میں لگی ایک لگن
جواں مردی
بے باک گریبان سدا چاک ہوئے
حالات کے گرداب سے وہ پاک ہوئے
بے لوث رہے ساری تمناؤں سے
زندہ ہیں وہی لوگ جو بے باک ہوئے
کُن
اجسام کا آغاز بس اک لفظِ کُن
تخلیق کا غماز بس اک لفظِ کُن
کُن سے کہیں پہلے تھا وجودِ اُنساں
ہے عشق کا انداز بس اک لفظِ کُن
رازِ ہستی
اِس راکھ میں پوشیدہ وہ شعلہ سا ہے
اِس خاک میں خوابیدہ وہ جلوہ سا ہے
اک بھید طرح آن بسا ہے دل میں
ہر رات میں تابندہ وہ تارا سا ہے
شعر و شاعر
کچھ اور طرح کے ہیں زمانے آئے
کچھ یار مجھے یاد پرانے آئے
کچھ لوگ مرے خواب میں آکر راشد
کچھ شعر مجھے روز سنانے آئے
سبق
کچھ عشق کے انداز سکھائے گئے ہیں
کچھ ورد کے الفاظ سنائے گئے ہیں
بوجھل سی کوئی بات بتائی گئی ہے
اوجھل سے کئی راز دکھائے گئے ہیں
حقیقت
تجھ میں نہیں کچھ تیرا، سبھی یار کا ہے
اِس پار کا تُو تو نہیں اُس پار کا ہے
جھگڑے یہ سبھی تیرے تری ذات سے ہیں
شکوہ ترا غفار سے بیکار کا ہے
یاد
آئی، لو کوئی یاد پرانی آئی
لائی وہ کوئی بات پرانی لائی
آیا کہ ابر عود کے آیا، چھایا
تاروں سے بھری رات تھی، بھیگی پائی
حیرت
پُتلی رہے حیرت زدہ ہر آن مری
ہستی کا بھرے زیست یوں تاوان مری
اُٹھتا رہے جوں روح سے شفاف دھواں
جلتی رہے افکار تلے جان مری
دیوانے
کوئی نہیں دیوانوں کی رمزیں سمجھا
دیوانے ہوئے آپ، اِنھیں باتیں سمجھا
اندھے ہیں یہاں چہرے پہ آنکھوں والے
سمجھا تو وہی، دل کو جو آنکھیں سمجھا
جلوہءِ دوست
اے یار مرے! جلوہ ترا دیکھ لیا
بے پردہ، یہیں چہرہ ترا دیکھ لیا
تُو خاکی بدن اوڑھ کے بیٹھا ہوا تھا
خاکستری کو چاک کِیا، دیکھ لیا
اجل
کہتے ہیں کہ ہر آدمی کو مرنا ہے
"واپس چلو"، شاید یہ کوئی کہتا ہے
تن خاک تلے، من سوئے افلاک گیا
گھر کو گئے دونوں، کہ یہ پردہ سا ہے
آئینہ کلامی
کب کون کسے خود کی سمجھ آئی ہے ؟
خوش بخت جسے خود کی سمجھ آئی ہے
کیا آنکھ مری چہرہ مرا دیکھتی ہے؟
آئینے!! اِسے خود کی سمجھ آئی ہے؟
دُکھ اور سُکھ
ہر چند ہوں ملبوس ردائے دُکھ میں
ہے راز چُھپا سُکھ کا، ذرا سے دُکھ میں
سُکھ چین یونہی درد کے پہلو میں رہے
جوں پھول بسے رنگ میں،کانٹے دُکھ میں
من انا؟
بھیجا گیا ہوں یا کہ ہُوں بُلوایا گیا؟
جنت کے عوض کیا ہُوں تُلوایا گیا ؟
ہُوں میں کسی کے لطفِ تخیل کا ثمر ؟
میں راز تھا کوئی جو ہُوں کُھلوایا گیا ؟
فرقت
محبوب ترے عشق میں غرقاب ہوئے
خود اپنے لئے ہی ہَمِیں نایاب ہوئے
ہم تجھ سے بچھڑ کر رہے بیمار سدا
جب چہرہ ترا دیکھا، شفا یاب ہوئے
بُکل کا چور
اوروں کو دیا کرنا یہ دھوکا ساجن
اپنوں سے نہیں کوئی بھی چُھپتا ساجن
اک گھر میں کہاں غیر بسا کرتے ہیں؟
محرم سے بھلا ہوتا ہے پردہ ساجن؟
حسد
ہر ایک، یہاں دیکھ، بُرا چاہے گا
اپنا ہو کہ ہو غیر، جَلا چاہے گا
خوبی ہو کہ ہو خُوب، حسد ساتھ رہے
انجام مگر وہ جو خُدا چاہے گا
مٹی کا کھلونا
دو چار عناصر کا ہُوں اک میل، تو کیا؟
تیرا ہی رچایا ہُوں کوئی کھیل، تو کیا؟
سہتا ہُوں میں نت روگ کئی، ہونے کے
مٹنے کا بھی دُکھ جاؤں اگر جھیل، تو کیا؟
دید و امید
امید کو تجدید عطا کرتی ہے
اک ذات کہ امید عطا کرتی ہے
دس روگ، وہ مسکان، مِٹا دیتی ہے
سَو عید، کوئی دید، عطا کرتی ہے
رنگ ڈھنگ
کچھ ایسے مرے ڈھنگ ہوئے جاتے ہیں
سب دیکھ جنہیں دنگ ہوئے جاتے ہیں
یارانے کئی خواب ہوئے جاتے ہیں
بیگانے کئی سنگ ہوئے جاتے ہیں
تسلط
گُل خار، مرے یار، سبھی تیرے ہیں
پاکیزہ و عیار، سبھی تیرے ہیں
دن رات ہوئے یا کہ ہوئے شام و سحر
پس، آر کہ ہوں پار، سبھی تیرے ہیں
فلک
ہم سے تو سدا برسرِ پیکار رہا
ہر بار فلک تیرا طرف دار رہا
اِکرام کا انجام رہا رنج و الم
الطاف کے پردے میں ستم گار رہا
ہوٹل کا ایک کمرہ
گھر سے میں بہت دُور ہوں اک کمرے میں
جیسےکہ میں محصُور ہوں اک کمرے میں
کچھ ایسے ہی حالات ہیں انسانوں کے
جنت میں تھا مامُور، ہوں اک کمرے میں
جیون کتھا
بچپن کی ہے قاتل یہ جوانی سب کی
پھر جانبِ آخر ہو روانی سب کی
ٹھہرے نہ کسی طور کوئی بھی حالت
پل پل متغیر ہے کہانی سب کی
مسلسل سفر
اس بات کی ہے مجھ کو بڑی حیرانی
کس قدر ہوئے پاؤں مرے سیلانی
جتنا بھی میں آرام سے رکنا چاہوں
چلتا ہی چلوں جیسے کہ بہتا پانی
کہی ان کہی
تجھ سے کہوں اپنی میں کہانی کیونکر؟
تُو دیکھے مری آنکھ کا پانی کیونکر؟
میں بات کہوں تجھ سے،تُو سب سے کہے!
یوں خاک خودی آپ اُڑانی کیونکر؟
محبت
مسلک، یہ محبت نہیں دیکھا کرتی
سچی ہو تو تُربت نہیں دیکھا کرتی
رہتی ہے ہمہ وقت اسے دل میں بسائے
محبوب کی فُرقت نہیں دیکھا کرتی
شریکِ حیات
ہاتھوں میں مرے ہاتھ دبائے رکھنا
پہلو میں سدا ساتھ سجائے رکھنا
مجھ کو ہے، مری جان! محبت تم سے
اپنا مجھے محبوب بنائے رکھنا
مناجات!
شیطان کبھی پھر نہ دغا دے مجھ کو
ہر ایک، سدا نیک دعا دے مجھ کو
اِک عام، سرِ عام، مَیں پھرتا ہوں یاں
چُپ چاپ، کوئی خاص، بنادے مجھ کو
خلیفہ فی الارض
انساں پہ سدا رات نہ دیکھی جائے
سنگینیءِ حالات نہ دیکھی جائے
بہکائے وہ ہر روز ترے نائب کو
مجھ سے تو تری مات نہ دیکھی جائے
ایک دعا
بگڑی ہوئی تقدیر بنا دے یارب
اُجڑی ہوئی بستی کو بسا دے یارب
مرجھائےسبھی دل ہیں جو، کھِل کرمہکیں
سوئی ہوئی قسمت کو جگا دے یارب
دل
آفات اور آلام کے گھیرے میں ہے دل !
وسواس اور اوہام کے گھیرے میں ہے دل
جس پل سے ترے دل سے مری یاد گئی !
اُس پل سے ترے نام کے گھیرے دل!
تقدیر
تقریر تو بس نوکِ زباں تک پہنچے
تدبیر فقط تِیر کماں تک پہنچے
تحریر ہے محدود ورق سرحد تک
تقدیر ہے جو تیرے نِشاں تک پہنچے
باطن کا بھید
یہ بھید مرے پیرِ قلندر نہ کُھلا
انسان پہ کیوں اس کا مقدر نہ کُھلا
کُھلتے گئے دروازے ستاروں کے مگر
خود اپنے ہی اندر کو مگر دَر نہ کُھلا
پروانہ
جب نخل تمنا کا ثمر بار ہوا
تب جھوم کے وہ حاضرِ دربار ہوا
پروانہ کوئی لَوٹ کے کب آیا ہے؟
اب وار کے سَر یار پہ سرشار ہوا
شخصیت پرستی
مقصد نہیں ہے بات بڑھانا ہرگز
مطلب نہ مرا خاک اڑانا ہرگز
مطلق نہیں ہے کوئی بھی اتنا معصوم
مورت نہ کوئی سر پہ چڑھانا ہرگز
رات
سُنتے ہیں ذکی کان ، چُھپی، رات کی بات
ہوتی ہے کوئی خود سے ملاقات کی رات
ہو جائیں عیاں راز ستاروں جیسے
کُھل جائے جو اک رات، تری ذات پہ ذات
تشخیص
کچھ ایسے ہی آثار مرے یار ہوئے
کہنے کو تو آزاد پہ لاچار ہوئے
دکھ سارےمرےتُجھ سے ہیں دوری کےسبب
نظروں سے جو اوجھل ہوئے بیمار ہوئے
بے حسی
اس دور کا خوں سرد ہوا جاتا ہے
جذبوں کا شجر زرد ہوا جاتا ہے
یہ سوچ کے اب ہوش اڑے جاتے ہیں
انسان کہ بے درد ہوا جاتا ہے
سوچ
کس پر نہیں یہ بات مرے یار عیاں؟
افکار سے ہو جاتا ہے کردار عیاں!
انسان وہیں ہوگا جہاں سوچیں ہوں گی!
باطن کے یہ کر دیتی ہیں اسرار عیاں!
محبت کی بھیک
اوروں سے تقاضائے محبت کرنا
بے کار ہے غیروں سے شکایت کرنا
جو آپ نہیں اپنے تو دنیا بھی نہیں
بہتر ہے خودی، خود سے موَدّت کرنا
موت
جیون میں سفر کرتا ہے آدم کتنے ؟
یہ جان سہا کرتی ہے جوکھم کتنے؟
کھا جاتی ہے مٹی کئی چندن چہرے!
مٹ جائیں زمانے میں یوں دم خم کتنے ؟
انفرادیت
دنیا میں جو جینا ہے تو مرنا سیکھو
تشکیک کے پردے کو کترنا سیکھو
دیکھو! اِسی دنیا میں اک اور ہے دنیا
وجدان کے ساحل پہ اترنا سیکھو
غرور کا سر نیچا
مغرورکا سر رہتا ہے نیچا دیکھو
دریا میں تھا فرعون ڈبویا دیکھو
نمرود بھی کہتا تھا خدا ہی خود کو
سر اس کا سرِ خاک ملایا دیکھو
کون ہوں میں؟
مجھ کو بھی نہیں کوئی خبر، کون ہوں میں !
ہوں خاک کہ ہوں روح و نظر، کون ہوں میں ؟
ہوں خواب کسی کا کہ میں خود اک سچ ہوں ؟
در بندِ سفر بندِ حضر، کون ہوں میں ؟
ہمزاد
اک بار تھا شیشے میں اُتارا خُود کو
آئینے کی چھلنی سے نِتھارا خُود کو
اِس پار سے قالب نے کہا حاظر ہُوں
اُس پار اتر کے جو پکارا خُود کو
بیت الارض
سوچا ہے کبھی آپ نے اس بارے میں؟
کِس واسطے آباد ہیں سیارے میں ؟
رنگ و بُو ہی ہوتا ہے تعارف اُس کا
گو کہنے کو تو پُھول اُگے گارے میں
احساس
احساس کے عنوان پہ بھی بات کریں
لازم ہے کہ وجدان پہ بھی بات کریں
دن رات سیاست پہ کریں بحث سبھی
اب حالتِ انسان پہ بھی بات کریں
ظاہر و باطن
حالات کے ہاتھوں میں کھلونا انساں
دنیا کی ہے زنجیروں میں جکڑا انسان
ہاں قلب ہے آزاد مگر ظاہر سے
باطن میں ، ہر اک، بادشاہ ٹھہرا انسان
خبر کی تصدیق
پہچان کے بولیں، ہو برا یا اچھا
ہو سکتا کہ ہو اپنی نظر کا دھوکا
اَصْلًا ہو وہ سچا جسے جھوٹا جانیں
اور ہم کسی جھوٹے کو سمجھ لیں سچا
مادی دنیا
یہ عالمِ اسباب بہانہ سا ہے
سب ظاہری اشیا کا یہ پھندہ سا ہے
جوں رُوح مری قید ہوئی مٹی میں
یوں عشق عناصر میں بھی جکڑا سا ہے
اعترافِ لاعلمی
اس بات کا ادراک ہوا ہے مجھ کو
وجدان سے یہ گیان ملا ہے مجھ کو
ناقص ہے وہ علم جو مجھے حاصل ہے
کچھ بھی نہ پتا ہے یہ پتا ہے مجھ کو
شعر
الفاظ کا اپنا ہی نشہ ہوتا ہے
حرفوں سے کوئی نقش جُڑا ہوتا ہے
ہر مصرعے میں ملتا ہے ذرا خونِ جگر
تب جا کے کوئی شعر بپا ہوتا ہے
عالمِ ارواح
اک بار جو اُس دیس چلا جاتا ہے
کب لَوٹ کے واپس وہ کبھی آتا ہے
اُس پار کوئی میلہ لگا ہے شاید
جس میں کھو کےوہ سچی خوشی پاتا ہے
آزادئِ اظہارِ رائے
آزادئِ اظہار کا دَور آیا ہے
بے باکئِ افکار کا دَور آیا ہے
ہے دَور یہ نفرت و بے ایمانی کا
گُستاخئِ ابرار کا دَور آیا ہے
جھونکے
خوشبو میں بسےخواب سے آئیں جھونکے
بچپن سے کسی یاد کو لائیں جھونکے
بابل تھا گھنا پیڑ کسی برگد سا
ممتا تھی کہ فردوس، بتائیں جھونکے
امید
رہتی نہیں ہے رات ہمیشہ، لوگو !
ظُلمت کو رہے مات ہمیشہ، لوگو !
امید کی مشعل کو جلائے رکھنا
مُثبت ہی کرو بات ہمیشہ، لوگو!
گیانی فقیر
اک بھیس بدل کر وہ گیانی آیا
دیکھا تو وہ سمجھے کہ سوالی آیا
فوراً اسے جھڑکا کہ میاں رستہ ناپو
اوروں کی جو مرہم تھا، وہ زخمی آیا
مالک الملک
سُنتے ہیں کہ بھرپُور خزانے تیرے
سہتے ہیں ستم روز یہ بندے تیرے
حکمت کو تری کون سمجھ پایا ہے؟
کیوں خوار رہیں ہم یہیں ہوتے تیرے؟
ہم
بازار جو دنیا ہے تو بیوپار ہیں ہم
شہکار یہ جیون ہے تو فنکار ہیں ہم
شوریدہ جو غم تھے وہ کئے ہیں سرگم
منجدھار میں رقصاں ہوئی پتوار ہیں ہم
خاک کا پُتلا
اِس خاک کے پُتلے میں وفا رکھی ہے
حق بات پہ مرنے کی ادا رکھی ہے
رکھی ہے اسی خاک میں شیطان کی خُو
رحمان نے بھی رمز چُھپا رکھی ہے
خواہشِ لاحاصل
دشنام نہیں، پُھول دئے جاتے ہوں
جاں خون نہیں، طیش پئے جاتے ہوں
ایسی بھی ہو دنیا میں کوئی ایک جگہ
دردوں کے عوض، زخم سئے جاتے ہوں
گودڑی میں لعل
اِس دُھول میں اک پُھول چُھپا رہتا ہے
بدحال میں معقُول چُھپا رہتا ہے
ظاہر میں چھُپا رہتا ہے باطن جیسے
عاجز میں بھی مقبُول چُھپا رہتا ہے
روز و شام
آئے جو روز بھی وہ گھائل جائے
جائے جو شام بھی وہ بوجھل جائے
ہائے ان کی جادو نگاہی کے بغیر
برسوں کی رفتار سے پل پل جائے
آئے جو روز بھی وہ گھائل جائے
جائے جو شام بھی وہ بوجھل جائے
ہائے ان کی جادو نگاہی کے بغیر
برسوں کی رفتار سے پل پل جائے
عرضی
ہو جائے جو رحمت تو یہ صدمہ کیا ہے؟
منہ پھیر لے گر مجھ سے تو بچتا کیا ہے؟
تُو قادر و عالی ہے، میں عاصی عاجز
کر دے جو تُو بخشش، ترا جاتا کیا ہے؟
عرضی
بُھولا جو ترا رستہ، کدھر جاؤں گا ؟؟
پہنچا جو ترے در پہ سنور جاؤں گا !!
در پر ہی نہیں مجھ کو نظر میں رکھیو !!
اترا جو نگاہوں سے، بکھر جاؤں گا !!
پہنچا جو ترے در پہ سنور جاؤں گا !!
در پر ہی نہیں مجھ کو نظر میں رکھیو !!
اترا جو نگاہوں سے، بکھر جاؤں گا !!
گزر جانے والوں کے نام
آکاش پہ میں جتنے ستارے دیکھوں
دنیا سے گئے اُتنے پیارے دیکھوں
جو دیکھوں کھِلے پھول کئی رنگوں کے
گُل چہرے زمیں میں ملے سارے دیکھوں
ذلت
امت کی نہیں اس سے بڑی ہار کوئی
مُسلم کو پڑی ایسی کبھی مار کوئی؟
ہم بھی وہیں زندہ، جئیں گستاخ وہیں
ذلت نہیں ہے اس سے بُری یار کوئی
مُسلم کو پڑی ایسی کبھی مار کوئی؟
ہم بھی وہیں زندہ، جئیں گستاخ وہیں
ذلت نہیں ہے اس سے بُری یار کوئی
سفرِ حیات
دیوار کے اُس پار بھی گھر رہتا ہے
سنسار کے اُس پار، سفر رہتا ہے
تخریبِ جسم سے نہیں دِل مرتا
ادراک نہیں کیسے، مگر رہتا ہے
مجبوری
آزادی بھی آدم کے لئے ہَوَّا ہے
کہیے کوئی آزاد کبھی دیکھا ہے؟
باطن کا کوئی رند ہو تو ہو ورنہ
ظاہر میں تو ہر چیز یہاں پھندہ ہے
اخلاص و ملاوٹ
بے لوث محبت ہی صفا ہوتی ہے
گمنام سے لوگوں میں وفا ہوتی ہے
چمکے جو ضروری نہیں سونا ہی ہو
جوں آگ کے شعلوں میں جفا ہوتی ہے
کم نگاہی
آغاز کے لمحات نہ پہچانتا ہوں
انجام مرا کیا ہے نہیں جانتا ہوں
آنکھیں مری دیکھیں نہ مرا ہی چہرہ
حق یہ ہے کہ عاجز ہوں بہت، مانتا ہوں
خود آگاہی
ہاتھوں سے بنائے ہوئے بُت ٹُوٹ گئے
تاجوں سے سجائے ہوئے سر پُھوٹ گئے
جب جب ہے کبھی خواب سےجاگی خلقت
سب جُھوٹے خداؤں کے بھرم جُھوٹ گئے
دعا کا طریقہ
دل کھول کے مانگو جو تم چاہتے ہو
ہاں بول کے مانگو جو تم چاہتے ہو
اللہ کے خزانوں میں کمی ہوتی نہیں
مت تول کے مانگو جو تم چاہتے ہو
دھوکا
یوں اُس نے مجھے کھینچ کے مارا دھوکا
اس ضرب سے مجروح تھا سارا دھوکا
لازم تھا کہ میں اس کی مدارت کرتا
شرمندہ ہوا خُوب بے چارہ دھوکا
مفسد فی الارض
آنی جو قیامت ہے تو وقفہ کیوں ہے؟
انسان کے ہاتھوں میں کھلونا کیوں ہے؟
کیوں مٹنے سے پہلے ہی مٹائے خود کو؟
انسان عداوت کا ہی شیدا کیوں ہے؟
پکار
مجھ کو نظر انداز کرو گے کب تک؟
شعروں کے شکنجے سے بچو گے کب تک؟
اک دن مری آواز بھی گونجے گی یہاں!
کانوں پہ یوں ہاتھوں کو رکھوگےکب تک؟
دستور
اس بستی کا دستور نرالا دیکھا
دن کالا سیاہ، رات اجالا دیکھا
سچے کو یہاں چڑھتے ہے دیکھا سولی
جھوٹوں کا یہاں بول دو بالا دیکھا
مجاز و حقیقت
صنّاعئِ خالق کے ہیں ہم سب مظہر
باہر جو بھی دیکھیں وہ ہے اپنے اندر
یہ ظاہری دنیا تو مجازی شے ہے
باطن میں ہمارے ہے حقیقی منظر
Chiyo :
بِلّی
یہ ناز و ادا کس نے سکھائی ہے اسے؟
شوخی کی حکایت بھی پڑھائی ہے اسے!
کس نے ہے بتایا اسے رازِ الفت؟
مستی یہ کسی مے نے چڑھائی ہے اسے؟
محسن
وہ شخص مجھے روز ملا کرتا تھا
دکھ سارے مرے بانٹ لیا کرتا تھا
خود زخموں کو وہ اپنے چھپا لیتا تھا
ہر درد کے مارے کی دوا کرتا تھا
ظلم
دنیا نے بھلا کس سے وفا کی اب تک؟
بس جرمِ جنوں کی ہے سزا دی اب تک!
کب تک نظر انداز حقیقت ہوگی؟
ظلمت کی حکومت تو ہے جاری اب تک!
غم
چل چھوڑ مرے یار یہ بے کار کا غم
اِس پار کا غم اور پھر اُس پار کا غم
ہوگا وہ جو منظور خدا کو ہوگا
کس زعم میں پھرتجھ کو ہےگھربارکا غم؟
کوزہ گری
اس کوزے کی مٹی وہ کہاں سے لائے؟
کس سانچے میں ڈھالا کہ یہ نقشے آئے؟
کس بھٹی میں جھونکا تو یہ سختی آئی؟
کیا چیز پلائی کہ یہ روتا جائے؟
ابلیس کے پھندے
اِس دور کے فتنے بھی عجب طَور کے ہیں
ایمان کو خطرے بھی نئے دَور کے ہیں
گستاخ کہیں ہیں تو کہیں ہیں جاہل
ابلیس کے پھندے بھی بڑے غور کے ہیں
دنیا
دنیا یہ کہاں راضی ہوا کرتی ہے؟
ہر حال میں یہ سب سے دغا کرتی ہے
بہتے ہوئے اشکوں پہ کرے طنز سدا
ہنستے ہوئے لوگوں سے جلا کرتی ہے
خوف و خواہش
یہ وقت ہے انسان کا تگڑا دشمن
خوف اور تمنائیں بھی کافی ہیں کٹھن
لیکن یہ جو دنیا میں ترقی دیکھوں
خوف اور تمناؤں ہی کا ہے بندھن
خود بینی
دل نے مجھے ہرگز نہ بھلایا ہوتا
اک بار جو میں نے مجھے دیکھا ہوتا
مٹتا نہ کبھی نقش مٹائے راشد
جو میری نگاہوں سے میں گزرا ہوتا
لاحاصل کا شوق
جھوٹے جو فسانے سنے، لاچار سُنے
کُچھ نے جو ٹھکانے چُنے، پُرخار چُنے
جس نے جو کہانی سُنی، پوری نہ سُنی
سپنے جو سہانے بُنے، بے کار بُنے
سوال
کس کی ہے خدائی یہاں؟ تیری نہیں ہے؟
کس کی ہے خلافت یہاں؟ میری نہیں ہے؟
پھر کس کا میں بندہ ہوں جو تیرا نہیں ہوں؟
روشن ہے مری رات؟ اندھیری نہیں ہے؟
انسان
اِس شام کے پہلو میں قمر ہے کہ نہیں؟
اِس رات کے باطن میں سحر ہے کہ نہیں؟
شک ہے تو یہاں رہ کے ملائک دیکھیں
اِس خاک کے پُتلے میں جگر ہے کہ نہیں؟
ان دیکھے دشمن
اک روز ذرا ہوش ٹھکانے آئے
کچھ خوف مجھے دیکھ ڈرانے آئے
چُپ چور چلے خواب چرانے میرے
گُپ تیر مرے باندھ نشانے آئے
وارفتگی
دل جان جگر یار ہیں سارے تیرے
تن ہوش ہنر یار ہیں سارے تیرے
تیرے لئے سب سیپ سمندر موتی
من جوش نظر یار ہیں سارے تیرے
جگ بیتی
اِس فکر میں گزری ہے جوانی میری
اِس نقطے پہ ٹھہری ہے کہانی میری
ہر آج کو برباد کِیا کَل کے لئے
آج اپنی سنو سارے زبانی میری
شکستگیءِ ضبط
کب تک میَں ترے کھیل کو جھیلوں؟ مالک!
کب تک مَیں ترے میل کو ترسوں؟ مالک!
ہر وقت یہی آس ستائے مجھ کو
کب تک مَیں تری راہ نِہاروں؟ مالک!
تماشا
کل ایک ستارہ تھا کہ جُھلسا دیکھا
اور ایک سمندر تھا کہ ڈُوبا دیکھا
کل ایک کہانی تھی کہ مِٹتی دیکھی
اور ایک تماشا تھا کہ تنہا دیکھا
استقامت
جب تک کہ کوئی ایک اشارہ نہ ہوا
قسمت کا چمکدار ستارہ نہ ہوا
اُٹھنا تو بہت دُور ہے، ہلنا در سے
مجھ کو تو، مرے یار! گوارا نہ ہوا
رباعی
کچھ اپنے بھی جذبات لکھا کرتا ہوں
اوروں کی حکایات لکھا کرتا ہوں
بن جاتی ہے یوں ایک رباعی میری
دو چار میں دن رات لکھا کرتا ہوں
کچے دھاگے
کچھ ہم کو بھی رنجیدگی کی عادت تھی
کچھ ان کو ہمیں چھوڑنے کی عُجلت تھی
کچھ ہم کو بھی انجام نظر آتا تھا
کچھ ان کو نئے رابطوں کی حسرت تھی
پرتوِ محبوب
لہریں تھیں وہ پانی پہ اشارہ تیرا
بجلی تھی وہ بادل میں کہ ہنسنا تیرا
خوشبُو ہے یہ پھولوں میں کہ سانسیں تیری
دھڑکن ہے یہ دل کی کہ ہے لہجہ تیرا
شاعر
الفاظ میں جذبات ہُوں مدغم کرتا
شعلوں کو یوں شعروں سے ہُوں شبنم گرتا
بھٹکی ہوئی سوچوں کو دکھا کر رستہ
شاعر ہُوں تخیل کو ترنم کرتا
جھٹپٹا(twilight )
سناٹے مرے ساز ہوئے جاتے ہیں
کچھ رنگ بھی آواز ہوئے جاتے ہیں
سوچیں مری چُھو آئیں ستارے اکثر
اور فاش کئی راز ہوئے جاتے ہیں
سچ کی تلخی
خود سے بھی میں بیگانہ ہوا جاتا ہوں
لگتا ہے کہ دیوانہ ہوا جاتا ہوں
رشتے مری مٹھی سے گرے جاتے ہیں
تلخی بھرا پیمانہ ہوا جاتا ہوں
بِچھڑے لوگ
دل کے کسی کونے میں پڑے رہتے ہیں
آنکھوں میں نگینوں سے جَڑے رہتے ہیں
پھرتے ہیں لہُو جیسے وہ شریانوں میں
وجدان کے سینے میں گَڑے رہتے ہیں
جانشینِ اصحابِ کہف
اطراف مرے شور پبا رہتا ہے
دل خواب کے غاروں میں چُھپا رہتا ہے
تن ضعف پہ مائل ہے مرا روز بروز
من دُور ستاروں سے ورا رہتا ہے
چہرے
کوئی جو کبھی غور سے دیکھا چہرہ
آنکھوں میں نظر آیا کسی کا چہرہ
ہر تن ہی کسی اور کے گھیرے میں ہے
ہر دل پہ کھڑا دیتا ہے پہرہ، چہرہ
بادِ مخالف
ہر ممکنہ پرواز سے ہی ڈر کاٹے
ہر موڑ پہ ظالم نے مرے پر کاٹے
قدرت کو ہے منظور بلندی میری
پر کاٹے کوئی یا کہ مرا سر کاٹے
ہمدردی
سوچوں کے بکھر جانے کا غم جانتا ہوں
خوابوں کے بکھر جانے کا غم جانتا ہوں
سُن سکتا ہوں میں بَین شکستہ دل کے
اپنوں کے بکھر جانے کا غم جانتا ہوں
درد
دیکھا ہے کبھی آپ نے مرتے ماں کو؟
پایا ہے کبھی جسم سے جاتے جاں کو؟
روئے ہیں کبھی آپ لہو کے آنسو ؟
پھونکا ہے کبھی آہ سے پورے جہاں کو؟
خاک و خواب
تن تیغِ تمنا سے تڑپ، گھومے ہے
من موج میں مُرشد کے قدم چومے ہے
میں دُوری کے دُکھ سوچ سدا کُڑھتا ہوں
دِل دِید کی دُنیا میں پہنچ، جھومے ہے
جان
اک آس کے بندھن سے بندھا ہے جیون
اک یاس کے پھندے میں پھنسا ہے جیون
اک ہُوک کہ اٹھتی ہے کہیں اندر سے
اک کُوک سا سینے میں رُکا ہے جیون
رجوع
جُھکتا ہے جنوں روز ہمارے آگے
شعلے ہیں رواں خوں میں، شرارے آگے
اس طور ہوئے تیری طرف محوِ سفر
قدموں میں رہے دھول، ستارے آگے
شائستگی
اچھا نہیں نیلام ہنر کو کرنا
زیبا نہیں، بدنام بشر کو کرنا
سستا نہیں چلنا وفا کے رستے پر
آسان نہیں خون جگر کو کرنا
ماورائے حد و سرحد
اطراف کو جب آنکھ بدل کر دیکھا
خود اپنی ہی سرحد سے نکل کر دیکھا
معدوم ہوئے جاتے تھے سارے پیوند
معلوم کے لاشے پہ ٹہل کر دیکھا
کل نفس ذائقہ الموت
یہ بات مرے ساتھ سدا رہتی ہے
ہر آن یہی کان میں آ کہتی ہے
ہر ایک بھلے نیک کہ ہو بے ایماں
ہر جان، مری جان، قضا سہتی ہے
اَنْ يَّرْتَدَّ اِلَيْكَ طَرْفُكَ
میں کچھ نئے مصرعے اٹھا کے لایا ہوں
اور خوابوں کےٹکڑےاٹھا کے لایا ہوں
جانا جو آصف ابنِ برخیا کا کام
یک دم یہ ستارے اٹھا کے لایا ہوں
ملامت
ذوالنّون جو مصری ہیں، وہ اپنے رہبر
چلتے ہیں ملامت کی ڈگر پر اکثر
خود توڑ دیا کرتے ہیں خود کے بُت کو
یوں چھوڑ دیا کرتے ہیں سب ہی ہنس کر
اُڑتی نیند
آئے کہاں سے نیند جو سوچیں آئیں ؟
جائیں، جہاں سے یاد کی لہریں آئیں
پائیں کہاں سے چین سوائے اُن کے ؟
آئیں جو وہ تو ساتھ ہی سانسیں آئیں
عمل ، رد عمل
کوئی نہ کوئی بات تو ہوتی ہے ضرور
وقتی ہی سہی، مات تو ہوتی ہے ضرور
سپنا ہی سہی، ہوتا ہے وہ اپنا ہی
سپنوں میں کوئی ذات تو ہوتی ہے
فنا کی خٌو
مٹی کی جو تُو نے یہ بنائی مُورت
صُورت کو سجایا بہ کمالِ قدرت
اب خود کو مٹائے ہے یہ اپنے ہاتھوں
من موہنی مورت میں فنا کی فطرت
ایندھن
انسان ! کہ اکثر ہیں شراروں سے جلیں
خود اپنے پیارے ہی پیاروں سے جلیں
جلنا ہے تو ایسے جلیں، جیسے کہ چراغ
چھُو لیں جو اندھیرے تو ستاروں سے جلیں
فرض اور شوق
تنقید کا پہرہ ہے کڑا، ذوق کے گِرد
تکفیل کا ہے طوق، رگِ شوق کے گِرد
اشعار کہوں، اور مشقت بھی کروں
گو شعر مرے رقصاں ہیں مافوق کے گِرد
سچے دوست
گو ہم کو لگی جِیو میں ٹھوکر اکثر
سب چھوڑ گئے راہ کو مشکل پا کر
کچھ لوگ رہے ساتھ دعاؤں جیسے
یہ بات سدا رکھتی ہے مرہم دل پر
سال
یہ سال اسی حال میں اپنا گزرا
جوں خوابِ تمنا میں ہو گویا گزرا
ہر سانس کسی سوچ کو چُھوتے گزری
ہر روز کسی سوز سے ہوتا گزرا
فرقتِ دوست
لمحے تری قربت کے بھلاؤں کیسے؟
گھاؤ تری فرقت کے دکھاؤں کیسے ؟
تُو ہے کسی تُربت میں؟ یہ مانوں کیسے
دامن تری یادوں سے چھڑاؤں کیسے؟
حرفِ راشد
وجدان سے سُن کر جو لکھی کافی ہے
اک بات جو کہہ ڈالی ، وہی کافی ہے
سورج بھی ہے محتاج کبھی جگنُو کا؟
بس سنیے تو سر دھنیے، یہی کافی ہے
الصمد
وہ شاملِ محفل تو ہے لیکن چپ ہے
کچھ کہنے پہ مائل تو ہے لیکن چپ ہے
کیا کیجیے اب ایسی مسیحائی کا
وہ واقفِ مشکل تو ہے لیکن چپ ہے
بیٹی کی سالگرہ پہ:
پُر نعمت و خورسند ہو قسمت تیری
نیکوں کے مُشابہ رہے سیرت تیری
ہر ایک نیا دن تمہیں ہنستا دیکھے
ہر رات ہمیشہ رہے راحت تیری
قحط الرجال
اپنا تو یہی حالِ سُخن ہے بابا
ایسا ہی زمانے کا چلن ہے بابا
روزانہ لکھوں دل کے لہو سے اشعار
پڑھنے کا کرے کون جتن ہے بابا
اجنبی شناسا
یہ کون مجھے بھیس میں ملنے آیا؟
ہے دیس سے پردیس میں ملنے آیا!
لایا ہے وہ کچھ طور شناسائی کے!
اشکوں کے وہ سندیس میں ملنے آیا
و انا الیہ راجعون
آ دیکھ ذرا کون شناسا آیا
زخموں سے ہوا چُور وہ تنہا آیا
اب کھول ذرا پردے کا پردہ آخر
واپس وہ جسے دُورتھا بھیجا، آیا
عارضی پڑاؤ
اک روز میں دنیا سے چلا جاؤں گا
بدکار ہُوں یا میں ہُوں بھَلا، جاؤں گا
مٹ جائیں گے قدموں کے نشاں ہر جا سے
معدُوم کے سانچے میں ڈھلا، جاؤں گا
قَالُوا بَلَیٰ
ہر درد ترے در کا پتہ دیتا ہے
ہر پھول ترے رنگ بتا دیتا ہے
دیکھی ہے تری شان کئی جلووں میں
ہر چہرہ صدا " قَالُوا بَلَیٰ " دیتا ہے
حرف و سخن
افکار ہوئے شوخ شراروں جیسے
الفاظ، اندھیرے میں ستاروں جیسے
جھرنے سی مدھر بہتی رباعی میری
اشعار گریں دل پہ پھواروں جیسے
داغِ مفارقت
مٹنے ہی، سکوت اپنا مٹاجائیں گے
جائیں گے،مگر جانے سےچھاجائیں گے
ہر بار زمانے نے رلایا ہم کو
اِس بار زمانے کو رلا جائیں گے
ماخو ذ از عمرخیام
گھر سے جو میں گزرا کسی کوزہ گر کے
منہ ہوتے بھی گونگے کئی کوزے دیکھے
تب زور سے کوزہ کوئی یک دم چیخا
ہے کون بنائے ہمیں، لائے، بیچے ؟؟
شریعت
انسان پہ وارد جو حقیقت ہوگی
اُس روز ہی نافذ وہ شریعت ہوگی
مٹ جائیں گے جب ذہنوں سے باطل نقشے
تب جاکے زمیں ساری یہ جنت ہوگی
سُنی ان سُنی
آواز مری سنتے ہیں تارے سارے
افلاک تلک جاتے ہیں نالے سارے
اک تُو ہے جو سُنتا نہیں آہیں میری
ایرے سُنیں ، غیرے سُنیں، ہنس کے سارے
خواب در خواب
مجھ کو مرے ہمراز کبھی خواب میں مِل
جو تُو نے دکھایا تھا ، اسی خواب میں مِل
اُس خواب سے پہلے کے کسی خواب میں مِل
Comments
Post a Comment