رباعی

سُنی ان سُنی

آواز مری سنتے ہیں تارے سارے

افلاک تلک جاتے ہیں نالے سارے

اک تُو ہے جو سُنتا نہیں آہیں میری

ایرے سُنیں ، غیرے سُنیں، ہنس کے سارے 

Comments

Popular posts from this blog

جھنڈُو ‏اور ‏سونے ‏کا ‏ ہسّ

‏کہیں انکار کا غم ہے، کہیں اقرار کا غم ہے

غزل 32