شاعری

شعر کہنا ہے خواب کی مانند
‏سخن آتا نہیں ہے کوشش سے
‏خواب نیندوں میں چل کے آتے ہیں
‏شعر باطن میں خود کو بُنتا ہے

Comments

Popular posts from this blog

جھنڈُو ‏اور ‏سونے ‏کا ‏ ہسّ

‏کہیں انکار کا غم ہے، کہیں اقرار کا غم ہے

غزل 32