نعتیہ رباعیات
نعتیہ رباعیات
________________آفاق سے افلاک ہے رفعت اُنﷺ کی
ہر خَلق ہے پروردہ ءِ رحمتﷺ اٌن کی
قرآن ثنا خوانِ نبیﷺ ہے راشد
تُجھ سا بد کار؟ اور مدحت اُنﷺ کی؟
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
جامی و حسّان ؓ کہیں نعتِ نبیﷺ
جنّات و انسان کہیں نعتِ نبیﷺ
حُور و جبریل اعلانِ شان کریں
آیاتِ قرآن کہیں نعتِ نبی ﷺ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
آقاﷺ ،کہ دو عالم کے ہیں سُّچے سُلطان
دیتا ہے گواہی یہی سَچّا قُرآن
رہتی ہے درودوں کی ہمیشہ برسات
رفعت پہ ہے مائل پَل پَل اُن کی شان
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اللہ کی صنعت ہے یہ ساری خلقت
ہر سمت نظر آئے اسی کی قدرت
دریائے درودی بہے اک ہی جانب
آقاﷺ کے ذکر کو ہے مسلسل رفعت
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
معراج کا ہے تاج سجا آپﷺ کے سر
سب تاجوروں کےجُھکے سر، آپﷺ کے در
امت کے شفیع آپ ہیں پیارے آقاﷺ
فردوس سےبڑھ کر ہےہمیں آپﷺ کا گھر
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
وہ سرورِ عالم ہیںﷺ وہ سرکارِ جہاںﷺ
پاتے ہیں شفا انﷺ سے ہی بیمارِ جہاں
ہوتی ہے اسی در سے سب ہی کو عطا
محبوبِ خدا ہیں کہ ہیں سردارِجہاںﷺ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اُنﷺ کی ہے یہ چاہت کہ میں چاہوں اُنﷺ کو
ہےکیا مری وقعت کہ میں چاہوں اُنﷺ کو؟
خود وہﷺ جسےچاہیں وہی چاہے اُنﷺ کو
اللہ تری قدرت کہ میں چاہوں اُنﷺ کو
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اٌنﷺ کی ہے اجازت جو ہو عشق عطا
ہے کیا کوئی وقعت جو ہو عشق عطا؟
خود آپﷺ کی جانب سے عنایت ہر ایک
اللہ کی ہے رحمت جو ہو عشق عطا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اُنﷺ کی ہے یہ چاہت جو ملے عشق اُن ﷺکا
ہے کیا مری وقعت جو ملے عشق اُنﷺ کا
خود آپﷺ عطا کرتے ہیں الفت اپنی
اللہ تری رحمت جو ملے عشق اُنﷺ کا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
یوں کاسہ ءِ الفاظ بھرا، اللہﷻ نے
کی مجھ کو عطا شعر سرا ، اللہﷻ نے
محبوبﷺ کی مجھ کوعطا مدحت کردی
باطن میں دیا دِیپ جلا، اللہﷻ نے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
امت کے ہیں غمخوار ہوئے پیارے نبیﷺ
نبیوں کے وہ سالار ہوئے پیارے نبیﷺ
رحمت کی وہ برسات بنے سب کے لئے
دو جگ کےہیں سردار ہوئے پیارے نبی ﷺ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
آغاز تا انجام، سبھی آپﷺ کا ہے
جس کا بھی ہے جو نام وہی، آپﷺ کا ہے
غائب ہوں کہ موجود ہوں سب آپﷺ کے ہیں
کوثر ہو کہ ہو جام کوئی، آپﷺ کا ہے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
سرکارِ دو عالمﷺہیں کہ شاہِ زماںﷺ ہیں
رحمت کا ہیں سایہ، شہِ کون و مکاںﷺ ہیں
وہ حامد و محمودﷺ بھی، حق و امیںﷺ بھی
اللہﷻکے وہ محبوبﷺ ہیں، جانِ جہاںﷺ ہیں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
انسان پہ احسان سدا آقاﷺ کا
اسلام کہ قرآن، دِیا آقاﷺ کا
الکوثر و فردوس، وفا آقاﷺ کی
اللہ کا ہے فرمان، کہا آقاﷺ کا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
خاکِ پائے شاہِ مُرسلﷺ ہوئے ہیں
وہ سارے رتبے جو کہ افضل ہوئے ہیں
آواز سے بھی پست سبھی آوازیں
درجے آقاﷺ کے ایسے اکمل ہوئے ہیں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
داتاﷻکے خزانوں میں کمی کوئی نہیں
دُوری، بہ وسیلہِٴ نبیﷺ کوئی نہیں
"شہ رگ سےبھی نزدیک ہوں"،اللہﷻنےکہا
دل سے اٹھی رائیگاں گئی کوئی نہیں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
صادقﷺ، شہِ ابرارﷺ، رسولِ عربیﷺ
قَوِیُّﷺ، سپہ سالارﷺ، رسولِ عربیﷺ
کامل ہُوا کردار تو اکمل درجات
خاتم ہوئے سرکار رسولِ عربی ﷺ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
سب لوگوں کے غمخوار رسولِ عربیﷺ
کُل نبیوں کے سردار رسولِ عربیﷺ
سیرت سے ہے مہکی ہوئی ساری تاریخ
صورت کے ہیں شہکار رسولِ عربیﷺ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
خلقت کے لئے پیکرِ رحمت ہیں آپﷺ
امت کے لئے عین شفاعت ہیں آپﷺ
انسان پکارے جہاں "نفسی نفسی"
بس، جائے سُکوں بینِ قیامت ہیں آپﷺ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
دل، روح و نظر کو بھی کروں نعتِ نبیﷺ
اور خونِ جگر سے میں لکھوں نعتِ نبیﷺ
آقائے دو عالمﷺ جو ہوں تشریف آور
حسرت ہے قیامت میں پڑھوں نعتِ نبیﷺ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
مالکِ کوثرﷺ
اللہ نے ہے انﷺ کو عطا کردی کوثر
قربانی و سجدہ کریں آقاﷺ اکثر
اس بات میں گنجائشِ تشکیک نہیں
سب آپﷺ کے دشمن ہی رہیں گے ابتر
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اعلانِ توحید بزبانِ رسالتﷺ
کہہ دیجیے محبوبﷺ ! احد اللہ ہے
اس کی ہے یہی صفت، صمد اللہ ہے
ہمسر کوئی اسکا نہ کوئی ثانی ہے
والِد نہیں کوئی، نہ ولَد اللہ ہے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
انوار کی ہر آن ہے برسات وہاں
بگڑیں جو سنور جاتے ہیں حالات وہاں
ہے خاک مدینے سے مری دور بڑی
من میرا مگر رہتا ہے دن رات وہاں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
انساں جو یہاں حُبِّ نبیﷺ رکھتا ہے
جنت میں وہی قُربِ نبیﷺ رکھتا ہے
آقاﷺ کی عنایت سے ہی ایسا ہوگا
کب تاب کوئی رُعبِ نبیﷺ رکھتا ہے؟
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
آقاﷺ ہی سبھی چاہتوں کے مرکز ہیں
اور آپﷺ سبھی رفعتوں کے محور ہیں
ہیں
آپﷺ ہی تو عشق کی بنیاد و اخیر
خلقت کے لئے رحمتوں کے مظہر ہیں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
عاجز ہوں نِرا اور قوی اُولیٰﷻ تُو ہے
کھاتا ہوں ترا اور مِرا داتاﷻ تُو ہے
محبوبﷺ کی خاطر مری جھولی بھردے
بندہ ہوں ترا اور مرا اللہﷻ تُو ہے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
کلیوں نے تبسم یہ ہے سیکھا انﷺ سے
پھولوں نے ذرا روپ ہے پایا انﷺ سے
کُل ذرّوں سے زائد ہو درود آقاﷺ پر
ہر ایک نے پایا، جو ہے مانگا انﷺ سے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
آقاﷺ سُوئے اقصی چلے معراج کی رات
سب آپﷺ کے پیچھے کھڑے معراج کی رات
اقصی سے بھی آفاق تا لولاک گئے
تنہا وہﷺ خدا سے ملے معراج کی رات
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
کردار، مہکتے ہوئے جو پُھول رہے
سب آپﷺ کے قدمین کی ہیں دُھول رہے
انسان وہی تو ہیں گِنے زندہ گئے
عشقِ شہِ بطحاﷺ میں جو مشغُول رہے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اِس مٹی کی مورت کو ہے رونق بخشی
انسان کی قسمت کو ہے رونق بخشی
آقاﷺ جو زمیں پر نبی بن کر آئے
آقاﷺ نے رسالت کو ہے رونق بخشی
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
ایمان کے ہونٹوں پہ ہنسی، اُنﷺ کے طفیل
انسان کے سینے میں خوشی، اُنﷺ کے طفیل
اجرام کی گردش کا سبب آپﷺ ہوئے
انفاس کی محفل یہ سجی، اُنﷺ کے طفیل
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
تُو قادرِ مطلقﷻ ہے تو مجبور ہوں میں
تُو پاس رگِ جاں کے مگر دور ہوں میں
دُکھ درد ہوں سب دُور طفیلِ نبیﷺ سے
یہ عرض ہو منظور کہ رنجور ہوں میں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اے کاش مری آنکھیں وہاں جا سکتیں
اک جھلکی نظارے کی عیاں پا سکتیں
ہجرت نے جو یثرب کو منور دیا کر
قدمین تلے ، پلکوں کو بچھا سکتیں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
ملتا ہے اجازت سے فرشتہ انﷺ سے
جُز اللہ کے کوئی نہیں اُولیٰ انﷺ سے
اس رتبے پہ فائز ہیں مگر رحمت ہیںﷺ
امت کو شفاعت کا ہے مژدہ انﷺ سے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
رتبے مرے آقاﷺ کے کوئی جانتا ہے؟
بھیجا ہے انھیں جس نے وہی جانتا ہے
الفاظ ہیں قرآن میں ایسے بھی کئی
قاری جنہیں تعریفِ نبیﷺ جانتا ہے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
انسانوں کی کثرت کو ہے دولت سے ہی پیار
دولت سے کہیں بڑھ کے ہے عترت سے ہی پیار
اکثر کو ہی اولاد سے بڑھ پیاری جاں ہے
مؤمن جسے بس شاہِ رسالتﷺ سے ہی پیار
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
ثانی نہیں اُنﷺ کا نہ ہی سایہ کوئی
آیا نہیں اُنﷺ سا نہ ہی ہوگا کوئی
تابع ہے جو اُنﷺ کا وہی اللہ کا ہے
اللہ نہیں اُس کا جو نہ اُنﷺ کا کوئی
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
وجدان، دل، ایمان کروں پیارے نبی ﷺ
یہ جان بھی قربان کروں پیارے نبیﷺ
سو جان بھی ہو، آپﷺ کے شایان نہیں
قربان میں سو جان کروں پیارے نبیﷺ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
دل سے تو ہمیں بس وہ ہے پیارا لگتا
من کو تو وہی فرد ہے سچا لگتا
عشقِ نبی ﷺ کی جس سے ہو آتی خوشبُو
ہم کو تو وہی شخص ہے اپنا لگتا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
ہم نے تو یہی ٹھان لیا ہے صاحب
اک ذاتﷺ کو ایمان کِیا ہے صاحب
اب آنکھ کہیں اور نہیں دیکھتی یہ
جب دل یہ انہیںﷺ مان چکا ہے صاحب
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
آقاﷺ ہی تو ہیں دِین سکھانے والے
اور آپﷺ ہی قرآن سنانے والے
آقا ﷺنے دیا سب کو پتہ اللہ کا
خود سے بھی تھے بے گانے زمانے والے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
آج آئے نبی پاکﷺ مدینے آئے
انصار کو جینے کے قرینے آئے
آپﷺ آئے تو یثرب میں چلی ٹھنڈی ہو
ساتھ انﷺ کے ہی رحمت کے سفینے آئے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
وہ رحمتِ عالم وہ شفیعِ مُذنِبﷺ
وہ سروَرِ عالم ہیں وہ اوّل و عاقبﷺ
وہ ہادی ءِ برحق ہیں وہ طیب و طاہرﷺ
اللہ کا درود آتا ہے انﷺ کی جانِب
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
انساں کے لئے آپﷺ مثالِ کامل
اس جستجو کے آپﷺ اکیلے حاصل
سب ظلمتوں میں آپﷺ ہی تو نورِ ہدیٰ
حق آگیا تو مٹ گئے سارے باطل
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
حق بات سنو آج ذرا دھیان کے ساتھ
آقاﷺ کا ہے احسان مسلمان کے ساتھ
دھڑکن ہے جڑی جیسے دھڑکتے دل سے
آقاﷺ کی محبت یونہی ایمان کے ساتھ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
مکڑی میں کوئی جو کہیں بیٹھی دیکھوں
ماضی میں سفر کرتے ہوئے تب سوچوں
چھوٹی سی ہی مکڑی تھی وہ ہجرت والی
قسمت کی بلندی پہ میں واری جاؤں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
بولے تو اسی خوبﷺ کا سر چڑھ جادُو
پھیلی ہے اسی ذاتﷺ کی ہر سُو خوشبُو
پڑھتی ہے اسی اسمﷺ کا خلقت کلمہ
گونجا ہے یہی نامِ محمدﷺ ہر سُو
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
الفاظ کسی طور نہیں ہیں اِتنے
ہوں نور کے ذروں بھلے تاروں جِتنے
لوح اور قلم بھی تو رہیں گے قاصر
اوصاف بیاں انﷺ کے کریں کیسے؟کِتنے؟
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
دکھ درد کے ماروں کے سہارے وہﷺ ہیں
اصحاب ہوئے جن کے ستارے، وہﷺ ہیں
امت کا وسیلہ ہیں خدا کی جانب
تو اللہ کے محبوب پیارے وہﷺ ہیں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
سوچو! نہ اگر آپﷺ بتاتے ہم کو
جو اچھا برا یوں نہ دکھاتے ہم تو
واللہ! سبھی لوگ ہی اسفل ہوتے
آقاﷺ جو نہ اسلام سکھاتے ہم کو
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
شامل ہوئی ایمان میں الفت انﷺ کی
دائم رہے دن رات ہی مدحت انﷺ کی
بے جان حنانا کو وہ دھڑکن دے دیں
بے کس پہ کرم کرنا ہے عادت انﷺ کی
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
دیکھے گی قیامت میں یہ امت انﷺ کی
اس یوم کو کام آئے گی نسبت انﷺ کی
جب آنکھ چرائیں گے یہ خونی رشتے
کس طَور سےچھا جائےگی رحمت انﷺ کی
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اے حُسنِ ازل، آپﷺ کا جوبن قائم
اطوار، سرِ درجۂِ احسن قائم
ہے آپﷺ کی ہر عادت و سنت اکمل
توحيد و رسالت کا ہے بندھن قائم
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
کس درجہ پہ ہے آپﷺ کی رفعت پہنچی؟
اس بات کی تہہ تک نہیں خلقت پہنچی
اصل انﷺ کی وہی جانیں یا اللہ جانے
ہم تک تو جو پہنچی ہے تو رحمت پہنچی
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اللہﷻ و محمدﷺ کے ہیں اسما یکجا
توحید و رسالت کے ہیں اجزا یکجا
دو اسم جو باہم ہوں تو کامل ایماں
دو ذاتِ گرامی سرِ کلمہ یکجا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
غزوہءِ بدر میں لڑے خونی رشتے
انصار و مہاجر سگے بھائی جیسے
ڈھونڈیں گی نگاہیں کوئی اور ہی نسبت
نظریں نہ ملا پائیں گے جس دن اپنے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
قربت ہے نبی پاکﷺ سے، جنت اصلی
دوزخ تو حقیقت میں ہے انﷺ سے دوری
کنکر انھیںﷺ پہچان کے پڑھ لیں کلمہ
نسبت ہی بڑی سب سے حقیقت ٹھہری
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
کس موڑ پہ دیکھو یہ کہانی آئی
اپنے بھی سخن پر ہے جوانی آئی
آقاﷺ سے غلامی کی عطا ہے راشد
اپنی جو رباعی میں روانی آئی
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
یثرب میں اندھیرا ہی تو چھایا رہتا
قدمین مبارک جو نہ رکھتے آقاﷺ
باطن جو ہو یثرب تو مدینہ کرلیں
روشن کریں واں عشقِ محمدﷺ کا دِیا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
فتحِ مکہ
غمخوارِ اُممﷺ جب سُوئے مکّہ آئے
سردارِ حرمﷺ تب سُوئے کعبہ آئے
آپﷺ آگئے تو مِٹ گئے سارے باطل
بُت سارے بھسم ہوگئے، آقاﷺ آئے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی شہرہ آفاق نعت کا رباعیانہ ترجمہ:
احسن نہ کسی آنکھ نے اُنﷺ سا دیکھا
اجمل نہ کسی ماں نے جنا ہی اُنﷺ سا
بے عیب ہے خالق نے انہیںﷺ خَلق کیا
وہﷺ حسبِ تمنا ہی بنے ہوں گویا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
دِل روتا ہے اور آنکھ تمنائی ہے
یہ سچ ہے کہ اب جان پہ بن آئی ہے
مجھ کو بھی مدینے سے بلاوا آئے
بدکار کے بس بات یہ من آئی ہے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اوقات سے بڑھ خواب کمینہ دیکھے
دل کی یہی چاہت کہ مدینہ دیکھے
جب دیکھے ذرا جھانک کے اپنے اندر
خواہش کو تب آیا یہ پسینہ دیکھے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
انسان کہ دنیا کا تمنائی رہا
اور عشق تقاضا کرے صدق و وفا کا
انسان کا ایمان تبھی ہو کامل
جو جان سے بڑھ ہوں اسے پیارے آقاﷺ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
بُو طالبؓ و شیبہؓ کے پیارے، آقا ﷺ
شیماؓ نے کھِلائے وہ دُلارے آقاﷺ
باغِ بنو ہاشم کے گُلِ ہوش رُبا ﷺ
اللہ کے وہ محبوب، ہمارے آقاﷺ
(سیدنا شیبہ بن ہاشم المعروف عبدالمطلب۔
شیما، حضورﷺ کی ہمشیرہ اور سیدہ حلیمہ سعدیہ کی صاحبزادی )
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
انسان کے حق کا سبھی منشور دیا
یکساں ہیں مسلمان یہ دستور دیا
اُس آخری خطبے میں مرے آقاﷺ نے
جینے کا قرینہ ہمیں بھرپور دیا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
ڈاچی کی بھی قسمت ہے ابھاری، صدقے
انمول ہوئی اُنﷺ کی سواری، صدقے
ایوبؓ کے گھر جاکے رکی ہجرت میں
سب حکمتِ قصوا پہ ہیں واری صدقے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
ہوتا تھا جہاں بیٹی کا جینا دوبھر
قبروں میں وہ ڈال آتے تھے زندہ دُختر
آقاﷺ نے واں فرمایا، ہے بیٹی رحمت
دُختر کے لئے اپنی بچھا دی چادر
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
طائف میں تھے محبوبﷺ نے کھائے پتھر
خندق میں گئے پیٹ پہ باندھے پتھر
امت کے لئے پھر بھی سراپا رحمت
شفقت سے کئے موم جو دل تھے پتھر
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
انصار نے گایا تھا ترانہ، اُنﷺ کا
کُل وقتوں سے بہتر ہے زمانہ اُنﷺ کا
صدقہ نہیں لیتے وہ گِنے پاک گئے
پنجتن ہوئے یا کہ گھرانہ اُنﷺ کا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
ہے حسن سے بھرپور ہر ایک افسانہ
ہر کوئی کہے، "عشق میں ہُوں دیوانہ"
اُس عشق و محبت کے طلب گار ہیں ہم
جو شمعِ رسالتﷺ کا کرے پروانہ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
پُر نور ستارہﷺ جو ازل سے چمکے
صفحات کتابوں کے مَثَل سے چمکے
آقاﷺ نے دی جو مکہ میں پہلی دعوت
شَمْسُ الضُّحیٰ بن کےوہﷺ جبل سے چمکے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
وہﷺ خالق و مخلوق کے محبُوب ہوئے
اُنﷺ کے ہی وسیلہ سے سبھی خُوب ہوئے
آقاﷺ کی غلامی کی مُہر جن پہ لگے
تب اور کسی سے کہاں مرعُوب ہوئے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
عید اُن کی ہوئی، دید کی امید جنہیں
وہ دید کریں، آن مِلی عید جنہیں
اُس دِید بِنا دیدے یہ کِس کام کے ہیں؟
ہیں نین وہی، اُن ﷺ کی ہوئی دِید جنہیں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
آقاﷺ کی محبت پہ جو وارے خود کو
گر عشق سمندر میں اتارے خود کو
ایسا ہی چمک دار بنے گوہر وہ
دیکھیں تو کہیں ماند ستارے خود کو
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
قدمین کے دھوون پہ ہو زَم زَم قُربان
نعلین مبارک پہ ہوئے ہَم قُربان
ہو جنتِ فردوس فدا روضے پر
آقائے دو عالمﷺ پہ دو عالَم قُربان
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
جبریل تو ہے خادم و دربانِ نبیﷺ
ہر امتی کی جان پہ احسانِ نبیﷺ
وَالْعَصْر ! وہ محفوظ خسارے سے رہا
تھاما ہے یہاں جس نے بھی دامانِ نبیﷺ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
آقا ﷺ کو جو لجپال لکھا جاتا ہے
ایمان کا اقبال لکھا جاتا ہے
قرطاس پہ یوں نعت لکھی جاتی ہے
جوں نامَۂِ اَعمال لکھا جاتا ہے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
کِرنوں سے بھی پاکیزہ ہے دامن اُنﷺ کا
رستہ تو ہےسورج سےبھی روشن اُنﷺ کا
ہے گردِ سفر اُنﷺ کی ستاروں جیسی
لا ریب کہ ابتر رہے دُشمن اُنﷺ کا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
لولاک کے گنبد کے تلے اُنﷺ کی شان
امکان کی حد سے بھی پرے اُنﷺ کی شان
اللہ نے ہے قرآن میں یہ فرمایا
ہر آن سدا بڑھتی رہے اُنﷺ کی شان
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اک بھیدﷺ خیالوں کے کسی قد سے پرے
اک حُسنﷺکہ آنکھوں کی کسی حد سے پرے
اک نُورﷺ پرے گھور اندھیروں سے رہے
اک پھولﷺ خزاؤں کی کسی زد سے پرے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
ہر دشمنی، آقائے دو عالمﷺ کے لئے
ہر دوستی،آقائے دو عالمﷺ کے لئے
ہر ایک سے رشتہ ہے انہیﷺ کی نسبت
یہ زندگی، آقائے دو عالمﷺ کے لئے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
جس نے بھی ہے مانا اُنہیںﷺ، سب جان گیا
جس نے بھی ہے جانا اُنہیںﷺ ،سب مان گیا
جس راہ سے وہﷺ گزرے وہ گلزار ہوئی
جس نے بھی ہے دیکھا اُنہیںﷺ، قربان گیا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
#حرفِ_راشد #نعتیہ_باعی #رباعیءِ_راشد #رباعيات
Comments
Post a Comment