شام

 شام آئی ہے کہ تاروں کا پیام آیا ہے

رات آئی ہے کہ بِچھڑوں کا سلام آیا ہے

یاد اُن کی ہے کہ رنگوں کا فوارہ چُھوٹا
خواب آیا ہے کہ دھڑکن کو دوام آیا ہے

Comments

Popular posts from this blog

جھنڈُو ‏اور ‏سونے ‏کا ‏ ہسّ

‏کہیں انکار کا غم ہے، کہیں اقرار کا غم ہے

غزل 32