غزل
دردِ دل کی دوا نہیں ملتی
تیرے دل میں جگہ نہیں ملتی
میں نے ڈھونڈا چراغ لے کے اسے
اس جہاں میں وفا نہیں ملتی
منصفوں کو خراج ملتا ہے
مجرموں کو سزا نہیں ملتی
آتے آتے ہی ہوش آتا ہے
زِیرکی پل میں آ نہیں ملتی
آپ سے کوئی آس کیونکر ہو؟
آپ سے تو دعا نہیں ملتی
Comments
Post a Comment