شافع محشر ﷺ:



الاماں! وہ   سماں قیامت کا
قہر و رنج و فغاں قیامت کا

نفسی نفسی پکارتا ہوگا
ہر کوئی دُھول میں اٹا ہوگا

نظریں اپنوں سے سب چرائیں گے
“ کوئی  نیکی نہ مانگے” سوچیں گے

ماں سے بیٹا کہ چھپ رہا ہوگا
ماں نہ پوچھے گی حال بیٹے کا

بھائی بھائی سے بھاگتا ہوگا
باپ  دھتکارے گا سگا بیٹا 

کام اپنے نہ کوئی آئیں گے
انبیا تک  پناہ مانگیں  گے

سب کے  اعضا سبھی دغا دیں گے
ہر گواہی وہ برملا  دیں گے 

حق تو  یہ  ہے کہ بے وفا ہوگا
 پیارا دنیا میں جو رہا ہوگا

ایک ہی خوف ڈس رہا ہوگا
 آج  انجام جانے کیا ہوگا

ہاں مگر ایک آسرا ہوگا
جو کہ محشر میں  باوفا ہوگا

بن کے برسے گا ابر رحمت کا
دُور کردے گا خوف اُمّت کا

سید المرسلین ﷺ ہونگے وہ
رحمتِ عالمین ﷺ ہوں گے وہ


Comments

Popular posts from this blog

جھنڈُو ‏اور ‏سونے ‏کا ‏ ہسّ

‏کہیں انکار کا غم ہے، کہیں اقرار کا غم ہے

غزل 32