لبیک اللہم لبیک

گم سم اور حیران کھڑا ہوں
تیرے در پر آن کھڑا ہوں
اپنی غلطی مان کھڑا ہوں 
اک نادم انسان کھڑا ہوں

یا ارحم رحمان خدایا 
پورے کر ارمان خدایا  
میرا تو ہی مان خدایا  
تجھ پر ہے ایمان خدایا

مجھ کو تُو ہر آن عطا کر
اپنے در سے دان عطا کر
بخشش کا سامان عطا کر
خود اپنی پہچان عطا کر

اشکوں سے نمناک نگاہیں
مجھ کو دے دے پاک نگاہیں
مومن اور بے باک نگاہیں
دشمن پر ہوں دھاک نگاہیں 

عاجز کی توقیر بڑھا دے
راشد کی تقدیر سجا دے
قاصر کی تقصیر مٹا دے 
دل اپنی جاگیر بنا دے

Comments

Popular posts from this blog

جھنڈُو ‏اور ‏سونے ‏کا ‏ ہسّ

‏کہیں انکار کا غم ہے، کہیں اقرار کا غم ہے

غزل 32