کاش اتنی سی مجھ میں ہمت ہو
کاش اتنی سی مجھ میں ہمت ہو
کہہ سکوں ، "تم مری محبت ہو"
شعر موزوں مرا تبھی ہو گا
دونوں مصرعوں میں تیری صورت ہو
مجھ کو تو تم سے سروکار نہیں
ہاں مرے شعر کی ضرورت ہو
ایک صبح ہو کوئی ایسی بھی
جس سے ملنے کی ہم میں ہمت ہو
گیلی لکڑی سے آشنائی کیا
عشق وہ ہے کہ جس میں شدت ہو
تم سے کتنا عجیب ناطہ ہے
میری کمزوری اور قوت ہو
اب تو اتنی سی آرزو ہے مری
سامنے وہ ہوں اور فرصت ہو
Comments
Post a Comment