تعارفِ کتاب

‏جنابِ غالب نے تو فرمایا تھا کہ 

‏“سو پشت سے ہے پیشۂ آبا سپہ گری”

‏جہاں تک مجھ خاکسار کا تعلق اور علمِ ناقص ہے، اس کی دھندلی روشنی میں یہی کہہ سکتا ہُوں کہ میرے پُرکھوں کا پیشہ، سپہ گری، کاشت کاری ، یا تجارت کچھ بھی رہا ہو، شاعری ہرگز نہ تھا۔ 

‏گو بچپن ہی سے قلّتِ مال و متاع کے باوجود ، اپنے گھر میں مطالعہ اور علم دوستی کا وفُور پایا۔ اس لئے سکول سے قبل ہی مطالعہ سے آشنائی اور کتابوں سے اٹھتی بھینی بھینی خوشبو سے دلربائی ہوچکی تھی۔ 
‏پھر یہ محبت شاید عشق و جنون میں ڈھل گئی۔ سکول کی پہلی کتاب میری پہلی محبوبہ تھی۔ یُوں زندگی ان گنت محبتوں میں بسر اور بے شمار محبوباؤں کی نذر ہوتی چلی گئی۔  

‏مطالعے کا سلسلہ تو جاری رہا البتہ چالیس سال تک ڈائری، خطوط، سکول و کالج کے نوٹس ، انواع و اقسام کے مُلکی و غیر ملکی درخواستی فارمز اور زوجۂِ محترمہ کی بتائی خریداری کی لسٹ کے علاوہ کچھ نہ لکھا۔ یکایک زندگی نے عجب کروٹ لی اور خاکسار نے لکھنا شروع کردیا۔ ابتداءً نثر اور پھر نثر چلتے چلتے شعر کا روپ دھار گئی۔ جیسے کوئی بتدریج بچپن سے شباب میں داخل ہوجائے۔ 

‏البتہ نعتیہ کلام کا خیال آتے ہیں وجود میں خوف کی تیز دھار لہر اٹھتی جیسے کسی آہُو نے شیر کی جھلک دیکھ لی ہو۔ 

‏اچانک ایک دن بوقتِ عصر کرم ہوگیا، خوف ، کیف و سرور میں بدل گیا اور الحمدللّٰہ اولین نعت عطا ہوئی۔  

‏روایتی نعت کہتے کہتے ، رُخ نعتیہ رباعی کی طرف مُڑ گیا۔ یوں نعتیہ و منقبتیہ کلام و رباعیات کا ایک گلدستہ جمع ہوگیا۔ 
‏اب دن رات اس گلدستے کو بچپن کی محبت ، کتاب، کی صورت میں دیکھنے کی آرزو مچلنے لگی۔ 

‏البتہ اپنے نعتیہ کلام کی اشاعت سے پہلے ، اسی ذاتِ اقدس ﷺ کے قدمین مبارک میں شرفِ باریابی کے بعد،

‏انہی کی خدمتِ اقدس میں ﷺ عرضِ احوال کی تمنا تھی، جن ﷺ 

‏کی شان کا بیان و عنوان تھا۔  

‏تاکہ بارگاہِ رسالت مآب ﷺ سے سندِ قبولیت عطا ہوجائے۔ 

‏الحمدللّٰہ حال ہی میں اس گناہ گار امتی کو حاضری کا اذن و شرف ہوا اور مجھ سا سیاہ کار ، روضۂِ اطہر پہ حاضر ہوکر سارا نعتیہ کلام آقائے دوعالم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں پیش کر آیا ہے۔ 

‏میرا پہلا نعتیہ و منقبتیہ شعری مجموعہ

‏ ⁧‫کُشتۂِ_خاکِ_حجاز‬⁩  

‏بطفیلِ سرکارِ دوعالم ﷺ ، شائع ہوچکا ہے  


Comments

Popular posts from this blog

جھنڈُو ‏اور ‏سونے ‏کا ‏ ہسّ

‏کہیں انکار کا غم ہے، کہیں اقرار کا غم ہے

غزل 32