رباعی

متاعِ فِکر و فن 

 افلاک کہ فنکار کے آماج ہوئے 
سردار نہ دستار کے محتاج ہوئے 
ہم کو بھی عطا سلطنتِ فکر ہوئی 
ہم بھی تو ہیں بے تاج، مہاراج ہوئے

Comments

Popular posts from this blog

جھنڈُو ‏اور ‏سونے ‏کا ‏ ہسّ

‏کہیں انکار کا غم ہے، کہیں اقرار کا غم ہے

غزل 32