بات وہ ہو جو دل کو لگتی ہو
بات وہ ہو جو دل کو لگتی ہو
بات ایسی جو تیری میری ہو
خواب ایسے جو تیرے جیسے ہوں
نیند ایسی جو خواب جیسی ہو
من کے آنگن میں پھول کِھلتے ہوں
پیار کی رُت بہار کی سی ہو
جھانک کر آنکھ، دل کو پڑھ ڈالے
لفظ جس میں نہ ہوں، وہ بولی ہو
آنکھ کو بھائے آنکھ میں نہ چُبھے
پھول پر اس قدر ہی سُرخی ہو
ساری دنیا حسِین ہے راشد
سادگی حُسن کی کسوٹی ہو
Comments
Post a Comment