بلوری گولی
بلوری گولی :
————
جیسا کہ آپ جان ہی چکے ہیں کہ ناناجی کا گاؤں، جالندھر شہر کے نواح میں تھا۔ اس زمانے میں میڈیکل ڈاکٹر تو قریب قریب ناپید تھ اور شاید بڑے شہروں اور امیر لوگوں کو میسر تھے البتہ طبی حکماء کرام وافر تھے۔ جالندھر میں ایک مشہور حکیم عظمت اللّٰہ صاحب تھے جن کے پاس دُور دراز کے علاقوں سے مایوس مریضوں کو لایا جاتا تھا۔ ناناجی بتاتے ہیں کہ حکیم صاحب مریض کا چہرہ دیکھ کر ہی بتا دیا کرتے تھے کہ علاج ان کے بس میں ہے یا کہ نہیں۔ قابلِ علاج مریض ان کی دوائی سے شفایاب ہوجاتا اور جس مریض کا علاج ان کے پاس نہ ہوتا اس کے لواحقین سمجھ جاتے کہ یہ مریض کے لئے پیغامِ اجل ہے۔ اس زمانے میں مریضوں کو چارپائی پر ڈال لے جایا جاتا تھا۔ حکیم صاحب اگر اسی یا قریبی گاؤں میں ہوتے تو چارپائی کو دو چار لوگ اٹھا کر لے جاتے اور اگر دُور جانا ہوتا تو چارپائی بیل گاڑی پر رکھ کر لے جائی جاتی۔
کاتک (اکتوبر نومبر کے قریب کا مہینہ) کسانوں کے لئے انتہائی مصروف مہینہ ہوتا تھا۔
پنجابی کا محاورہ
“کَتّے دا کَس” (کاتک کا بخار یا کاتک کی مصروفیت ) اسی مصروف ماہ کی بہ نسبت ہے۔ یعنی انتہائی مصروف شخص کو کہا جاتا ہے کہ اسے
“کَتّے دا کَس چڑھیا ہویا”۔ (فلاں کا کاتک کابخار چڑھا ہوا ہے)
کاتک میں یہ مثالی و غیرمعمولی مصروفیت اس لئے ہوتی تھی کہ ایک طرف تو کپاس ،دھان ، باجرے اور مکئی کی فصلیں پک کر تیار ہوچکی ہوتی تھیں تو دوسری طرف گندم کی بوائی کا موسم سر پر ہوتا ہے۔ چونکہ اس دَور میں پنجابی کسان نے ٹریکٹر اور دیگر مشینوں کا نام تک نہ سنا تھا اور تمام کاشت کاری کا انحصار اپنے ہاتھوں یا اپنے جانوروں پر ہوا کرتا تھا، اس لئے کاتک کے ایک ماہ کے محدود وقت میں بہت سا کام جمع ہوجاتا ہے۔
کاتک کی ایک ایسی ہی مصروف صبح کو ناناجی اپنے بھائیوں کے ساتھ کام میں مصروف تھے کہ ان کے کُھوہ پر ایک بیل گاڑی آکر رکی جس پر ایک چارپائی اور چند مرد و خواتین تھے۔ جو اس بات کی نشاندہی تھی کہ کسی مریض کو جالندھر میں حکیم عظمت اللّٰہ صاحب کے پاس لے جایا جارہا ہے۔
چونکہ جالندھر وہاں سے آدھے دن کی مسافت پر تھا اور ان کو وہاں پہنچنے کی جلدی تھی اس لیے وہ لوگ غالباً مریض کو پانی پلانے کی غرض سے رکے تھے۔
ناناجی نے ان کو سلام کیا اور حال احوال دریافت کیا ساتھ ہی کن انکھیوں سے چارپائی پر پڑے مریض کو دیکھا تو دنگ رہ گئے۔ وہ ایک کڑیل نوجوان تھا اور اس عمر میں لوگ بہت کم بیمار ہوا کرتے تھے۔ اس کے جسم پر ایک کھیس (دیسی کمبل) تھا جس کے اندر مریض بے چینی سے پہلو بدل رہا تھا اور منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑا رہا تھا۔ ساتھ جانے والوں میں اس کا ایک بڑا بھائی ، ایک چچا زاد بھائی اور والدہ تھے۔ اچانک مریض نے زور سے “گولی میری گولی “ کا نعرہ لگایا اور ٹانگ کی ٹھوکر سے کمبل پرے دکھیل دیا تو ناناجی نے دیکھا کہ اسے چارپائی کے ساتھ رسی اور کپڑوں کے ذریعے باندھا گیا تھا۔ دونوں بھائیوں نے تھوڑی تگ و دو کے بعد اس کی ٹانگ دوبارہ باندھ دی اور کمبل اوڑھا دیا۔
مریض بار بار بے چینی سے اپنا سر دائیں بائیں گھماتے ہوئے کبھی آہستہ اور کبھی زور زور سے
“گولی ہائے میری گولی ، مجھے میری گولی چاہئے”
کی تکرار کررہا تھا۔ ناناجی بھانپ گئے کہ وہ نوجوان جسمانی نہیں بلکہ ذہنی مریض تھا۔
ناناجی کا تجسس اس نوجوان کی حقیقت جاننے کے لئے مچل اٹھا مگر حالات مناسب نہ تھے۔ وہ لوگ جلدی سے پانی پی کر اور گھڑا بھر کر رخصت ہو گئے اور ناناجی ان کے متعلق سوچتے دوبارہ کام میں جُت گئے۔
اگلے دن دوپہر کو وہ بیل گاڑی اس وقت واپس لوٹی جب ناناجی اپنے بھائیوں کے ساتھ کھانا کھانے کی تیاری کررہے تھے۔ اب بیل گاڑی کے سواروں کی چال ڈھال میں کوئی عجلت نہ تھی۔ ان کے چہروں پر یاسیت کے سائے تھے۔ نوجوان مریض بھی نڈھال ہوچکا تھا مگر اب بھی اس کے ہونٹ ایک ہی لفظ اور ایک ہی جملے کی تکرار میں ہل رہے تھے،
“گولی ہائے میرے گولی ، مجھے میری گولی چاہئے”۔
اس کی ماں اپنے بیٹے کی حالت دیکھ کرغم کی شدت سے گویا پگھلی جارہی تھی اور بھائی بےبسی و اداسی کی تصویر بنے بیٹھے تھے۔
ناناجی نے ان کو سب کو اصرار کرکے کھانا کھلایا۔ کھانے کے بعد حقہ کے کش لگاتے ہوئے نوجوان مریض کے بڑے بھائی نے ناناجی کے پوچھنے سے پہلے ہی اپنے بھائی کی کہانی کا آغاز کردیا۔
ہم دو بھائی ہیں اور ایک بہن۔ میں بڑا ہوں اور شادی شدہ۔ مجھ سے چھوٹا میرا بھائی اور سب سے چھوٹی بہن۔ نکودر شہر کے قریب ہمارا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے، دس ایکڑ زمین ہے اور اس میں ایک کُھوہ ہے۔ جہاں مویشیوں کے پاس کبھی میں اور کبھی میرا بھائی، باری باری سوتے ہیں۔
اسی سال بھادوں کی ایک حبس زدہ روشن چاندنی رات میں میرا بھائی وہاں سو رہا تھا کہ اچانک بادل چھا گئے اور بوندا باندی شروع ہو گئی۔ میرے بھائی کی آنکھ کھل گئی۔ حسبِ دستور مویشیوں کو کمرے میں باندھتے ہوئے اسے کُھوہ کے پاس اچانک ایک عجیب سی روشنی نظر آئی۔ اس نے جلدی سے بیلوں کی جوڑی کو کمرے میں باندھا، بارش میں شور مچاتی بکریوں کو کھلا چھوڑا جو بھاگ کر خود ہی کمرے میں چلی گئیں کہ بکریاں بارش برداشت نہیں کرتیں اور پہلا قطرہ گرتے ہی چیخوں سے آسمان سر پر اٹھا لیتی ہیں۔ پھر وہ تجسس اور خوف سے مغلوب ہوکر روشنی کی سمت چل پڑا۔ ہمارے کُھوہ کے پاس کیکر کا ایک بھاری بھرکم درخت ہے جس کے تنے کے پیچھے تین آدمی باآسانی چھپ سکتے ہیں۔ روشنی اس کی دوسرے سمت سے آرہی تھی۔ میرے بھائی نے کیکر کی اوٹ سے جو دیکھا تو پھر دیکھتا ہی رہ گیا۔ نہ اسے اپنی خبر رہی نہ اپنے ماحول کی۔ وہ گویا کسی دوسرے جہان اور جہت میں پہنچ گیا۔
اس کے سامنے چاندنی میں بارش ہورہی تھی اور بارش کے قطرے زمین پر کھڑے پانی سے ٹکرا کر چاندی کے تِیروں کی مانند واپس پلٹتے ہوئے محسوس ہورہے تھے۔ اس پانی کے اندر چار پانچ ہاتھ لمبا اور کلائی جتنا موٹا سیاہ اور سفید دھاریوں والا ایک عجیب سہانا سا سانپ رقص کے سے انداز میں لوٹنیاں لے رہا تھا۔ اس سانپ کے منہ میں فاختہ کے انڈے جتنی بڑی ایک بلوری گیند جیسی گولی تھی جس کے اندر سے عجیب رنگوں کی روشنی پھوٹ رہی تھی۔ ایسے رنگ جو اس نے کبھی نہ دیکھے تھے اور نہ ہی ان کا تعلق ہماری دنیا سے ممکن تھا۔ میرے بھائی کا سارا وجود جیسے لوہ چون کی ایک آنکھ بن گیا جسے گولی کی مقناطیسی روشنی نے اپنے اندر جذب کرلیا۔
وہ خوبصورت سانپ اس گولی کو منہ میں لے کر ہوا میں اچھالتا تھا اور گولی گویا کششِ ثقل سے آزاد ہوکر فضا میں معلق ہوکر رہ جاتی اور سانپ اس کی مافوق الفطرت رنگوں سے مزین روشنی میں عجب انداز سے انوکھا رقص کرتا ہوا دکھائی دیتا تھا۔ پھر وہ گولی آہستہ آہستہ نیچے اترتی تو سانپ اسے اپنی دُم کی مدد سے پھر سے اچھال دیتا اور دوبارہ رقص میں مگن ہوجاتا۔
اسی حالت میں جانے کتنے زمانے بیت گئے کہ اچانک وہ سانپ ایک خوبرُو انسان کا روپ دھار گیا اور گولی کو ہاتھ سے اچھالتا، مستانہ چال چلتا کھیتوں کی طرف چل پڑا۔ میرا بھائی بھی اس سارے منظر کے ایک خاموش حصے کی طرح اس کے پیچھے ہولیا۔
وہ شخص چلتے چلتے ایک ایسے کنویں کے پاس پہنچ گیا جو آج تک ہم میں سے کسی کی نظروں سے نہ گزرا تھا۔ اس وقت تک میرے بھائی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا۔ اس نے بھاگ کر ہوا میں اچھلی گولی کو پکڑ لیا۔
وہ پراسرار انسان ایک دم ٹھٹھک گیا اور پھر سنبھل کر اپنی جادوئی آواز میں کہنے لگا کہ میری کولی واپس کرو۔ میرے بھائی نے کہا کہ وہ کسی صورت میں گولی واپس نہیں کرے گا کیونکہ وہ اس کے بغیر اب زندہ نہیں رہ سکتا۔
انوکھے اجنبی نے کہا کہ ذرا گولی کی طرف تو دیکھو۔ میرے بھائی نے بھینچی ہوئی مٹھی کھولی تو وہ ایک عام شیشے کی گولی طرح سرد ، معمولی اور بے رنگ و نور تھی۔
میرا بھائی رونے اور تڑپنے لگا جیسے ابھی جان دے دے گا تو اجنبی نے کہا کہ میرے ساتھ آؤ۔ وہ دونوں کنویں کے اندر اتر گئے جو خشک تھا اور جس کی تہہ میں ایک انتہائی پرانا دروازہ تھا۔ اجنبی نے کہا گولی مجھے دو۔ بھائی نے بادلِ نخواستہ گولی اسے واپس کی تو وہ پھر سے روشن ہو گئی۔
اجنبی نے کہا کہ اس کی عمر دو تین سو سال کے لگ بھگ ہے، گولی اس کی ملکیت ہے اور اس کے وجود کا حصہ۔ عرصۂِ دراز پہلے اسی جیسے شخص ایک اجنبی نے ایسی ہی ایک رات میں یہ گولی سونپی تھی۔ اب اس کے دنیا سے کُوچ کا وقت قریب ہے اور یہ گولی اب میرے بھائی کو سونپ دی جائے گی۔ اس عمل کا ایک خاص طریقۂِ کار اور منتر ہے۔ جس کے بعد میرا بھائی اس گولی کا مالک اور مافق الفطرت شخصیت کا حامل ہوجائے گا۔
اس نے میرے بھائی کو اگلی جمعرات کو اسی کنویں کے اسی دروازے کے سامنے آدھی رات کو ملنے کا کہا اور اس بات کا عہد لیا کہ یہ بات کا علم کسی اور ذی روح کو ہرگز ہرگز نہ ہونے پائے۔
میرے بھائی نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اس بات کو راز میں کا رکھنی کی قسم کھائی۔ پراسرار اجنبی دروازہ کھول کر اندر چلاگیا اور میرا بھائی گھر لوٹ آیا۔
ہم نے دیکھا کہ وہ گم صم رہنے لگا تھا، کھاتا تھا نہ پیتا۔ کام کاج کی طرف سے دھیان ہٹ گیا اور دیوانوں کی سی حالت ہو گئی۔ سب کو طرح طرح کے اوہام نے گھیر لیا۔ میری ماں کو یقین تھا کہ اس پر کسی پری کا سایا ہوگیا ہے۔ میرے باپ کا خیال تھا اسے کسی لڑکی سے عشق ہوگیا ہے۔
میرے بھائی سے ضبط نہ ہوسکا اور اس نے ہماری بہن کو جو میرے بھائی کی قریبی دوست تھی ، ساری بات بتا دی۔
جیسے تیسے جمعرات آگئی۔ میرا بھائی شام کو ہی گھر سے نکل گیا اور کُھوہ پر جاکر بے صبری سے رات کا انتظار کرنے لگا۔
آدھی رات کو جب میں میرا بھائی طے شدہ جگہ پہنچا تو نہ وہاں کسی کنویں کا نشان تک نہ تھا۔ ۔ وہ دیوانوں طرح ادھر ادھر بھاگنے لگا اور چِلّانے لگا ، “ہائے میری گولی، ہائے میں مرگیا میری گولی”، مگر کنواں نہ ملنا تھا نہ ملا۔ وہ تھک ہار کر وہیں نڈھال ہوکر گر پڑا۔ اگلے دن ہم اپنے کُھوہ پر اسے نہ پا کر پریشانی کے عالم میں ڈھونڈتے ہوئے کھیتوں سے اٹھا لائے۔
وہ اپنے ہوش و حواس کھوچکا تھا اور ایک ہی بات بار بار دہرا رہا تھا، “ہائے میری گولی، ہائے میری گولی”۔
بہن کو پتہ چلا تو اس نے روتے ہوئے سارا ماجرہ کہہ سنایا۔
میرا بھائی اس کے بعد کبھی ہوش میں نہ آیا۔ ہم نے ہر طرح کے پیر فقیر اور حکیم آزمائے مگر بے سود۔
حکیم عظمت اللّٰہ صاحب کا نام سنا تو کل ان کے پاس لے گئے۔ مگر انہوں نے جواب دے دیا کہ بھائی کا علاج ممکن نہیں۔ اب مایوس ہوکر واپس جارہے ہیں۔ اس کے بعد وہ بچوں کی بلکتے ہوئے آخر کار خاموش ہوگیا۔
اتنے میں اس کی ماں کی روتی اور بین کرتی چیخیوں نے خاموش ماحول کو جیسے چِیر کر رکھ دیا،
“ہائے میرا پُتر، ہائے میرا لعل “۔
ناناجی نے دیکھا کہ وہ نوجوان مریض اب پُرسکون لیٹا ہوا تھا اور اس کی ساری بے چینی ختم ہوچکی تھی۔
__________________
ختم شد
#حرفِ_راشد
(راشد ڈوگر کی کہانیوں کے مجموعے
“نانا جی کی کہانیاں “
سے انتخاب)
12 ستمبر 2025
Comments
Post a Comment