دو سانپ، دو زندگیاں
پچھلی کہانی میں آپ حکیم عظمت اللّٰہ صاحب کے متعلق جان ہی چکے ہیں کہ وہ مریض کو دیکھ کر ہی اس کی بیماری اور علاج کے متعلق بتا دیا کرتے تھے۔
نانا جی کا کُھوہ چونکہ جالندھر کے قریب تھا اور بیل گاڑیوں کے گزرنے کی کچی سڑک کے کنارے پر تھا، اس لئے اکثر ایسے مسافر وہاں آکر رکتے تھے جو کسی نہ کسی مریض کو جالندھر میں حکیم صاحب کے پاس یا تو لے کر جارہے ہوتے تھے یا وہاں سے واپس آ رہے ہوتے۔
نانا جی پہلی جنگِ عظیم سے ذرا پہلے پیدا ہوئے غالباً 13-1912 کے لگ بھگ کیونکہ تحریکِ خلافت کے عروج کے وقت (21-1920میں ), وہ پہلی یا دوسری جماعت میں تھے۔ اور شفیق رام پوری صاحب کی یہ نظم اپنے ہم جماعت لڑکوں کے ساتھ مل کر جوش و خروش سے پڑھا کرتے تھے:
“بولیں اماں محمد علیؔ کی
جان بیٹا خلافت پہ دے دو
ساتھ تیرے ہیں شوکتؔ علی بھی
جان بیٹا خلافت پہ دے دو”
ناناجی کے پانچ بچے تھے۔ تین بیٹے
(میرے ماموں) اور دو بیٹیاں (میری امی اور میری خالہ )
تقسیمِ ہند سے قبل نانا جی کے دو بیٹے پیدا ہوئے۔ ایک بیٹا اور دو بیٹیاں پاکستان میں پیدا ہوئیں۔
پہلوٹھی کا بیٹا پیدا ہوا تو اس کا نام علی احمد رکھا گیا۔ نانی جی بتاتی تھیں کہ علی احمد کے چہرے سے روشنی سی پھوٹتی نظر آتی تھی۔ جو بھی دیکھنے آتا دیکھتا ہی رہ جاتا۔ نانی جی کے دل میں چھوٹے چھوٹے اندیشوں کے بھنور بننے لگے اور یہ بھنور آہستہ آہستہ ایک یقینی خوف کے کالے سیاہ پانی کا دھارا بن گئے۔ ان کے دل میں یہ بات جم کر بیٹھ گئی کہ علی احمد جیسی من موہنی صورتیں زیادہ دن رہنے نہیں آتیں۔
ایک رات کو انہیں خواب میں ایک چھوٹی سی میت نظر آئی۔ ان کا دل چاہا کہ دھاڑیں مار کر روئیں مگر کسی کی گرج دار آواز آئی۔
“خبردار ! اس بچے کے جانے پر ہرگز نہ رونا”۔
وہ ہڑبڑا کر اٹھیں تو علی احمد جاچکا تھا۔ انہوں نے فجر کی نماز پڑھی اور آنکھ سے ایک آنسو تک نہ بہایا۔ جو کوئی آکر روتا تو اسے یہ کہہ کر روکتیں،“خبردار ! علی احمد کے لئے رونے کی مناہی کردی گئی ہے”۔
تقسیمِ ہند سے ایک برس پہلے اللّٰہ نے نانا جی اور نانی جی کو ایک اور چاند سا بیٹا دیا۔ اس کا نام بھی علی احمد رکھا گیا۔ نانا نانی بڑے ماموں کو بڑا علی احمد اور منجھلے ماموں کو چھوٹا علی احمد کہا کرتے تھے۔
جب پاکستان پیدا ہوا تو ناناجی اور نانی جی اپنے خاندان کے ساتھ جالندھر سے نومولود پاکستان کی طرف روانہ ہوگئے۔
راستے میں ایک جگہ نانی جی نے کچھ بڑی قبریں اور تین چار چھوٹی چھوٹی قبریں دیکھیں تو ان کا دل اس خیال سے دہل گیا کہ نہ جانے کن ماؤں کو اپنے کلیجے کے ٹکڑے یوں راستے میں چھوڑ کر جانا پڑا ہوگا۔
اسی جگہ قافلے کو اچانک شدید طوفانِ باد و باران نے گھیر لیا جو تین دن تک جاری رہا۔ پانی دریا کی طرح چارپائیوں کے نیچے سے بہتا رہا۔
چھوٹے علی احمد کو بخار ہوگیا۔ تیسرے دن جب آخرکار بادل چھٹے اور سورج نکلا تو ناناجی کا چاندغروب ہوچکا تھا۔چھوٹے علی احمد کو انہی چھوٹی قبروں کے پہلو میں ایک اور ننھی سی قبر میں دفنا کر قافلہ پھر سے روانہ ہوگیا۔۔
تو ذکر ہورہا تھا حکیم عظمت اللّٰہ صاحب اور ناناجی کے کُھوہ کا۔ مگھر (لگ بھگ نومبر) کے مہینے کی ایک خُنک صبح ناناجی اور ان کے دونوں بھائی اپنے میاں جی (ناناجی کے والد) کے ساتھ گُڑ بنانے کے لئے بیلنا گاڑنے اور چُہبّا (گنے کا رس پکانے کا بڑا سا چولہا) کھودنے میں مصروف تھے کہ دو بیل گاڑیاں گھنٹے بھر کے وقفے سے وہاں آکر رکیں۔
پہلی بیل گاڑی پر ایک گیارہ بارہ برس کا نہایت کمزور مریض لڑکا چارپائی پر لیٹا تھا اور اُس کے ساتھ اس کی ماں اور بوڑھا دادا تھے۔ لڑکے کے رخسار جسمانی نقاہت کے باعث اندر دھنسے ہوئے تھے اور آنکھیں بڑی بڑی اور نمایاں تھیں جن میں تندرست ہونے کی حسرت ہوا میں رکھے دئے کی مانند ٹمٹا رہی تھی۔ وہ تھوڑی دیر کو رُکے ، ماں نے ہاتھ گیلا کرکے بیٹے کے گرد آلود چہرے کو صاف کیا اور جالندھر کی طرف روانہ ہوگئے۔
دوسری بیل گاڑی پر چار بھائی تھے۔ ایک مریض اور تین تندرست بھائی۔ مریض بیس بائیس سالہ جوان تھا جس کے چہرے سے صاف ظاہر تھا کہ وہ اب مزید جینا نہیں چاہتا، نہ اسے اپنے کے ماحول میں دلچسپی تھی نہ اپنے اردگرد کے انسانوں سے سروکار۔ اس کی آنکھوں نے آسمان کی طرف ٹکٹی لگا رکھی تھی، جسم بے حس و حرکت تھا اور چہرہ سپاٹ۔ دوسری بیل گاڑی بھی کچھ دیر رُکی اور اپنی منزل کی طرف چل دی۔
اگلے دن دوپہر کے وقت لڑکا، اس کی ماں اور دادا اپنی بیل گاڑی واپس پر آکر رکے۔ لڑکے کی آنکھوں میں ٹمٹماتی حسرت اب بجھ چکی تھی۔ ماں کی آنکھیں رو رو کر سوجی ہوئی تھیں اور دادا مزید خاموش اور ٹوٹا ہوا تھا۔
ناناجی نے ان کو گرم دودھ پیش کیا اور حکیم صاحب کے متعلق پوچھا کہ انہوں نے کیا علاج تجویز کیا۔ ماں نے دوپٹے سے آنکھیں پونجھتے ہوئے بتایا کہ حکیم صاحب نے دیکھتے ہی کہہ دیا کہ ان کے پاس میرے بیٹے کا علاج نہیں ہے۔ اسے واپس لے جاؤ اور قدرت کی طرف سے جتنی مہلت ہے اسے غنیمت جانتے ہوئے بیٹے کے ساتھ گزارلو۔
اتنا کہہ کر ماں خاموش ہو گئی لیکن اس کے آنسو بہتے رہے۔
لڑکے نے دودھ پینے سے انکار کردیا اور اشارے سے ماں کو پاس بلا کر اس کے کان میں سرگوشی کی۔ ماں نے ناناجی سے کہا، “وے پُتر ! میرے بچے کا دل گنا چوسنے کو کر رہا ہے۔ تیرا بھلا ہو اسے ایک گنا تو لادے”۔
نانا جی نے فوراً تھوڑی دور واقع گنے کے کھیت سے دو گنے توڑے اور انہیں صاف کرکے ماں کو دیا۔ جس نے اپنے دانتوں سے ایک گنے کی ایک پوری چھیلی اور بیٹے کے منہ میں ڈال دی۔ جسے وہ آہستہ آہستہ چوسنے لگا۔ پھر اس نے اشارے سے اور مانگی تو ماں نے ایک اور پوری چھیل کر دی۔ اسی طرح بیٹے نے پوری پوری کرکے سارا گنا چوس لیا تو اسے زور کا ڈکار آیا۔ پھر اس نے دوسرا گنا مانگا۔ ماں نے دوسرا گنا پوری پوری چھیل کر بیٹے کو دیا اور اس نے وہ بھی سارا چوس لیا۔
اس نے پھر سے ایک زور دار ڈکار لیا اور اٹھ کر بیٹھ گیا۔ ماں نے فرطِ جذبات سے ایک چیخ ماری اور بیٹے کو سینے سے لگا لیا پھر دیوانہ وار اس کا منہ ماتھا چومنے لگی۔ بیٹے نے کہا ماں اب میں پہلے سے بہت بہتر محسوس کررہا ہوں۔ خاموش بیٹھے دادا کے نحیف جسم میں بھی ایک دم جیسے جوانی لوٹ آئی اور اس نے فوراً بیل گاڑی کا رُخ واپس جالندھر کی طرف موڑ دیا۔
انہیں روانہ ہوئے بیس منٹ بھی نہ گزرے ہونگے کہ بھائیوں والی بیل گاڑی واپس آتی دکھائی دی۔ قریب آئے تو ساتھ باتوں اور قہقہوں کی آواز بھی آنا شروع ہوگئی۔ جب وہ ناناجی کے کھوہ پر آکر رکے تو ایک بھائی نے بھاگ کر ناناجی کو جھپی میں لے کر والہانہ انداز میں کہنا شروع کر دیا، “میرا بھرا ٹھیک ہوگیا ، میرا بھرا ٹھیک ہوگیا”
اتنے میں باقی سب بھی بیل گاڑی سے اتر آئے جن میں کل والا مریض بھی شامل تھا جو اب بالکل ہشاش بشاش اور زندگی سے بھرپور نظر آرہا تھا۔
نانا جی نے اس خوشگوارو حیرت انگیز کایا کلپ کا ماجرا پوچھا تو ایک بھائی نے بتایا کہ جب وہ حکیم صاحب کے پاس پہنچے تو شام ہوچکی تھی۔ حکیم صاحب نے انہیں کہا کہ “آج دیر ہوچکی ہے، رات یہیں مہمان خانے میں گزارو صبح فجر کے بعد مریض کو دیکھیں گے”۔ اور انہیں ایک وسیع و عریض کمرے میں پہنچا دیا جہاں اور لوگ بھی ٹھہرے ہوئے تھے۔ اگلی صبح فجر کی نماز اور ناشتے کے بعد حکیم صاحب نے کہا کہ ان کے بھائی کا علاج ممکن نہیں، قدرت کی جانب سے کوئی معجزہ ہوجائے تو اور بات ہے۔ ان کا بھائی عرصہ دراز سے بسترِ مرگ پر تھا اس لئے یہ اطلاع ان کے لئے کوئی اچنبھا نہ تھا۔ وہ خاموشی سے واپس گھر کو چل دیے۔
آسمان پر گھٹا چھائی ہوئی تھی اور برسنے پر تُلی پڑی تھی۔ راستے میں ایک ویران جگہ جہاں پر بہت سی جھاڑیاں اور جنگلی کیکر کے درخت تھے، اچانک موسلادھار بارش شروع ہو گئی۔ بھائیوں نے ادھر اُدھر دیکھا تو پاس ہی کھیتوں میں ایک جھونپڑی نظر آئی۔ انہوں نے پناہ کی غرض سے ادھر کا رُخ کیا اور بیمار بھائی کی چارپائی کو اٹھا لیا۔ اس نے اشارہ کیا کہ اسے وہیں بارش میں چھوڑ دیا جائے۔ بھائیوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا مگر بیمار بھائی کی خواہش پر اسے وہیں چھوڑ کر خود جھونپڑی میں چلے گئے۔ جنگلی کیکروں کے درمیان پانی چھوٹے چھوٹے دھاروں کی شکل میں بہہ رہا تھا اور مریض اس میں بھیگتا، اجل کو اپنی تکلیف کا واحد علاج مانتا، اس کے جلد آنے کا منتظر تھا کہ یکایک اسے شدید پیاس کا احساس ہوا۔
اس نے بارش کے بہتے گدلے پانی کو دیکھ کر چارپائی پر مشقت سے پہلو بدلا اور نیچے آگرا۔ اس نے پانی پر منہ رکھ کر جند گھونٹ بھرے تو کیا دیکھتا ہے کہ جدھر سے پانی آرہا ہے، اُدھر سے چند ہاتھ کے فاصلے پر ایک بہت بڑا سانپ گزر رہا ہے۔ جب اس نے دیکھا کہ جو پانی وہ پی رہا ہے وہ سانپ کے جسم اور منہ کو دھوتا ہوا آرہا ہے تو اس نے پیاسے اونٹ کی طرح جم کر اس خیال اور امید سے پانی پینا شروع کردیا کہ یہ زہریلا پانی اس کی تکلیف دہ زندگی سے نجات کا باعث بن جائے گا۔
اس نے خوب جی بھر کر پانی پیا اور ساتھ ساتھ یہ بھی سوچتا رہا کہ بہتر ہے کہ سانپ اس کی طرف آئے اور اسے ڈس لے۔ مگر سانپ تھوڑی دیر پانی میں رک کر الٹی سمت روانہ ہوکر جھاڑیوں میں غائب ہوگیا۔
اب بارش تھم چکی تھی اور ساتھ ہی اس کے جسم کا درد بھی جو تین سال بعد پہلی مرتبہ رُکا۔ اس کی حیرت اور خوشی کا ٹھکانا نہ تھا۔ اسی وقت اس نے اٹھنے کی کوشش کی تو وہ بڑی آسانی سے اٹھ بیٹھا۔ پھر کھڑا ہونا چاہا تو اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگیا اس کے بعد وہ “میں ٹھیک ہوگیا ، میں ٹھیک ہوگیا” کہہ کر چیختا ہوا جھونپڑی کی طرف دوڑ پڑا جہاں سے اس کے بھائی پہلے ہی اس کی طرف آرہے تھے۔ سبھی نے اسے اپنی باہوں کے گھیرے میں لے لیا اور کچھ دیر خوشی سے آنسو بہاتے رہے۔ پھر ان میں سے ایک نے تجویز دی کہ واپس جاکر حکیم صاحب کو سارا ماجرا بتایا کر ان کی رائے لی جائے۔ مگر دوبارہ زندگی پانے والے بھائی نے کہا کہ “جس معجزے کا ذکر حکیم صاحب نے کیا تھا وہ تو ہوچکا۔ چلیں اب گھر چلتے ہیں”۔
بھائیوں نے ناناجی کو جلیبیاں پیش کیں جو انہوں نے رستے سے خریدی تھیں اور خوشی خوشی گھر کی راہ لی۔
اگلے دن ماں ، بیٹا اور دادا بھی جالندھر سے ہنستے اور باتیں کرتے لوٹ آئے۔ لڑکا اب دادا کے پاس بیٹھا تھااور اس کے چہرے پر زندگی کی سرخی اور آنکھوں میں امنگوں کی روشنی تھی۔
نانا جی کے پوچھنے پر ماں نے بتایا کہ جب وہ حکیم صاحب کے پاس گئے تو انہوں نے میرے بیٹے کو دیکھتے ہی مجھے مبارک باد دی اور کہا کہ کماد کے جس پودے سے گنا توڑا گیا ہے، اسی بُوٹے کے سارے گنے کاٹ کر مریض کو دئے جائیں۔
ماں نے قدرے خفگی سے حکیم صاحب سے پوچھا کہ جب اس کے بیٹے کا علاج گنے جیسی معمولی چیز سے ممکن تھا تو انہوں نے اسے لاعلاج کیوں قرار دیا؟
حکیم صاحب کہنے لگے کہ اس بچے کا علاج صرف اس گنے کا رس تھا جس کی تہہ میں شیش ناگ دفن ہو اور بچہ مہینے بھر کا مہمان تھا۔ شیش ناگ ڈھونڈتے اور کماد کی اگلی فصل کے پکنے کا انتظار کرتے سال گزر جاتا جس کی مہلت مریض کے پاس نہ تھی۔
ناناجی گنے لانے کے لئے اٹھے تو دادا جی، جو کافی دیر سے بت کی طرح ساکت بیٹھے تھے، بمشکل بولے، “میں نے تم میں سے کسی کو بتایا نہیں لیکن اس سال کماد کی بوائی کے وقت میں نے ایک کالا سیاہ ناگ مارا تھا اور اسے تازہ بوئے ہوئے کماد کی ایک کیاری میں دبا دیا تھا”
_____________________________
ختم شد
#حرفِ_راشد
(راشد ڈوگر کی کہانیوں کے مجموعے
“نانا جی کی کہانیاں “
سے انتخاب)
12 ستمبر 2025
Comments
Post a Comment