ڈرپوک



پچھلی کہانی میں آپ نانا جی کے کُھوہ کا احوال بالتفصیل سُن چکے ہیں۔ نانا جی تین بھائیوں میں سے درمیانے بھائی تھے اور ان کی تین ہی بہنیں تھیں۔ 

ان کے بڑے بھائی میرے دادا جی بھی ہیں۔ 

میرے پردادا اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے اور جالندھر میں واقع ایک  چھوٹے سے گاؤں کے نمبردار تھے۔ 


اپنے ہم عصروں کے لحاظ سے پردادا جی کا قد قدرے لمبا اور رنگ نسبتاً صاف  تھا۔ ان کی سب سے بڑی خصوصیت گہری سبز آنکھیں تھیں۔ 


جب میں چھوٹا تھا تو وہ سب جنہوں نے پردادا جی کو دیکھ رکھا تھا، کہا کرتے تھے کہ میں ہُو بہُو اُن جیسا دکھائی دیتا ہُوں۔ 

میرے نانا جی اپنے آخری ایام تک ،  چھریرے بدن کے پُھرتیلے ،  سخت محنتی ، بیزاری کی حد تک ایماندار، باکردار ،بے باک  اور صاف گو انسان تھے۔ 


تصور کیا جاسکتا ہےکہ نوجوانی میں وہ کسی چیتے کی طرح چابک دست ہونگے۔ 


اپنے لڑکپن کی ایک دوپہر وہ کھیتوں میں ہل چلاکر بیلوں کی جوڑی ،جن میں سے ایک  کا نام چِینا اوردوسرے کا چِٹّاتھا، کو پانی پلانے کے بعد باندھ کر نہانے کا ارادہ کر ہی کر رہے تھے کہ  بیل گاڑی پر ایک ادھیڑ عمر اور ایک نوجوان شخص کُھوہ پر آکر رکے۔ 

نوجوان نے سہارا دے کر ادھیڑ عمر شخص کو ایسے بازؤں پہ اٹھایا جیسے کسی بیمار کو اٹھایا جاتا ہے۔   دونوں نے اس وقت کے رواج کے مطابق تہہ بند اور کرتے پہن رکھے تھے۔ 

نوجوان کے پاؤں میں چمڑے کی مخصوص جوتی تھی جبکہ ادھیڑ عمر کے پاؤں سرے سے نظر ہی نہیں آرہے تھے۔ 


دونوں نے نانا جی کو سلام کیا اور نوجوان نے ادھیڑ عمر شخص کو پاس پڑی چارپائی پر آرام سے بٹھایا۔ دونوں شکل سے باپ بیٹا لگتے تھے۔ 


ادھیڑ عمر شخص نے تہہ بند کو ذرا اوپر اٹھایا تو نانا جی نے دیکھا کہ اس کی کی دونوں ٹانگیں گھٹنوں تک کٹی ہوئی تھیں۔ نانا جی نے جو ابھی تک ہل چلانے کی وجہ سے گرد میں میں اٹے ہوئے اور ایک لنگوٹی پہنے تھے، ان مہمان باپ بیٹے کو حقہ پیش کیا اور خود نہانے کے لئے پانی میں اتر گئے۔ 

نہا دھو کر سب نے مل کر پیاز ملی مِسّی تندوری  روٹیاں ، آم کے اچار اور لسی کے ساتھ نوشِ جان کیں اور قیلولے کی غرض سے  لیٹ گئے۔ 

مگر نانا جی اپنے فطری تجسس کے ہاتھوں مجبور تھے اس لئے انہوں نے پوچھ ہی لیا کہ چچا جان آپ کی ٹانگوں کے ساتھ کیا حادثہ پیش آیا ؟ 


اس سے پہلے کہ ادھیڑ عمر شخص  کچھ بولتا ، نوجوان رفع حاجت کا بہانہ کرکے وہاں سے اٹھ کر کھیتوں کی طرف چلاگیا اور ادھیڑ عمر شخص نے کہا ،


“پُتر اگر جاننا ہی چاہتے ہو تو پھر سنو:


میں ہوشیار پور کے ایک گاؤں سے ہوں اور اپنے بیٹے کے سسرال کے گاؤں ، جو یہاں جالندھر میں ہے، اپنے پوتے کی پیدائش کی خبر سن کر اپنی بہو اور پوتے کو ملنے جارہا ہوں۔ جب میں اپنے بیٹے کی عمر کا تھا تو میری شادی ہمارے دور کے رشتہ داروں میں ہوئی۔ شادی تو ہو گئی لیکن میری گھر والی شادی کے بعد صرف ایک مرتبہ میرے گھر آئی اس کے بعد میکے جاکر جیسے جم کر بیٹھ گئی۔ میرے گھر والوں نے بہت کوشش کی لیکن وہ کسی طور ان کے ساتھ آنے کو تیار نہ ہوئی۔ 

(ان دنوں طلاق کو لعنت کی حد تک برا سمجھا جاتا تھا اور عموماً لڑکے کے ماں باپ یا بڑے بھائی میں سے کوئی جاکر بہو کو لے آیا کرتے تھے۔ لڑکے کا خود جانا قدرے معیوب اور  انتہائی اقدام ہوتا تھا) 


طرح طرح کی خبریں میری پگڑی کے چیتھڑے اڑاتی  بگولوں میں کچرے کی طرح  اِدھر ُادھر اڑنے لگیں۔ آخر کار ایک بھرپور سردیوں میں، میں خود اسے اس ارادے سے لینے کے لئے گیا کہ جاکر اپنی آنکھوں سے ساری صورتحال کا جائزہ لوں گا۔ 


میرے جانے پر جہاں میرے سسرال والے خوش دکھائی دیتے تھے وہیں ان کے چہرے پر کچھ کچھ شرمندگی اور خوف کے آثار بھی نمایاں تھے۔ 

میری گھر والی نے البتہ مجھے دیکھ کر قدرے حقارت اور یکسر لاپرواہی کا مظاہرہ کیا اور مجھ سے بولنا تو درکنار ، میرے قریب تک پھٹکنا گوارا نہ کیا۔ 


خیر رات ہوئی تو کھانے اور خوش گلپیوں کے بعد سب اپنے اپنے بستر پر جاکر سو رہے۔ 

مگر میری آنکھوں سے نیند کوسوں دُور تھی اور ٹکٹی بیوی کی چارپائی پر ٹکی تھی۔ آدھی رات کے قریب میری گھر والی انتہائی خاموشی اور خود اعتمادی کے ساتھ اٹھی اور بغیر آواز کے دروازہ کھول کر باہر نکل گئی۔ میں بھی فوراً اٹھا اور کچھ فاصلہ رکھ کر اس کے پیچھے ہولیا۔ 

وہ چلتے چلتے گاؤں کی حدود سے باہر اس جگہ پہنچ گئی جہاں  ایک دوسرے سے چوتھائی مِیل کے فاصلے پر برگد کے تین گھنے درخت تھے اور کئی ایکڑ میں گندم کی ہاتھ بھر اونچی سبز فصل تھی۔ ایک درخت کے نیچے لٹھے کی طرح سفید رنگ کا ایک گھوڑا بندھا تھا جس کے قریب ہی ایک شخص کھڑ ابے چینی سے کسی کا انتظار کررہا تھا۔ اس ثخص نے سیاہ لباس پہن رکھا تھا۔ اور سر پر سیاہ پگڑی تھی۔ کمر میں ایک پٹکا تھا جس سے تلوار لٹکی صاف دکھائی دیتی تھی۔ 


میری گھر والی وہاں پہنچی تو اس شخص نے کمر سے تلوار ولا پٹکا کھول کر گھوڑے کے پاس رکھا اور دونوں ایک دوسرے میں  جیسے  پیوست  ہوگئے۔ 


میں یہ منظر دیکھ کر خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا اور خاموشی سے وہاں سے اٹھ آیا۔ 

اگلے دن میں نے گھر والی کے کپڑوں کا ایک جوڑا  چرایا اس میں وہ   تیز دھار خنجر لپیٹا جو میں اپنے گھر سے ساتھ لے کر آیا تھا اور یہ سب سامان اپنی جارپائی پر تہہ شدہ بستر مین چھپا دیا۔ میں  سارا دن جان بوجھ کر گھانستا رہا۔ شام  ہوئی تو  بخار کا بہانہ بنا کر جلد لیٹ  گیا۔ کچھ دیر بعد رضائی کو ایسی شکل دی کہ گویا کوئی لیٹا ہوا ہو۔  میں دبے پاؤں گھر سے نکل آیا اور  برگد کے مخصوص درخت پر چڑھ کر گھر والی کے کپڑے پہنے اور خنجر مضبوطی سے پکڑ گر  بیٹھ گیا۔ دل تھا کہ کسی ڈھول کی طرح دھما دھم دھڑک رہا تھا ۔ دور سے سفید گھوڑا  چاندنی میں بادل کے ٹکڑے کی طرح نمودار ہوا اور میں درخت سے نیچے کھسک آیا۔ جونہی وہ شخص وہاں پہنچا میں اس کی طرف بڑھا وہ بھی مجھے اپنی محبوبہ کے روپ میں دیکھ کر بے اختیار میری طرف لپکا۔ اس سے پہلے کہ حقیقت اس پر کھُلتی، خنجر اس کے دل میں اتر چکا تھا اور اس کو چیخنے تک کی مہلت نہ ملی۔ 


میں نے خنجر اسی کے کپڑوں سے صاف کیا اور اس کی تلوار اس کی لاش پر رکھ کر بھاگ کھڑا ہوا اچانک مجھے ایک دلخراش نسوانی چیخ سنائی دی۔ واپسی کی مہلت نہ تھی اس لئے میں نے جلدی سے کپڑے بدلے خنجر اور خون آلود زنانہ کپڑوں کا جوڑا زمین میں دبایا اور تین برگد کے درختوں میں سے قریبی درخت پر تیزی سے چڑھ کر بیٹھ گیا۔ 


میری گھر والی نے اپنے عاشق کی تلوار اٹھائی اور ایسی تیزی اور وحشت سے کھیتوں کے چکر لگانے لگی جیسے کوئی سورما کسی میدان جنگ میں بپھر کر دشمن کی صفوں کی جانب یلغار کررہا ہو۔ 


جونہی وہ میرے والے برگد کے پاس سے ہوتی، جیختی چنگھاڑتی ہوئی دوسری جانب گئی ، میں بجلی کی پھرتی سے نیچے اترا اور گھر کی جانب دوڑ لگا دی۔ 

گھر پہنچ کر چولہے میں آگ دہکا ئی ، ہاتھ پاؤں گرم گئے اور لمبی سانسیں لے کر دل کی پسلی توڑ دھڑکن پر قابو پایا اور دم سادھ کر بستر میں سونے کے بہانے لیٹ گیا۔ پندرہ بیس منٹ بعد میری گھر والی واپس آگئی اور سب سے پہلے تِیر کی طرح سیدھی میری چارپائی کی طرف آئی۔ میرے ہاتھ پاؤں کو ہاتھ لگایا اور پھر ہتھیلی سینے پر رکھ کر دھڑکن کی رفتار جانچی اور پلٹ کے جاکر اپنے بستر پر لیٹ گئی۔ 


صبح ہوئی تو معلوم ہوا کہ  کھیتوں میں سے کسی نامعلوم شخص کی لاش ملی ہے۔  دوسری خبر یہ تھی کہ میری گھر والی میرے ساتھ واپس جانے کے لئے تیار ہورہی تھی۔ 


اس کے بعد وہ کبھی میکے نہ گئی۔ اور ہم راضی خوشی رہنے لگے۔ اللہ نے ہمیں چاند سا بیٹا عطا کیا اور وقت تیزی سے گزرتا چلا گیا۔ 


کئی سال بعد ایک صبح منہ اندھیرے میں کھیتوں میں ہل چلانے کے لئے تیار ہورہا تھا مگر مجھے بیلوں کے منہ پرچڑھانے کے لئے چُھکریاں نہیں مل رہی تھیں۔ 

میں نے دہی بلوتی ہوئی گھر والی سے پوچھا کہ شاید  اس نے چُھکریاں کہیں رکھی ہوں۔ اس نے بتایا کہ وہ اندر پڑھی ہیں۔ میں نے اسے لانے کو کہا تو کہنے لگی کہ مجھے اندھیرے کمرے سے ڈر لگتا ہے۔ میرے منہ سے بے اختیار نکلا کہ رات کو اکیلے جاتے ہوئے تو ڈر نہ لگتا تھا۔ 

یہ سننا تھا کہ وہ شیرنی کی دھاڑتی ہوئی اٹھی۔ پاس پڑا بڑا سا ٹوکا اٹھایا اور وحشی لال آنکھوں سے میری طرف لپکی۔ میں نے فوراً دوڑا اور  دیوار پھلانگ کر دوسری جانب گرا لیکن اسی دوران تیز دھار ٹوکے کے بھرپور وار سے میری دونوں ٹانگیں گھٹنوں سے کٹ کر علیحدہ ہوچگی تھیں۔ میری گھر والی نے وہی ٹوکا پوری قوت سے اپنے سر پر مارا اور وہیں ڈھیر ہو گئی”۔ 


یہ کہہ کر ادھیڑ عمر اپاہج شخص خاموش ہوگیا۔ ہکے بکے نانا جی نے اس کی طرف دیکھا تو وہ کسی لاش کی مانند خاموش اور بے جان دکھائی دیا۔ ساری فضا ان دیکھے خوف اور ان کہے پچھتاووں کے بوجھ سے  گویا چُرمرائی جارہی تھی۔ 


_______________________


ختم شد


#حرفِ_راشد


(راشد ڈوگر کی کہانیوں کے مجموعے


 “نانا جی کی کہانیاں  “


سے انتخاب)

Comments

Popular posts from this blog

جھنڈُو ‏اور ‏سونے ‏کا ‏ ہسّ

‏کہیں انکار کا غم ہے، کہیں اقرار کا غم ہے

غزل 32