اُن کو جو والہانہ محبت نہیں رہی
اُن کو جو والہانہ محبت نہیں رہی
ہم کو بھی زندگی کی ضرورت نہیں رہی
دل میں کسی نگاہ سے سُلگا تھا عودِ عشق
بدلی جو وہ نگاہ تو حدت نہیں رہی
جذبوں کے امتزاج سے رنگین تھی حیات
اب خواب دیکھنے کی بھی چاہت نہیں رہی
دنیا ہے والدین کے ہوتے ہوئے بہشت
دوزخ ہے، جن کے پاس یہ جنت نہیں رہی
آتے ہیں چل کے آپ یہ اشعار اپنے پاس
ہم کو تو بھاگ دوڑ کی عادت نہیں رہی
خالی ہوا مکان کہ رخصت ہوئیں سبھی
صد شُکر، دل میں اب کوئی حسرت نہیں رہی
کچھ ہی دنوں کی بات ہے راشد! یہ کائنات
ارض و سما کے پاس بھی مُہلت نہیں رہی
Comments
Post a Comment