کاگا رُوٹھے، پیڑ سُوکھے

 انا جی کا کھُوہ کیا تھا، گھنے سبز درختوں اور ان میں بستے رنگا رنگ پرندوں سے مزین ایک جھوٹی سی جنت تھا۔

یہ اس وقت کی بات ہے جب نانا جی کا پنجاب اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ سانس لیتا تھا اور تقسیم کی لکیر ابھی اس کے ماتھے پر نقش نہیں ہوئی تھی۔
دریاؤں کی لہریں نرم ہوا سے سرگوشیاں کرتیں، نہروں کے کنارے سرکنڈے جھومتے، پیپل، برگد، شیشم، کیکر، آم، جامن، بیری، نیم، ڈھاک شریں اور پھلائی جیسے درخت اپنی چھاؤں میں صدیوں کی کہانیاں کہتے۔ انہی درختوں کی ڈالیوں، کھیتوں کی منڈیروں اور دریاؤں کے دوآبوں میں، پرندوں کی ایک رنگین دنیا آباد تھی۔ ایسی دنیا جو فجر کی اذان سے پہلے ہی حمد و ثنا کا نغمہ بلند کر دیتی اور شام کو لوک گیتوں کی طرح اچانک شوخ ہوکر آہستہ آہستہ مدھم ہو جاتی۔
پہاڑی ڈھلانوں پر چکور پتھروں کی اوٹ میں پلتا، بھورا سا وجود چٹانوں سے یوں گھل مل جاتا جیسے فطرت نے اسے وہیں تراشا ہو۔ کھیتوں کی نرم مٹی میں بٹیر ، تیتر اور تلیر شرمیلے شاعروں کی طرح دانہ چگتے، اچانک اڑان بھرتے اور اپنی تیز مگر مختصر پکار سے صبح کو جگا دیتے۔ جنگل کے کھلے میدان میں مور اپنے رنگین پر پھیلا کر ناچتا تو بادل بھی ٹھہر جاتے۔ برسات کی آمد کا اعلان اسی کی کُوک سے ہوتا۔ آسمان کی وسعت میں باز اور شِکرے تیز پرواز کے سلطان تھے،جن کی آنکھوں میں بجلیاں اور جھپٹ میں خاموش گھن کرج ہوتی۔
آم کے درختوں کی گھنی شاخوں میں کوئل کی کُوکُو ساون کے ساتھ ساتھ آم کے رس میں مٹھاس کا پیغام لاتی۔ وہ اپنی فطری چالاکی کے باعث دوسرے پرندوں کے گھونسلوں میں انڈے دیتی، مگر اس کی آواز میں ایسا سحر ہوتا کہ گلہ شکوہ بھی ساز بن جاتا۔
مینا جُھنڈ کی صورت میں رہتی، ذہین اور چوکنی، انسانی آوازوں کی نقل کر کے روتوں کو ہنسا دیتی۔ سبز شاخوں میں چھُپا طوطا پھلوں اور بیجوں کا شوقین، اپنی شوخ چہچہاہٹ سے درختوں کو زندہ رکھتا۔
بستیوں کے بیچ گھریلو چڑیا ننھی خاکستری پری کی طرح گھروں میں بسی رہتی۔ آنگن کی آس اور صبح کی برکت اسی کے دم سے تھی۔ کھیتوں میں سون چڑیا سنہری کرن کی مانند چمکتی، کسان فصلوں کے بیج بوتے تو سون چڑیا ان کے پکنے کی امید کے۔
ہُدہُد “بےبے دُکھ بےبےدُکھ” کی اداس آوازوں سے پنجاب کی مختصر بہار سے بچھڑنے کا نوحہ اور طویل اکتا دینے والی گرمیوں کی آمد کا نیوتہ گاتا۔
شہروں ، قصبوں اور گاؤں میں کوّا سیاہ رنگ کا پُر اسرار دانشور تھا۔ سماجی گروہوں میں رہتا، خطرے کی خبر دیتا، اور فطرت کی صفائی میں اپنا حصہ ڈالتا۔
کبھی کبھار موج میں ہوتا تو منڈیر پر بیٹھ کر محبوب مہمان کی آمد کی خوشخبری بھی سنا جاتا۔ لیکن اکثر غافل بچوں بڑوں کے ہاتھ سے نوالہ چھین کر لے جاتا۔
آسمان کی بلندیوں میں گدھ دائرے بناتا، مردار کھا کر ماحول کو پاک رکھتا، اس کی موجودگی فطری توازن کی علامت تھی۔ چیل تیز نگاہ شکاری، ہوا میں تیرتی اور میدانوں پر نظر رکھتی۔ درختوں کی چوٹیوں پر ڈھنگر (Blue jay ) نیلے پروں کا جادو بکھیرتا.
تالابوں میں بطخیں ، کیچڑ ملے مٹیالے پانی میں فخریہ تیرتیں، جھیلوں اور دریاؤں کے کنارے بگلے وقار سے چلتے، پانی میں مچھلیاں تلاش کرتے، ساون میں طویل انتظار کے بعد جب کالی سیاہ گھٹا چھا جاتی تو بارش سے قبل اس ساکت کینوس پر سفید بگلے کی اڑان، مصورِ وحدہ لاشریک کی مجسم حمد بن جاتی۔
یہ پرندے ، پرندے نہ تھے ، پنجاب کی روح تھے۔
پنجابی لوک گیتوں میں ان کی سانسیں محفوظ تھیں۔ “باراں ماہے” میں کوئل کی کُوک جدائی کا دکھ سناتی۔
“چیتر چیتر چمن وچ کوئلاں، نت ُکو کُو کرن پکار…”
یوں درختوں کی قطاریں ، دریاؤں کی لہریں اور پرندوں کی ڈاریں، مل کر ایک ایسی داستان بنتی ہیں جو وقت کے سمندر میں اتر تو گئی، مگر یادوں میں آج بھی زندہ ہے۔ جب کبھی ہوا، بچے کُھچے پیپل کے درختوں کے پتے ہلاتی ہے یا کسی شام کوئل اداس گیت گاتی ہے، تو لگتا ہے کہ نانا جی اور پرانا پنجاب ابھی بھی یہیں کہیں درختوں کی جڑوں ، پرندوں کے پروں اور لوک گیتوں کی سُروں میں موجود ہیں۔
پچھلی کہانی میں ناناجی کی پاکستان اور ان کے دو بیٹوں کی اگلے جہان ہجرت کا ذکر ہورہا تھا۔
ناناجی رستے میں چھوٹے علی احمد کو دفنا کر، آخرکار پاکستان پہنچ گئے۔ اللّٰہ پاک نے اس بار ان کو بیٹی(میری امی) کی صورت میں رحمت سے نوازا اور پھر چند سال بعد تیسرا بیٹا عطا کیا۔ جس کا نام بشیر رکھا گیا۔ جو نانا جی اور نانی جی کی بے پناہ واضح محبت اوران کے دلوں میں خفیہ خوف کی علامت تھا۔
پھر یہ خوف آہستہ آہستہ زائل ہوتا گیا اور گھر کے کونے کونے میں صرف محبت رہ گئی، اس وقت کے دیسی گھی کی طرح خالص اور خوشبودار محبت۔
نانا جی سخت محنتی، صریح سچے، مبالغے کی حد تک ایماندار اور لامحدود محبت بھرے انسان تھے۔ ان کی انہی صفات کی بنا پر گھر میں محبت کے ساتھ ساتھ نہایت غیرت مند غربت کی بھی بہتات تھی۔
بشیر اب بڑا ہوگیا تھا، باتیں کرتا تھا اور ناناجی ، نانی جی کی آنکھوں کا تارا اور امی کا راج دلارا تھا۔ جب ناناجی کے دل پہ لگے پچھلے تمام زخم قریباً مندمل ہوچکے تو تو تقدیر نے نئے دیس میں ایک اور زخمِ عظیم و عمیق سے ان کے قلب و جگر کو پارہ پارہ کردیا۔ بشیر چند دن کے شدید بخار کے بعد بڑے اور چھوٹے علی احمد کے پاس چلاگیا۔
نانی جی نہائت مضبوط خاتون تھیں، یہ صدمہ بھی کسی طور سہہ گئیں۔ ناناجی البتہ ریت کی دیوار کی مانند ڈھے گئے۔ سال بھر گھر سے نکلے، نہ کھیتوں کا رخ کیا۔ بھلے وقت تھے اس لئے ناناجی کے دونوں بھائیوں نے گھر کا نظام چلائے رکھا۔ وقت نے دھیرے دھیرے ناناجی کے ملبے کو پھر سے استوار کرکے کھڑا کردیا اور وہ واپس زندگی کی طرف لوٹ آئے۔ اس دوران اللّٰہ نے ایک اور بیٹی عطا کی۔ کئی سال بعد امی ابّو کی شادی ہوگئی اور یکے بعد دیگرے ، ہم چار بھائی اس دنیا میں آئے تو ناناجی ہی کے پاس رہے اور انہی نے پرورش کی۔ ہم سب اپنے نانا اور نانی کو ابا اور امی کہا کرتے تھے اور اپنی سگی ماں کو “آپی” کہہ کر بلاتے تھے۔ یوں ہماری امی جگت آپی بن گئیں۔ چھوٹا ہو یا بڑا، سب انہیں آپی ہی کہا کرتے تھے۔ ہمارے گھر میں بھینسیں اور بیل تو تھے بکریاں نہ تھیں۔ ایک سال ناناجی کہیں سے ایک بکری خرید لائے جس نے سفید دھبوں والا سُرخ رنگ کا ہرن سے ملتا جلتا بچہ دیا۔ اسی وقت سب نے نہ جانے کیسے اسے قربانی کے لئے مخصوص کردیا۔ بڑا ہوا تو وہ گھر کے کسی فرد کی طرح سب کو پیارا ہوگیا۔ جیسے عیدالاضحی قریب آتی گئی سب کے دل بیٹھتے گئے۔ عید کے چاند کے ساتھ ہی اس کی چال میں مستی اور جدائی کا عجیب سا بانکپن آگیا ہم سب اس کو باری باری گلے لگائے رکھتے۔ عید سے دو دن قبل اس نے اور ہم سب نے کھانا پینا چھوڑ دیا۔ سب گھر والے ایک دوسرے کو دیکھتے تو بلا وجہ رو دیتے۔
عید کے دن صبح صبح قصائی آیا۔ نانا جی نے چھری کو ہاتھ لگایا اور قصائی کے حوالے کر کے وہاں سے چلے آئے۔ ان کی آنکھیں چھم چھم برس رہیں تھیں۔ سارا گوشت تقسیم کردیا گیا۔ اس سال کسی اور کے گھر سے آئے گوشت کو بھی کسی نے نہ کھایا۔
ذکر ہورہا تھا نانا جی کے کُھوہ کے درختوں اور پرندوں کا۔ نانا جی کے قریبی عزیزوں کا ایک گاؤں تھا ہشیار پور ضلع میں۔ ناناجی کبھی کبھار وہاں مہمان کے طور پر جایا کرتے تھے۔ اس گاؤں کی خاص بات یہ تھی گھروں کے درمیان اور اس کے گرداگرد دائرے کی شکل میں نہائت گنجان جنگل تھا جس میں قسما قسم کے درخت تھے۔ ان درختوں میں سیکڑوں انواع کے ہزاروں پرندے تھے۔ البتہ سب سے نمایاں اور کثیر تعداد میں کوّے تھے۔ صبح کو تو وہ قدرے خاموشی سے تلاشِ رزق کی خاطر مغرب کی سمت پرواز کرجاتے جو کہ ایک دیدنی نظارہ ہوا کرتا۔شام کو عصر کے وقت ان کی واپسی شروع ہوجاتی۔ اب ان کی پرواز کا رخ مغرب سے مشرق کی جانب ہوتا۔جیسے جیسے کوّے واپس درختوں پر بیٹھتے جاتے، “کاں کاں” کا شور بڑھتا جاتا۔ مغرب کے وقت تک یہ شور نہایت بلند ہوتا۔ ہزاروں لاکھوں کوّے بیک وقت بول رہے ہوتے۔ مغرب سے کچھ دیر بعد تک شام کی سرخی، سرمئی اندھیرے میں تبدیل ہوتی جاتی اور کوّوں کا اجتماعی کورس بھی مدھم ہوتے ہوتے سکوت اوڑھ لیتا۔ عشاء تک مکمل خاموشی ہوجاتی۔ برسوں سے یہی اس گاؤں کی رِیت تھی اور یہی پہچان۔ پچپن ہی سے نانا جی کو وہ گاؤں اور وہاں جانا بہت پسند تھا۔ ایک بڑی وجہ تو جالندھر سے ہشیار پور تک کا “لام گاڑی” (train) کا سفر تھا جو کہ بذاتِ خود انتہائی خوش کن اور لطف اندوز تجربہ ہوا کرتا۔ دوسری وجہ وہ گاؤں، اس کے درخت اور کوّے تھے جو ناناجی کو کسی انوکھی اور پراسرار الف لیلوی دنیا کا حصہ محسوس ہوتے تھے۔
ایک دن کھُوہ پر کام کے دوران وہاں کا حجّام
کسی شادی کا دعوت نامہ لے کر آیا۔ کھانا کھانے، حقہ پِینے اور کچھ دیر سستانے کے بعد وہ واپس چل دیا۔
شادی دو ہفتے بعد کی تھی۔ اب ناناجی زندگی سے بھرپور ایک نوجوان تھے اس کے باوجود لام گاڑی کے سفر اور گاؤں کے تصور سے وہ چھوٹے بچوں کی مانند پرچوش تھے۔
جب دو ہفتے بعد وہ اپنے رشتہ داروں کی شادی میں شرکت کے لئے اس پُر اسرار گاؤں پہنچے تو ان کا دل صدمے اور حیرت سے دھڑکنا بھول گیا۔ پہلے تو وہ یہی سمجھے اور امید کی کہ راستہ بھول کر کسی اور گاؤں پہنچ گئے ہیں مگر اپنے عزیزوں کو سامنے پاکر موہوم امید بھی دم توڑ گئی اور یہ حقیقت ان پر آشکار ہو گئی کہ اب وہاں نہ کوئی درخت تھا اور نہ کوئی کوّا۔ سوائے اکا دکا کانٹے دار اور ڈھیٹ پہاڑی کیکروں کے، اس گاؤں میں کوئی ہریالی نہ تھی۔
گاؤں کے ارد گرد چٹیل میدان تھا جیسے کسی حسین و جمیل دوشیزہ کی لمبی زلفیں بالچھڑ کی نذر ہو کر اڑن چھُو ہوجائیں۔
ناناجی کی شادی میں شرکت کی خوشی کافُور ہوچکی تھی اور وہ درختوں کے غائب ہونے کی وجہ جاننے اور وہاں سے گھر واپسی کے لئے بے چین ہورہے تھے۔
جیسے تیسے شادی کادن گزرا تو رات کو انہوں نے اپنے ایک ہم عمر مقامی دوست سے پوچھا کہ گاؤں کے درختوں کی بابت پوچھا۔
نوجوان نے بتایا کہ گاؤں کے نمبردار نے اپنے رشتہ داروں کی دیکھا دیکھی بارہ بور کی دونالی بندوق کا لائنس لے لیا جو ان دنوں دسویں جماعت کی سند کی طرح بہت کم لوگوں کے پاس ہوا کرتی تھیں۔ بندوق گھر میں آئی تو نمبردار کا نوجوان بیٹا، باپ کے منع کرنے کے باوجود کبھی کبھار شیخی بگھارنے کے لئے اسے کندھے پر ڈال کر گاؤں میں گھومتا۔ نمبردار نے تمام کارتوس تالہ بند صندق میں رکھے ہوئے تھے۔
ایک دن باپ ساتھ والے گاؤں گیا ہوا تھا کہ لڑکے کے سر پر شیطنت سوار ہوئی تو شام کے وقت اس نے تالا توڑ کر دو کارتوس نکالے، بندوق کی دونوں نالیوں میں بھرے اور چھت پر کھڑے ہوکر درختوں پر کائیں کائیں کا شور کرتے کوّوں کی طرف داغ دئے، ایک مشرق کی سمت اور دوسرا مغرب کی جانب۔
دو دھماکے سن کر خاموش و پرسکون گاؤں کے باسیوں کے دل دہل گئے۔ ساتھ ہی گویا لاکھوں کی تعداد میں درختوں سے کوّوں کا لشکر قیامت خیز اونچی آواز میں صورِ اسرافیل کی مانند بیک زبان “کاں کاں” کرتا ہوا اڑا۔
کوّوں کے اس جمِ غفیر نے کلیجہ پھاڑ شور بپا کرتے ہوئے گاؤں کے گرد تین چکر کاٹے اور پھر ہمیشہ کے لئے مشرقی افق میں غائب ہو گیا۔
اس دن کے بعد سے گاؤں کے تمام درختوں پر عجیب و غریب نادیدہ مکھیوں کی سی بھنبھناہٹ سنائی دینے لگی۔ سارے گاؤں پر خوف و نحوست کے سائے سے منڈلانے لگے۔ سرِشام کوّوں کی “کاں کاں” کی بجائے سکوت کا عفریت سارے گاؤں پر آسیب سا طاری کردیتا۔
چند ہی ہفتوں میں ہرے بھرے درخت سوکھنے لگے اور چھ ماہ کے اندر اندر تمام درختوں کا صفایا ہوگیا۔
نانا جی نے کروٹیں بدلتے جیسے تیسے رات کے کچھ پہر گزارےاور فجر سے بہت پہلے سحری کے وقت ہی چُپکے سے اپنے گھر کی راہ لی۔

Comments

Popular posts from this blog

جھنڈُو ‏اور ‏سونے ‏کا ‏ ہسّ

‏کہیں انکار کا غم ہے، کہیں اقرار کا غم ہے

غزل 32