خیالات و افکار
سخن ور کے لئے خیالات و افکار ایسے ہی ہیں جیسے کسی طفل کے لئے تتلیاں، جب بھی کوئی خیال اپنے انوکھے رنگوں سمیت جھلک دکھلاتا ہے تو مفکر و سخن ور کا اندرونی طفل اس کے پیچھے بے اختیار لپکتا ہے۔ جس کے نتیجے میں جسمانی نقل و حرکت اگر پوری طرح جامد نہیں ہوتی تو سست ضرور پڑتی ہے۔
"میرے اشعار مرے رتجگوں کی قیمت ہیں
مفت پڑھنا بھی جنہیں کوئی گوارا نہ کرے "
Comments
Post a Comment