خیالات و افکار

 سخن ور کے لئے خیالات و افکار ایسے ہی ہیں جیسے کسی طفل کے لئے تتلیاں، جب بھی کوئی خیال اپنے انوکھے رنگوں سمیت جھلک دکھلاتا ہے تو مفکر و سخن ور کا اندرونی طفل اس کے پیچھے بے اختیار لپکتا ہے۔ جس کے نتیجے میں جسمانی نقل و حرکت اگر پوری طرح جامد نہیں ہوتی تو سست ضرور پڑتی ہے۔

اُدھر حقیقت کی دنیا کے اپنے ٹھوس مسائل ہیں جو حاضر دماغی اور جسمانی چستی کے متقاضی ہیں۔ نتیجتاً ، تخلیق کار کو اپنی تخلیقات کی وہ قیمت چکانی پڑتی ہے جس کا ادراک ایک تخلیق کار کے علاوہ شاید ہی کوئی رکھتا ہو۔
"میرے اشعار مرے رتجگوں کی قیمت ہیں
مفت پڑھنا بھی جنہیں کوئی گوارا نہ کرے "

Comments

Popular posts from this blog

جھنڈُو ‏اور ‏سونے ‏کا ‏ ہسّ

‏کہیں انکار کا غم ہے، کہیں اقرار کا غم ہے

غزل 32