حد کے اندر ہے بے حد

 وضو توڑ دینے والے عوامل پر غور کریں، بادِ شکم اور جسمانی رطوبات کے قلیل سے اخراج سے وضو ٹوٹ جاتا ہے،

‏حالانکہ وضو ہوتے ہوئے ، مقدس ترین مقامات پر اعلیٰ ترین عبادات کے دوران جسم کے اندر انہی مواد کی کثیر مقدار موجود ہوتی ہے۔
‏انہی رطوبات سے جسمانی نظام رواں دواں اور حیاتِ انسانی قائم و دائم ہے۔ مگر تصور کریں کہ کسی اہم تقریب میں کسی ملک کے سربراہ یا کسی ذی وقار شخصیت کے رُخ پر لعابِ دہن یا ناک کی رطوبت کے چند قطرے لگیں ہوں یا اس کے صاف ستھرے لباس کے دامن پر اسی کے پیٹ میں پائی جانے والی گندگی کا دھبہ ہو تو کیا ہو۔
‏تو ثابت ہوا کہ سارا راز حد کے اندر رہنے یا حد کو پار کرنے میں ہے۔
‏ہمارے فاسد خیالات اور الفاظ کی مثال بھی ایسی ہی ہے۔
‏جب تک وہ ہمارے ذہن و زبان کی حد میں رہتے ہیں، ہماری شخصیت کا بھرم قائم رہتا ہے۔ جیسے ہی زبان و قلم سے ادا ہوجائیں، ہمارے اخلاق و شائستگی کی عمارت میں بدنما دراڑ پڑ جاتی ہے۔
‏اس سے ایک اور قدم آگے بڑھیں تو ہم پر یہ امر آشکار ہوتا ہے کہ خیالات و تصورات ہمارے باطن میں بھی اپنی حدود کے اندر رہنے چاہئیں۔
‏جیسے کہ سمندروں میں بھی دریا یا رو (currents) بہتے ہیں.
‏اور گر بات کی تہہ تک پہنچیں تو معلوم ہوگا کہ خیال کے پودے کے اگتے ہی اس کی تاثیر کے مطابق یا تو اسے مثبت پاکر اس کی نشوونما کرنی چاہئے یا مضر پاکر جڑی بوٹی کی طرح تلف کردینا چاہئے۔
‏ بقول سرکار سید عبداللٰہ شاہ رحمتہ اللٰہ علیہ
‏ پَھڑ نُقطہ ،چھوڑ حساباں نوں
‏کر دُور کُفر دیاں باباں نوں
‏چھڈ دوزخ گور عذاباں نوں
‏ کر صاف دِلے دیاں خواہاں نوں
‏ گل ایسے گھر وچ ڈُھکدی اے

Comments

Popular posts from this blog

جھنڈُو ‏اور ‏سونے ‏کا ‏ ہسّ

‏کہیں انکار کا غم ہے، کہیں اقرار کا غم ہے

غزل 32