حُسین علیہ السلام

 غالباً انسان کا خوبصورت اور جاذب ترین رُوپ اس کا کسی غاصب و جابر کے خلاف باغی کا یا آزادی کے جنجگو کا ہوتا ہے۔

‏وہ Spartacus ہو یا Joan of Arc،
‏William Wallace ہو یا Martin Luther King،
‏سلطان ٹیپو ہو یا بھگت سنگھ ،
‏چی گویرا ہو یا بھنڈرانوالا،
‏نیلسن منڈیلا ہو یا ملا عمر ،
‏ان میں سے ہر ایک آئینے کے چمکدار رخ کی طرح ، تاریخ کے روشن پہلو ہیں۔
‏آخر کیا وجہ ہے کہ حقیقی زندگی ہو یا افسانوی کردار ، بہادر، باغی اور سورما ہمیشہ ہر ایک کے دل میں گھر کرلیتا ہے؟
‏بہت سی وجوہات ہونگی مگر جو میرے دل نے مانی وہ یہ ہے کہ ان سب کے سردار ، امام اور باشاہ ،
‏سیّدی و سیّدُکم، جنابِ حُسین علیہ السلام ہیں جن کا ایک اسم ِ پاک شبّیر (حسِین ترین مرد) بھی ہے۔
‏آپ کے انکار و استقامت کے ہزار پہلو، ہزار وجوہات، ہزار حکمتیں اور ہزار اسباق ہونگے اور ہیں
‏البتہ جو سب سے نمایاں اور ممتاز پہلو ہے وہ یہ کہ بہادر سے بہادر انسان کو ، اس کے پیاروں کے گزند سے خوفزدہ کرکے توڑا جاسکتا ہے۔
‏فسطائی اور جابر حکمران صدیوں سے آج تک یہ ہتھکنڈے استعمال کرتے آئے ہیں ۔
‏لیکن سیدنا حسین علیہ السلام خود ہی اپنی ہر کمزوری اور ہر پیارے کو اپنے ساتھ لے کر نہ صرف میدان میں اترے بلکہ ایک ایک کرکے سب کو قربان کردیا۔

Comments

Popular posts from this blog

جھنڈُو ‏اور ‏سونے ‏کا ‏ ہسّ

‏کہیں انکار کا غم ہے، کہیں اقرار کا غم ہے

غزل 32