‏ماں جائی

 ‏روشن ہے دیِا دل میں تری یادوں سے

جھُلسا ہے جگر میرا جلے خوابوں سے
‏آتی تھی مہک ماں کی ترے آنچل سے
‏رِستا ہے لہو تیرا مرے زخموں سے

Comments

Popular posts from this blog

جھنڈُو ‏اور ‏سونے ‏کا ‏ ہسّ

‏کہیں انکار کا غم ہے، کہیں اقرار کا غم ہے

غزل 32