سنیاسی کا سفُوف :
سنیاسی کا سفُوف :
__________________
نانا جی کا دل اب پاکستان اور اپنے نواسوں میں لگ گیا تھا اور وہ اپنی انتھک محنت، بے کراں محبت اور ازلی ایمانداری کے ساتھ زندگی کے تیسرے اور آخری مرحلے میں داخل ہوچکے تھے۔ کردار کے لحاظ سے میں نے ان کا سوا سیر زندگی بھر اور زمانے بھر میں نہ پایا۔ اور جب پایا تو اپنا دل اس درویش کے قدموں میں رکھ دیا اور ہاتھ اس کے حکم پر کسی اور کو سونپ دئے۔
میرے ابّو (عبداللّٰہ) اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ تقسیمِ ہِند کے وقت وہ شیر خوار بچے تھے۔
خاندان کے پسِ ہجرت کے مسائل اور ذمہ داریاں اُن کو وراثت میں عطا ہوئیں۔
ناناجی، دادا جی اور ان کے ننھیال کے قریب قریب تمام افراد ایک نہائت نیک اور صاحبِ شریعت بزرگ عبدالعزیز عرف باباجی رحمتہ اللّٰہ علیہ کے عقیدت مند اور مرید تھے۔
باباجی کی کوئی اولاد نہ تھی اور وہ عبدالرحیم رائے پوری رحمتہ اللّٰہ علیہ کے مرید تھے۔ دادی جی ان کی دل و جان سے عقیدت مند تھیں اور نہایت نیک اور عبادت گزار خاتون۔ میں نے بہت چھوٹی عمر میں ان کو دیکھا اور ان کے تہجد سے لے کر فجر کے معمول کا مشاہدہ کیا۔ ابو ابھی مشکل سے تیرہ برس کے ہوں گے کہ انہیں باباجی کے مدرسے میں حفظِ قرآن کے لئے بھیج دیا گیا۔ جہاں انہوں نے چند برسوں میں پندرہ سپارے حفظ کئے کہ گھر کے حالات کے پیشِ نظر انہیں باباجی ہی کے ایک مرید کے کپاس بیلنے کے کارخانے میں ملازمت کے لئے چک جھمرہ بھیج دیا گیا۔
باباجی کے مدرسے میں تعلیم کے علاوہ لڑکوں کے ذمے اور بہت سے کام ہوتے تھے۔ ان میں سے ایک کام باورچی خانے کے لئے لکڑیاں اکٹھی کرکے بھی لانا ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ حسبِ معمول مدرسے کے تمام لڑکوں کو ایندھن کے لئے لکڑیاں لانے کو کہا گیا۔ اچانک مدرسے میں کھلبلی مچ گئی۔ شور سُن کر باباجی اپنے حجرے سے باہر تشریف لائے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک لڑکا، جو کہ پچھلے چھ ماہ سے حفظِ قرآن کا طالبِ علم تھا، کندھے پر جڑ سے اُکھڑی درمیانی جسامت کی سالم کیکر اٹھائے چلا آرہا ہے۔ اس کے پیچھے کیکر کا گھسٹتا ہوا بالائی حصہ اور خوف و ہراس سے کانپتے لڑکے چلے آرہے تھے۔
بابا جی نے وہیں سے اسے ڈانٹ کر کیکر کو نیچے رکھنے اور اپنا بوریا بستر باندھنے کا حکم دیا۔ وہ منت سماجت کرتا رہا لیکن بابا جی نے فرمایا کہ پُتر ! اب سب بچوں پر تمہارے جن ہونے کی حقیقت ظاہر ہوچکی ہے اور وہ تمہاری موجودگی میں ہمیشہ خوفزدہ رہیں گے۔ غلطی سراسر تمہاری ہے اس لئے اب تمہارے لئے یہاں کے دروازے ہمیشہ کے لئے بند ہیں۔ یوں وہ جن لڑکا روتا ہوا وہاں سے رخصت ہوگیا۔
چند سال بعد ناناجی کے دُور کے رشتہ داروں میں ایک خاتون کی ذہنی حالت بگڑ گئی اور وہ عجیب و غریب حرکات و سکنات کے ساتھ ساتھ مختلف زبانوں میں بولنے لگی۔ جب طرح طرح کی تشخیصات اور علاج ہونے لگے تو ان خاتون نے خود ہی بھاری مردانہ لہجے میں کہا کہ وہ دراصل ایک جن ہے جو اس خاتون پر قابض ہے۔ سب نے شش و پنج کی حالت میں کسی اللّٰہ والے کو جاکر ماجرا سنایا تو انہوں نے ایک تعویز گلے میں پہننے کو دیا۔ جو پہنا دیا گیا۔
صبح اٹھ کر دیکھا تو تعویز غائب تھا۔ وہ خاتون خود ہی اسی آواز میں کہنے لگیں کہ فلاں گاؤں میں فلاں درخت پر جاکر دیکھو۔ جب جاکر دیکھا گیا تو تعویز اسی درخت کی ایک شاخ پر لٹکا ہوا ملا۔ تعویز کو واپس لاکر پہنایا گیا تو وہ پھر غائب ہوگیا۔ حسبِ روایت عزیز رشتہ دار مریضہ کی تیمارداری کو آنے لگے اور حسبِ معمول ہر آنے والا/والی جنات پر اپنی اپنی “ماہرانہ” رائے بھی پیش فرماتے رہے۔ ایک خاتون کہنے لگیں، جن ایسے نہیں ہوتے۔ میرے مامے کو جن “چنبڑا” تھا تو وہ گھر میں گند (انسانی فُضلہ) کھلار جاتا تھا۔ اگلے دن جب سب گھر والے جاگے تو گھر میں تعفن اور صحن میں انسانی فُضلہ پھیلا ہوا تھا۔
جب گھر والے طرح طرح کے تعویذ اور ٹوٹکے آزما کر نڈھال ہو گئے تو ایک دن مریضہ خاتون جناتی آواز میں کہنے لگیں کہ تم جو مرضی کرلو اور جس کا چاہے تعویذ لے آؤ، میں اسے نہیں چھوڑوں گا۔ مجھ سے چھٹکارا چاہتے ہو تو مولوی عبدالعزیز (باباجی) کو بلاؤ۔
کسی کو فوراً باباجی کے پاس بھیجا گیا۔ انہوں نے ایک رقعہ (مختصر خط) لکھ کر دے دیا کہ خاتون کی آنکھوں کے سامنے کر دینا، ان شاء اللّٰہ ٹھیک ہوجائے گی۔ رقعہ لاکر خاتون کی آنکھوں کے سامنے کردیا گیا۔ تو روتی ہوئی مردانہ آوز میں کہنے لگیں کہ میری خواہش تو یہ تھی کہ اسی بہانے مرشد کا دیدار ہوجاتا لیکن نصیب میں نہ تھا اور خاموشی چھا گئی۔ کسی نے کہا کہ سُنا ہے جن جاتے ہوئے نشانی دے کر جاتے ہیں۔ اسی وقت ان کے مکان کی بیرونی کچی دیوار اچانک دھڑام سے گرگئی۔ اسی روز سے خاتون مکمل صحت یاب ہوگئیں۔
بعد میں کسی نے رقعہ کھول کر دیکھا تو اس پر لکھا تھا،
“تو تم اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے ابھی تک؟ اس خاتون کا پیچھا چھوڑ دو اور دفع ہوجاؤ”۔
ابو لڑکپن میں ہی ملازمت کے لئے چک جھمرہ چلے گئے اور چھوٹے سے اس قصبے کے ایک کارخانے میں کام کرنے اور رہنے لگے۔ وہ جسمانی کسرت اور پہلوانی کے شوقین تھے اور نادانی کی حد تک بہادر۔
میرے دو بڑے بھائی اور آپی (امی) ناناجی اور نانی جی ہی کے پاس رہتے اور سال کا کچھ حصہ ابو کے پاس گزارنے جاتے۔ اور یہ معمول مجھ سمیت تمام بہن بھائیوں کے بچپن کا جزو رہا۔ مجھے ابو کا ہم سے یوں دُور رہنا نہایت گراں گزرتا تھا البتہ اب عمر کے اِس حصے میں، جب میں خود ایک باپ ہوں اور جب نہ نانا جی ہیں نہ نانی جی نہ امی ہیں نہ ابو تو امی کے لئے ابو کی سچی محبت اور نانا نانی کے لئے اپنی اولاد سے دوری کی قربانی کا مکمل ادراک س احساس ہوتا ہے۔
“جدوں عشق دا وَل سانوں آیا، سجّݨ پردیسی ہوگیا”
ساندل بار کا چھوٹا سا قصبہ ، چک جھُمرہ ان دنوں جرائم اور جہالت کی آماجگاہ تھا۔ ابو مدرسے کے تعلیم یافتہ اور شرک و بدعت سے سخت متنفر انسان تھے۔ کارخانے کے اندر آم، جامن اور نیم کے درختوں سے بھرپور ایک خوشنما باغ تھا جس کے وسط میں بیری کا ایک گنجان درخت تھا۔آس پاس کی آبادی کی اکثریت اس درخت کو” بابا بیری والا” کی درگاہ کے طور پر جانتی تھی۔ آئے دن چڑھاوے چڑھتے اور بیری کے درخت کو سجدے ہوتے۔ مِل مالکان ، باباجی کے مرید، مذہبی رجحان رکھنے والے خالص کاروباری لوگ تھے جن کے اور بھی بہت سے کارخانے تھے۔ لیکن نقصِ امن کے خوف اور روایتی سرمایہ دارانہ بزدلی کے ہیشِ نظر، اپنی ذاتی جائداد پر “بابے بیری والے” کا ناجائز قبضہ چھڑانے سے قاصر و بے بس تھے۔ ابّو وہاں گئے تو ان سے چند ماہ بھی برداشت نہ ہوا اور انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، کلہاڑے سے
“بابا بیری “ جڑ سے اکھاڑ پھینکے اور غیر متعلقین کا کارخانے میں داخلہ بند کردیا۔ کچھ دن شور و غُل ہوا پھر امن امان ہوگیا۔
چک جھمرہ چوریوں اور ڈکیتیوں کا گڑھ تھا۔ دادا جی، میرے دونوں بڑے بھائیوں اور امی کو لے کر ابو کے پاس گئے ہوئے تھے ۔ کارخانہ ایک بڑی سڑک کے کنارے تھا۔ جس کے مقابل ہوبہو ویسا ہی ایک اور کارخانہ تھا۔ داخلے کے لئے ایک بڑا آہنی دروازہ تھا۔ داخل ہوتے ہیں دائیں جانب کشادہ سا دفتر اور بائیں جانب ایک بہت بڑا غسل خانہ اور اس سے ملحق تین رہاشی کوارٹرز تھے۔ وسیع و عریض سرخ اینٹوں والا صحن جس کے دوسری جانب کارخانے کی بلند عمارتیں اور بائیں جانب باغ تھا۔ ابو اس وقت تک کارخانے کے کرتا دھرتا ہوچکے تھے اور وہی اس کی دیکھ بھال بھی کرتے۔
رات کو اٹھ کر کارخانے کے ایک دو چکر لگانا ان کا معمول تھا کہ دونوں کارخانوں میں ایک بھی مسلح چوکیدار نہ تھا۔
ایک رات وہ اٹھے تو دفتر میں انہیں کسی کی موجودگی کا شک ہوا۔ کارخانے میں نقدی کم ہی رکھی جاتی جو کہ دفتر میں موجود تجوری میں ہوتی۔ انہوں نے یکدم دروازہ کھولا اور روشنی جلائی تو دو نقاب پوش افراد ہڑبڑا کر بھاگ اٹھے۔ ابو ان کے پیچھے بھاگے۔ ایک بھاگ کر کارخانے کی آٹھ فٹ اونچی چاردیواری پر چڑھ گیا لیکن دوسرے کو ابو نے قابو کر لیا اور گھسیٹ کر گیٹ سے ملحقہ غسل خانے میں لے گئے۔ دوسرا ڈاکو بھاگنے کی بجائے چار دیواری پر اپنی دونالی بندوق تان کر بیٹھ گیا۔ اس نے اپنے ساتھی کو پکارا تو ابو پہچان گئے کہ یہ دونوں علاقے کے بدنام ڈاکو بھائی تھے۔
اب صورتحال یہ تھی کہ دیوار پر بیٹھا بندوق بردار بھائی اس تاک میں تھا کہ ابو کو یوں نشانہ بنایا جائے کہ اس کا بھائی زد میں نہ آئے، بارہ بور بندوق سے ایسا کرنا اس کے بھائی کے لئے خطرناک ہوسکتا تھا کیونکہ اس کے کارتوس میں ان گنت چھرے ہوتے ہیں جو نال سے نکل کر پھیل جاتے ہیں۔ اس کا بھائی ابو کی گرفت سے آزاد ہونے کی تگ و دو میں تھا کہ موقع ملے اور وہ بھاگے اور ابو یہ سب طرح جانتے ہوئے اسے قابو کرکے اپنے قریب رکھے ہوئے تھے کہ اب اس کا بھاگنا ان کی اپنی جان کے لئے خطرہ تھا۔ اسی حالت میں گھنٹا بھر گزر گیا تو دادا جی ابو کو بستر پر نہ پاکر ادھر آنکلے۔ اوپر بیٹھے ڈاکو نے انہیں دیکھتے ہی دو فائر گئے اور دادا جی وہیں گر گئے۔
ابو کو یقین ہوگیا کہ دادا جی دنیا میں نہیں رہے اب وہ ڈاکو کو نہیں چھوڑیں گے اور دوسری بات یہ کہ اگر انہوں نے ڈاکو کو ذرا بھی ڈھیل دی تو ان کی اپنی جان جانا بھی یقینی تھا۔ ساتھ ہی انہیں یہ فکر بھی لاحق تھی کہ خدانخواستہ ان کا کوئی بچہ اٹھ کر ادھر نہ آجائے۔لہذا، طیش، غم اور پریشانی کے ملے جلے جذبات میں انہوں نے ڈاکو کو مزید سختی سے قابو کرلیا۔ اسی دھینگا مُشتی اور کشمکش میں تین چار گھنٹے گزر گئے۔ اوپر والا ڈاکو بندوق تانے تانے تھک گیا، نیچے ابو اور دوسرا ڈاکو گتھم گتھا ہوئے نڈھال ہو گئے۔
اسی دوان ایک لمحے کے لئے ابو کی گرفت ڈھیلی ہوئی تو ڈاکو اپنا آپ چھڑا کر بھاگا، اوپر سے اس کے بھائی نے ہاتھ پکڑ سہارا دیا اور دونوں رات کی تاریکی میں غائب ہو گئے۔
ابو نے فوراً آکر دادا جی کو دیکھا جو خون کے تالاب میں بے حس و حرکت پڑے تھے۔ ان کی دائیں ٹانگ کی پنڈلی اور پیر میں قریب قریب ایک ہی جگہ بارہ بور کے دو کارتوس لگے تھے۔ ٹانگ کے پرخچے اڑے ہوئے تھے لیکن خوش قسمتی سے وہ ابھی زندہ تھے۔ انہیں فوراً قریبی ہسپتال لے جایا گیا۔
کچھ دن بعد ابو کی نشاندہی پر دونوں ڈاکو جلد گرفتار ہوکر جیل چلے گئے۔
دادا جی کے زخم بتدریج مندمل ہو گئے البتہ کارتوس کے متعدد چھرے اُن کی ٹانگ میں پیوست رہے۔ہاتھ پھیرنے پر وہ چھرے مونگ کی دال کے دانوں کی طرح ان کی ٹانگ میں محسوس ہوا کرتے تھے۔
بھٹو صاحب کی مہربانی سے جب تمام کارخانے قومیائے گئے تو زندگی میں پہلی مرتبہ ابو جی بے روزگار ہوئے اور کچھ عرصہ اپنے والدین، بہن بھائیوں اور بیوی بچوں کے ساتھ اپنے گھر میں وقت گزارا۔
البتہ یہ سب واقعات میری پیدائش سے پہلے کے ہیں۔
مجھے جو واقعہ یاد ہے وہ یہ کہ گاؤں کے قریب، متعدد قدیمی درباروں میں سے کھترانوں کی بستی میں ایک دربار پر سالانہ میلے میں ڈوگروں اور کھترانوں کے درمیان کبڈی کا میچ تھا۔ دیہی علاقوں کے رواج کے عین مطابق شکست کے قریب والی ٹیم کے ارکان نے عمداً لڑائی چھیڑ دی۔
ابو مہمان کے طور پر میچ دیکھنے والوں میں سے تھے۔ ٹیم ڈوگراں تو ساری ایک دو لاٹھیاں کھانے کے بعد تتر بتر ہوگئی البتہ ابو کو ڈوگر ٹیم کا نمائندہ گردانتے ہوئے لاٹھی بردار کھترانوں نے گھیر لیا یوں پرائی لڑائی میں دانا عبداللّٰہ وہیں ڈٹ گئے۔ مجھے اب تک ان کے سر پر لگی لاٹھیوں کے زخم یاد ہیں۔ جن کو باقاعدگی کے ساتھ صاف کیا جاتا اور پٹی بدلی جاتی۔
ان دنوں دیسی دوائیوں کا استعمال عام تھا۔
نانا جی کے گھر کے پاس سال میں ایک مرتبہ خانہ بدوش آکر اپنا ڈیرا ڈالتے۔ ان سے ہم سب کی خوب جان پہچان ہوچکی تھی۔ اتفاق سے ان دنوں خانہ بدوش وہیں تھے۔ ان کے سردار کے پاس ، جس کا تین گز قد، بڑی بڑی نہایت گھنی دو مونچھیں اور لمبے، پیٹھ کے متوازی دو سینگوں والا ایک مینڈھا تھا۔ جس (مینڈھے نہ کہ مونچھ) سے وہ چھوٹے موٹے کرتب دکھا کر گزر اوقات کے لئے کچھ نقدی اور غذائی اجناس اکٹھی کرلیا کرتا تھا۔ اس کی بیٹی ، جو امی کی سہیلی بھی تھی ، نے امی کو ایک چھوٹی سی پڑیا میں سفوف دیا جسے سرسوں کے تیل میں ملا کر ابو کے زخموں پر لگایا گیا ۔ چند دن میں ہی ابو کے سر کے زخم بالکل ٹھیک ہو گئے۔
یہ دیکھ کر نانا جی کو اپنے لڑکپن کا ایک سنیاسی یاد آگیا۔
نانا جی کی دُور کی ایک خالہ تھیں جن کا ایک ہی بیٹا تھا جو عمر میں نانا جی سے کئی برس بڑا اور ان کا گہرا دوست تھا۔ اس کی شادی کو دس برس ہوچکے تھے لیکن کوئی اولاد نہ تھی۔ بیوہ خالہ کو اپنے اکلوتے بچے کی بے اولادی کھائے جارہی تھی۔ خالہ کو اپنے بیٹے اور ان کے بیٹے کو اپنی بیوی سے والہانہ محبت تھی اس لئے انہوں نے دوسری شادی کا سوچے بغیر ہر ممکن حکیم، درگاہ، پیر اور فقیر سے دوا لی اور دعا کروائی مگر من کی مراد نہ بر آئی۔
ایک دن وہ تینوں حکیم عظمت اللّٰہ کے ہاں سے مایوس لوٹ کر ناناجی کے پاس کُھوہ پر افسردہ بیٹھے تھے کہ دو سنیاسی وہاں آنکلے۔ دیکھنے میں ایک گُرو اور دوسرا اس کا چیلا معلوم ہوتے تھے۔
سب نے چونک کر اُن کی طرف دیکھا اس لئے کہ سپیرے ، مداری اور جوگی تو روزانہ وہاں سے گزرتے تھے لیکن کسی سنیاسی کو دیکھنا ایسے ہی تھا جیسے پروں والا گھوڑا دیکھ لینا۔
عمر رسیدہ گُرو زعفرانی رنگ کی چادر میں لپٹا ہوا تھا جو دنیاوی آسائشوں سے مکمل دستبرداری کی علامت تھا اور جس میں سے گُرو کا کا کُندن جسم جھلک رہا تھا۔ اس کے بال منڈے ہوئے، چہرے پر باطنی سکون کی جوت اور ہاتھ میں لکڑی کا عصا اور کمنڈل، جو اس کی تنہائی اور روحانی تلاش کی نشانی تھا۔ سنیاسی کی کالی سیاہ آنکھوں میں سمندر سے گہرے بھید بھرے تھے۔
اس کے پیچھے پیچھے اسی کے لباس میں نسبتاً نوعمر سنیاسی نظریں جھکائے ادب سے چلتا ہوا آرہا تھا۔
دونوں نے آکر نمسکار کے انداز میں ہاتھ جوڑ کر سلام کیا اور سب کے پاس زمین پر بیٹھ گئے۔ نانا جی نے فوراً دونوں کو فرداً فرداً لسی کے پیالے پیش کئے۔ اور کھانے کو رُکنے کے لئے کہا۔
گُرو سنسیاسی نے دعایا کلمات کہتے ہوئے دعوت قبول فرمائی اور پھر غور سے خالہ کی بہو کی جانب دیکھا جو کُھوہ پر نصب تندور سے روٹیاں پکا کر اسی جانب آرہی تھی۔ کھانے کھا چُکنے کے بعد گُرو جی نے بہو کو مخاطب کرکے کہا کہ لگتا اس بیٹی کا کوئی بچہ نہیں ہے۔
یہ سُننا تھا کہ خالہ کا سارا ضبط ٹوٹ گیا اور اُس نے آنسوؤں اور ہچکیوں کی آمیزش سے تمام بپتا کہہ سُنائی۔
گرُو جی نے روایتی ہمدردی کے الفاظ میں وقت ضائع کئے بغیر بہو کو حکم دیا کہ وہ وہاں سے اکتالیس قدم گِن کر جائے اور پھر واپس آئے۔
اس دوران گرُو جی غور سے اسے دیکھتے رہے پھر انہوں نے بہو سے کہا کہ ٹھیک ہے بیٹی اب تم جاؤ اور رسوئی کا کام نپٹاؤ اور اس کے شوہر کو حکم دیا کہ دو سیر دیسی کھانڈ لے کر آئے۔ وہ بھاگم بھاگ نانا جی کے گھر سے چینی لے آئے۔ گرُو جی نے ایک پرات منگوا کر کھانڈ اس میں ڈالی اور اپنی گودڑی سے ایک چھوٹی سی چاندی کی ڈبیا نکالی۔ اس کو کھول کر ٹیڑھا کیا اور شہادت کی انگلی کی ہلکی سی ٹھوکروں سے ڈبیہ میں موجود سفیدی مائل سفوف چٹکی بھر مقدار میں اس کھانڈ کے اوپر گرا دیا۔ پھر لکڑی کا چمچہ منگوا کر کھانڈ کو الٹنا پُلٹنا شروع کردیا جیسے کہ سفوف کو اس میں اچھی طرح ملا رہے ہوں۔ دیکھتے دیکھتے چینی نے کئی رنگ بدلنے شروع کردئے۔ گرُو جی نہائت اطمینان، آہستگی ، انہماک اور نرمی سے چمچہ ہلاتے رہے اور کھانڈ رنگ بدلتی رہی۔ کوئی آدھ گھنٹہ بعد کھانڈ میں سے سب رنگ غائب ہو گئے اور وہ دوبارہ اپنی اصلی رنگت میں آگئی۔ تب گرُو جی نے دم بخود خالہ سے کہا کہ اس کھانڈ کو اکتالیس ہم وزن حصوں میں نقسیم کرکے ان حصوں کو کاغذ میں پڑیا کی طرح الگ الگ کرکے ، چینی کے خشک مرتبان میں محفوظ کرلینا اور بہو کی ماہواری کے اختتام پر روزانہ صبح نہار منہ تازہ مکھن کی چمچ بھر مقدار میں ملا کر چٹا دینا۔ اس دوران دونوں میاں بیوی کو علیحدہ رہنا ہوگا۔
اکتالیس دن کے بعد وہ اکٹھے ہوں۔ اِیشور کی کرپا ہوگی۔
یہ کہہ کر گرُو جی نے اپنے شاگرد کی جانب دیکھا جو فوراْ اٹھ کھڑا ہوا اور وہ دونوں روانہ ہوگئے۔
خالہ وہاں سے تب ہلیں جب تمام کھانڈ اکتالیس ہم وزن پُڑیوں کی شکل میں مرتبان میں محفوظ ہوچکی تھی۔
اس کے بعد خالہ، کا بیٹا اور بہو اپنے گھر روانہ ہو گئے۔
اس سارے عمل کے دوران نانا جی کو صرف اور صرف ایک ہی خیال ستاتا رہا کہ انہوں نے گرُو جی کو پہلے بھی کہیں دیکھا ہے۔ جب سارے مہمان چلے گئے اور نانا جی اکیلے رہ گئے تو اچانک انہیں سب یاد آگیا۔
قریباً دس بارہ برس قبل وہ اپنے ماموں سے ملنے گورداسپور کے نواح میں واقع ان کے گاؤں گئے ہوئے تھے۔ ان کی ممانی پچھلے کئی سال سے دمہ، ٹی بی یا اسی قسم کی کسی پھیپھڑوں کی بیماری میں ُمبتلا تھیں اور دن رات کھانستی اور بلغم تھوکتی تھیں۔ وہ خود بھی عاجز آچکی تھیں اور ان کے تمام متعلقین بھی۔
نانا جی ماموں کے گھر پہلی ہی رات ، کچھ شور اور کچھ ممانی کی بیماری کے باعث سو نہ پائے اور کروٹیں بدلتے رہے۔ صبح اٹھتے ہی نانا جی واپسی کا سوچ ہی رہے تھے کہ انہیں دستک سنائی دی۔
انہوں نے دروازہ کھولا تو سامنے نارنجی کپڑے پہنے ایک سادُھو نظر آیا جو آٹے کے لئے کشکول آگے کئے ہوئے تھا۔
ناناجی نے ممانی کو بتایا تو انہوں نے کھانستے کھانستے آٹے کا ایک دورا انہیں تھما دیا۔ نانا جی نے وہ دورا سادُھو کے کشکول میں اور سادُھو نے کشکول اپنے کندھے پر جھُولتے جھولے میں الٹ دیا اور پوچھا کہ یہ کھانسنے والی کون ہے؟
نانا جی نے کہا میری ممانی ہے اور بیمار ہے۔ سادُھو نے جھولے کی ایک طرف ہاتھ ڈالا اور کاغذ کی تین پُڑیاں نکالیں۔ انہیں نانا جی کی مُٹھی میں بند کرتے ہوئے رازدارانہ کہنے لگا کہ یہ تینوں پُڑیاں تین تین مہینے کے وقفے سے ممانی کو کھلا دینا۔
ایک ابھی اسی وقت، ایک تین مہینے بعد اور ایک چھ مہینے بعد۔ دوائی کھانے کے چوبیس گھنٹے بعد تک پانی کی بجائے ممانی کو صرف مُرغ کی کالی مرچ ڈال کر پلانی ہے، پانی ہرگز نہیں پلانا۔ اور ان کی چارپائی باقی سب سے دور ہونی چاہئے جہاں حوائجِ ضروریہ کے لئے گہرا گڑھا کھود دینا اور چوبیس گھنٹے بعد اسے مٹی ڈال کر بند کردینا۔ نانا جی نے اس کی وجہ پوچھی تو سادُھو نے سنی ان سنی کرکے نانا جی کو کہا کہ ابھی ممانی کو ایک پُڑیا دے کر آؤ میرے یہیں ہوتے ہوئے۔
نانا جی نے ممانی کو پُڑیا کھانے کو دی ساتھ چھوٹی سی پیالی میں تھوڑا سا پانی دیا۔ جیسے ہی ممانی نے پُڑیا نگلی ان کو زور کی کھانسی آئی اور کھانستے کھانستے بے حال ہوگئیں۔ ماموں نے دیکھا تو دوڑے آئے اور پوچھا کہ کیا ہوا۔ نانا جی نے سادُھو کی طرف اشارہ کیا تو وہ فوراً وہاں سے کھسک گیا۔ ماموں نانا جی کو گالیاں دینے اور برا بھلا کہنے لگے کہ میری گھر والی کو زہر دے دی۔
اُدھر کھانستے کھانستے ، ممانی کا جسم یوں ہچکولے کھانے لگا جیسے ان کے گلے میں کوئی شے اٹک گئی ہو۔ سب رونے پیٹنے اور واویلا کرنے لگے۔
اسی دوران نانا جی کو جانے کیا سوجھی کے وہ گھر کے آخری کونے کے قریب ایک چارپائی رکھ کر وہاں گڑھا کھودنے لگے۔
جب وہ ممانی کے پاس پہنچے تو کوئی انہیں پانی پلانے کی کوشش کررہا تھا۔ نانا جی نے فوراً ہاتھ کی ٹھوکر سے پانی گرا دیا تو ماموں کو یقین ہوگیا کہ نانا جی نجانے کب سے ممانی کو جان سے مارنا چاہتے تھے۔ اُدھر وہ نانا جی پر لاٹھی لے کر برسے ، اِدھر ممانی نے ہاتھ بھر لمبا بلغم کا ایک ٹھوس ٹکڑا قے کردیا، جس پر انگور کے دانوں کی طرح چھوٹے چھوٹے مزید بلغمی گُچھے تھے۔ سب کی آنکھیں حیرت سے اُبل پڑیں۔ اسی وقت ناقابلِ برداشت تعفن کا ایک طوفان سا اُمڈ آیا۔ باقی سب تو ناک لپیٹے وہاں سے بھاگ اُٹھے لیکن نانا جی اور ماموں نے کپڑے سے اپنے منہ لپیٹے اور ممانی کو اٹھا کر گھر کے گوشۂِ بعید میں بچھی چارپائی پر ڈال آئے۔ جہاں کھُدے ہوئے گڑھے میں ممانی ، شب بھر استفراغ و اسهال میں مشغول رہیں اور پانی پانی پکارتی رہیں۔ نانا جی اتنی دیر تک گھر میں پلے ایک مرغ کو ذبح کرکے یخنی تیار کر چکے تھے۔ جب بھی ممانی پانی مانگتیں، نانا جی فوراً ناک منہ ڈھانپ کر یخنی کی پیالی لے کر پہنچ جاتے جو ممانی کھانسی، گالیوں اور کوسنوں کی پوچھاڑ نچھاور کرتے ہوئے پی جاتیں۔ ماموں بھی اب دبکے پڑے تھے اور منہ ہی منہ میں ممانی کے بچ جانے کی دعائیں کررہے تھے۔
خدا خدا کرکے آٹھ پہر کے بعد ممانی کے سرفه، استفراغ و اسهال مکمل تھم چُکے تھے۔ نانا جی نے غلاظت سے بھرا گڑھا پاٹ دیا اور ہنستی مسکراتی، سُرخ چمکتے چہرے والی ممانی کو یخنی کا آخری پیالہ پلایا، سادُھو کی دی ہوئی باقی پُڑیاں ماموں ، جن کی باچھیں گھر والی کے پھر سے جوان ہونے پر کھِلی ہوئیں تھیں ، کے حوالے کیں اور واپسی کی راہ لی۔
آج نانا جی سمجھ گئے کہ یہ گرُو جی پندرہ برس پہلے والے سادُھو ہی تھے۔
اُدھر گھر جاکر خالہ نے خود مناسب وقت آنے پر بہو کو اپنے ہاتھوں دوائی شروع کروائی۔ اس دوران وہ بہو کے پہلو میں سوتیں اور بڑی سی ڈانگ ساتھ رکھتیں۔
اکتالیس دن بعد انہوں نے بہو کو دوبارہ دلہن بنایا اور سرِ شام بہو بیٹے کو اکیلا چھوڑ کر خود پڑوس کے گاؤں میں اپنی بہن کے گھر مہمان چلی گئیں۔
اللّٰہ نے ، یکے بعد دیگرے، خالہ کو چار پوتے اور ایک پوتی عطا کی۔
_________________________
ختم شُد
Comments
Post a Comment