لایا ہوں انبار گناہ کے نیچ خطا کا پُتلا ہُوں

 لایا ہوں انبار گناہ کے نیچ خطا کا پُتلا ہُوں

تیری رحمت لامتناہی مولا  تیرا بندہ ہُوں


لکھتے لکھتے  لکھ جاؤں گا شعر ہزاروں رنگوں کے

مِٹتے مِٹتے مِٹ جاؤں گا چونکہ مِٹی گارا ہُوں


ہونٹوں پر ہے چُپ کا تالا جِیب لگی ہے تالُو سے

من کے اندر شور مچا ہے گو کہنے کو گونگا ہُوں


ساقی کا محتاج نہیں ہوں، چشمِ غیر سے کیا پینا

تنہائی میں محفل ہوں اور خود  اپنا  مے خانہ ہوں


اُن کے دل میں گھور اندھیرا اور مقدر دوزخ ہے

آقاﷺ  کے گُستاخوں سے میں دل سے نفرت کرتا ہُوں


تن ہے میرا ڈھلتا سایہ عین عصر پر آیا ہے

من کا سورج ہر دم جوبن  بالک اور نہ بوڑھا ہُوں


محنت کش مزدور پیارے میرے اپنے چہرے ہیں 

 سارے پیشے میرے اندر میں دہقان قبیلہ ہُوں 

21 جولائی 2022

Comments

Popular posts from this blog

جھنڈُو ‏اور ‏سونے ‏کا ‏ ہسّ

‏کہیں انکار کا غم ہے، کہیں اقرار کا غم ہے

غزل 32