اقبالِ بے مثال سے ایک ملاقات:
پڑھا ساقی نامہ جو اقبال کا
تو باطن کے قلزم میں طوفاں اُٹھا
تصور پہ ہر دم تصَرُف ہُوا
شب و روز پرتوِ اقبال کا
کہا دل نے ملتے ہیں اقبال سے
عطا کوئی قطرہ ہو احوال سے
حِصانِ تخیل، کہ ہیں جس کے پر
ہُوا جانبِ گردُوں محوِ سفر
اُڑا اسپِ عرفاں برنگِ براق
زمیں کی کشش سے کیا افتراق
اسی عالمِ شوق و وجدان میں
مَیں پہنچا عدن کے گُلستان میں
گیا اور اقبال سے جا مِلا
گیا اور جا کر قدم چُھو لیا
وہ اقبال جو ہے ہُوا بے مثال
وہ اقبال جو ہے سدا لا زوال
وہ اقبال جو ہے ابھی بھی بلند
ہے بامِ ثریا پہ جس کی کمند
وہ اقبال جس سے ہے بے گانہ قوم
مگر پھر بھی اس کی ہے پروانہ قوم
وہ اقبال محفُوظ اوراق میں
کہ جیسے ہو محبُوس اوراق میں
گیا کاش ہوتا دِلوں میں اُتر
تو ہم آج ہوتے نئی اوج پر
ہُوا مل کے خوش وہ حکیمِ اُمم
تبسم میں لیکن تھی تاثیرِ غم
ہوا روبرُو مَیں جو بعد از سلام
کہا مَیں نے اونچا ہے تیرا مقام
ہیں شرق و غرب اُن کے زیرِ اثر
کہ افکار و اشعار تابندہ تر
تھا دنیا میں دل تیرا خلوت زدہ
مگر کیوں یہ جنت میں بھی نہ لگا؟
کہا پیرِ ہندی نے ، سچ ہے پسر
کُڑھے میرا دل اور تڑپے جگر
وجہ اِس کی تُجھ کو بھی معلوم ہے
جو صبرو سکُوں میرا معدوم ہے
تُو بھی تو ہے اک شاعرِ درد مند
بتا! کس طرح مَیں کرُوں آنکھ بند؟
گراں خواب چینی سنبھلتے گئے
ہمالہ کے چشمے اُبلتے گئے
مسلماں ابھی تک ہے خوابیدہ تر
کہ دل جس کا مُردہ، نَے بینا نظر
خضر کی زباں سے بتایا بھی تھا
یہ نُکتہ سبھی کو سکھایا بھی تھا
نسل سے مقدم ہے دِینِ مُبین
ہے وحدت ہی اس کی بقا کی امین
پہ تقسیم کی ہے علامت بنا
مسلمان ٹُکڑوں میں بکھرا ہُوا
یمن ہو ، مصر ہو ، عجم ہو کہ شام
شکستہ ہوئے جیسے شیشے کا جام
فلسطین ہے یا کہ کشمیر ہے
مقدر میں کیا ان کے زنجیر ہے؟
عرب کے امیروں کو دیکھے اگر
تو نمرود منہ پھیر لے جھِینپ کر
چکوروں سے بُزدل عجم اور عرب
مواشی سے اسفل خلیفۂِ رب
یہیں دورِ سرمایہ داری یہیں
تماشا یہیں اور مداری یہیں
حکومت رہی اور نہ حُرمت رہی
جو ہوتی تھی، اب وہ نہ اُمت رہی
رسالت کی توہین ہوتی رہی
کہ غیرت مگر پھر بھی سوتی رہی
“بُجھی عشق کی آگ اندھیر ہے
مسلماں نہیں، راکھ کا ڈھیر ہے”
جو تلوار توڑی قلم چھوڑ دی
تو ذِلت نے اِس کی کمر توڑ دی
مُحقق رہے نہ مجاہد رہے
“زمانے کے انداز بدلے گئے”
سُنی اُس سے جب داستانِ گُداز
جو ہے بُلبُلِ گلستانِ حجاز
تو سُن کر مَیں رویا کچھ اِس طور سے
کہ موتی بنے جو بھی آنسو گرے
کہ سَچّا جہاں جو بھی آنسو گِرا
وہ جنت میں سُچّا گُہر بن گیا
اُنہی موتیوں کو مَیں لایا یہاں
یہ اشعار میرے ہیں میری فُغاں
کہا میں نے اے شاعرِ بے مثال
سناؤں تجھے کیا کہ خستہ ہے حال
زمانہ نیا ہے تو خطرے نئے
صراحی سے ٹپکے ہیں قطرے نئے
ترا دَور گو تیرے شایاں نہ تھا
مگر تُجھ کو پلکوں پر اُس نے رکھا
جو علم و ادب کے قدر دان تھے
میسر تجھے ایسے انسان تھے
کہ علم و ادب اب کہانی ہوئی
جہالت کی گرد آج سر پر چڑھی
جھجک ہی رہی اور نہ پردہ رہا
کہ گھر گھر میں ابلیس آکر گھسا
جو بچّوں سے بچپن، جوانوں سے شرم
گیا چھین کر ساری آنکھوں سے شرم
ہے خلوت نہایت خطر ناک اب
لگی اس میں خنّاس کی یوں نقب
نہیں اب مراتب کی کوئی بھی قید
رہی نا مناقب کی کوئی بھی قید
ہے شرم و حیا آج خامی بنی
ہے صدق و صفا آج خامی بنی
کمینوں کا دنیا پہ اب راج ہے
کہ مجرم کے سر پر دھرا تاج ہے
عجب دورِ ابہام و انکار اب
جو غائب ہے رحمت تو حاضر غضب
یوں مشرق نے غربی قبا اوڑھ لی
کہ پہنائی جو بھی وبا ، اوڑھ لی
قناعت کا اب دور دورہ گیا
ہوس اور لالچ کا چرچا ہُوا
تمنا ہے سِینوں میں دم توڑتی
خودی سِیم و زر میں مقید ہوئی
وہ پیرِ کنیسا کے پنجے میں ہے
حرم اب کلیسا کے پنجے میں ہے
وہ مشرک ہُنُود اور مُوَحِّد یہُود
ہیں بُغضِ مسلمان میں یک وجُود
مُسلماں کے دشمن ہیں شِیر و شکر
مسلمان اپنے ہی دشمن مگر
خفی و جلی و مبیں منکرین
مسلم سے نفرت سبھی کا ہے دِین
مسلم ہے کوتاہِ عقل و نظر
ہے اپنے ہی انجام سے بے خبر
لہو سرد امت کے مَردوں کا ہے
یہی درد سردار دردوں کا ہے
ذرا سا جو سر کو اٹھا کر چلا
تو سارا جہاں اس کا دشمن ہُوا
سُنا یہ تو بولا وہ مردِ کمال
قیامت کے رستے میں حائل ہے ڈھال
فقط ایک تنہا مُسلمان کی
ہے لَو جس کے سِینے میں ایمان کی
ابھی تو ہزاروں ہیں روشن چراغ
جبینوں پہ جن کی ہے سجدوں کا داغ
وہ دھبہ جو تاروں سے تابندہ تر
وہ نقطہ جو ہے عشق کی اک مُہر
کہ اِنَّ عِبَادِی کے وارث ہیں وہ
کہ عمر و علی ہی کے وارث ہیں وہ
ہے سینوں میں طوفانِ حُبِّ حبیب
کہ آنکھوں میں روشن ہے عشقِ مُجیب
زمان و مکاں جن کے رستے کی خاک
امیدِ سحر سے ہے شب تاب ناک
گو تعداد میں وہ رہے ہیں قلیل
ملائک کی محفل میں فخرِ جلیل
اُنہی سے ہے روشن جبینِ فلک
اُنہی میں فروزاں حجازی جھلک
کہ جن کے مقابل ہے دجلِ جدید
کھڑے ہیں مگر بن کے زُبَرَ الۡحَدِيۡد
ہیں ابلیس کے ہر مکر کا وہ توڑ
وہ اللّٰہ کی تدبیر کا ہیں نچوڑ
ابابِیل کعبۂِ اسلام کے
ہیں سجِّیل ہاتھوں میں لے کر کھڑے
وہ حاضر کے کربل میں مثلِ حَُسین
وہ باطل سے دنگل میں مِثلِ حُسَین
گھِرے ہیں وہ گِردابِ آفات میں
مگر مستقیم ایسے حالات میں
وہ ظاہر میں فقرِ ابوذر لئے
تو باطن میں فخرِ ابوذر لئے
کہ باطن کی دنیا ہے ظاہر سے دُور
ہے ظاہر میں بس کر بھی اس سے نفُور
ہے باطن کا دن اور، رات اور ہے
کہ باطن کی دنیا کی بات اور ہے
گو ظاہر کی نظروں میں غمگین تُو
مگر من کی دنیا میں شاہین تُو
تُو ظاہر میں عاجز ہے باطن میں شاہ
تُو ظاہر میں اشک اور باطن میں واہ
کہ باطن کی محفل کے رنگ اور ہیں
کہ باطن کی منزل کے ڈھنگ اور ہیں
وہاں سے گزرتا نہیں ہے ملال
یہاں جو ہے ماضی وہاں کا ہے حال
وہاں پر فراق و وصال ، ایک ہیں
وہاں پر جلال و جمال ، ایک ہیں
سلیمان و حسّان و سعدی، وہاں
کہ خسرو ہیں رومی ہیں جامی وہاں
ہیں در سارے باطن کے غیروں پہ بند
کہ باطن میں بستے ہیں سب دل پسند
ہے باطن میں فردوس باطن میں عرش
ہے ظاہر کا آفاق باطن کا فرش
ہے ظاہر کا تاراج باطن کا راج
تھا ظاہر میں کل اور باطن میں آج
جو ظاہر ہے حادث تو باطن قدیم
عدو جو ہے ظاہر تو باطن ندیم
ہے باطن میں خوشبوئے نورِ قدیم
کہ باطن میں روشن ہے طُورِ قدیم
ہیں باطن میں حد و بے حد آشکار
ہیں باطن میں عبد و صمد آشکار
کہ باطن کے سالار حسنین ہیں
کہ باطن میں سردار حسنین ہیں
ہے باطن اُسی فرد پر آشکار
حبیبِ ازل پر ہوا جو نثار
خرد پر ہو باطن کا پہرہ اگر
تو انسان بنتا ہے چیزِ دگر
اگر ایسے افراد سالار ہوں
بھنور سے سفینے سبھی پار ہوں
ہے باطن کی اقلیم کا شاہ عشق
ہے آدم کی تقویم کی راہ عشق
Comments
Post a Comment